امریکی تاریخ کے سخت ترین صدارتی انتخابات

آخری وقت اشاعت:  منگل 6 نومبر 2012 ,‭ 23:15 GMT 04:15 PST

سنہ دو ہزار بارہ کے امریکی انتخابات کو ایک سخت مقابلے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

امریکی صدارتی انتخابات میں صدارتی امیدوار کو پاپولر ووٹ حاصل نہیں کرنے ہوتے بلکہ 538 الیکٹورل کالج ووٹس میں سے 270 ووٹ حاصل کرنے ہوتے ہیں۔

لیکن ان انتخابات سے پہلے بھی امریکی صدارتی انتخابات ہوئے ہیں جن میں بہت سخت مقابلہ ہوا تھا۔ وہ انتخابات مندرجہ ذیل ہیں۔

1916: ووڈرو ولسن بمقابلہ چارلس ہیوز

یورپ میں جنگ عظیم اول جاری تھی اور امریکہ میں صدارتی انتخابات ہو رہے تھے۔ ڈیموکریٹک جماعت کے صدر ووڈرو ولسن کا انتخابی نعرہ تھا ’انہوں نے ہمیں جنگ سے بچایا‘۔ ولسن کا یہ عزم کہ اس جنگ میں امریکہ غیر جانبدار رہے گا امریکیوں میں بہت مقبول ہوا۔

ولسن کا مقابلہ ریپبلکن جماعت کے امیدوار سپریم کورٹ کے جسٹس چارلس ہیوز کے ساتھ تھا۔ ولسن نے یہ مقابلہ ایک سخت مقابلے کے بعد جیتا۔

اس مقابلے میں ہار جیت کا فیصلہ کرنے والی ریاست کیلیفورنیا تھی۔ چارلس ہیوز نے ایک بہت بڑی غلطی کی کہ انہوں نے اثر و رسوخ والے ریاست کے گورنر سے ملاقات نہیں کی۔ اور اسی غلطی کے باعث ان کو ان انتخابات میں شکست ہوئی۔

ولسن دوسری بار صدر منتخب ہوئے۔ انہوں نے 49.2 فیصد پاپولر ووٹ حاصل کیے اور 277 الیکٹورل کالج ووٹس۔

1960: جان ایف کینیڈی بمقابلہ رچرڈ نکسن

امریکی صدارتی انتخابات کی تاریخ میں ریپبلکن جماعت کے رچرڈ نکسن اور ڈیموکریٹ جماعت کے امیدوار جان ایف کینیڈی کے درمیان مقابلہ سخت ترین تھا۔

نکسن جو کہ ریٹائر ہونے والے صدر آئزن ہاور کے نائب صدر تھے نے تمام پچاس ریاستوں میں انتخابی مہم چلائی۔

ان انتخابات میں بیس ریاستوں میں مقابلہ بہت سخت تھا اور ان ریاستوں میں دونوں امیدواروں کے درمیان فرق محض پانچ فیصد کا تھا۔

کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس مقابلے میں اہم موڑ دونوں امیدواروں کے درمیان ہونے والا پہلا مباحثہ تھا۔ اس مباحثے میں کینیڈی نہایت پراعتماد دکھائی دیے اور نکسن کو ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے دکھایا گیا۔

کینیڈی نے 49.7 فیصد ووٹ حاصل کرکے انتخابات جیتے جبکہ نکسن کو 49.6 فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔ اس الیکشن میں چھ کروڑ اسّی لاکھ ووٹ ڈالے گئے جبکہ دونوں امیدواروں میں صرف ایک لاکھ تیرہ ہزار پاپولر ووٹ کا فرق تھا۔ لیکن الیکٹورل کالج ووٹس میں دونوں کے درمیان فرق زیادہ تھا۔ کینیڈی نے 303 الیکٹورل کالج ووٹس حاصل کیے جبکہ نکسن نے 219۔

1976: جمی کارٹر بمقابلہ جیرلڈ فورڈ

ریپبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے نائب صدر جیرلڈ فورڈ نے واٹر گیٹ سکینڈل کے باعث صدر نکسن کے مستعفی ہونے کے بعد صدر کا عہدہ سنبھالا۔ ان کا نکسن کو اس سکینڈل میں معافی دینے کا فیصلہ امریکیوں میں غیر مقبول تھا۔

ان کے مقابلے میں سابق سینیٹر اور ریاست جارجیا کے گورنر جمر کارٹر تھے۔ وہ قومی سطح پر اتنے غیر معروف تھے کہ انہوں نے اپنا تعارف کچھ اس طرح کروایا ’ہیلو میرا نام جمی کارٹر ہے اور میں صدارتی امیدوار ہوں۔‘

جمی کارٹر سابق ایٹمی انجینیئر اور کسان تھے۔ وہ واشنگٹن کی سیاست سے دور تھے اور ایسے وقت میں یہ ان کے لیے ایک فائدہ مند ثابت ہوئی جب عوام کا سیاست دانوں پر اعتماد بہت ہی کم تھا۔

یہ دونوں امیدوار ٹی وی کے مباحثے کے لیے تیار ہوئے۔ یہ مباحثہ 1960 کے انتخابات کے بعد سے پہلا مباحثہ تھا۔ ان دونوں کے درمیان دوسرے مباحثے میں فورڈ نے کہا کہ سوویت یونین کو مشرقی یورپ میں برتری حاصل نہیں ہے۔ اس بیان سے ووٹرز کو احساس ہوا کہ فورڈ کی بین الاقوامی امور پر گرفت کمزور ہے۔

کارٹر کو 50.1 فیصد جبکہ فورڈ کو 48 فیصد پاپولر ووٹ ملے جبکہ کارٹر کو 297 الیکٹورل کالج ووٹس ملے جبکہ فورڈ کو 240۔

2000: جارج ڈبلیو بش بمقابلہ ایل گور

اس الیکشن کا شمار سخت ترین اور متنازع انتخابات میں ہوتا ہے۔ اس میں نائب صدر ایل گور کا مقابلہ ریپبلکن جماعت کے امیدوار ٹیکساس کے گورنر اور سابق صدر جار بش سینیئر کے بیٹے جارج بش سے تھا۔

گور نے کل 48.38 ووٹ حاصل کیے جبکہ بش نے 47.87 ووٹ۔ لیکن سپریم کورٹ نے دوبارہ گنتی روکنے کا حکم دیا اور اس طرح بش فلوریڈا ریاست میں ساٹھ لاکھ ووٹوں میں محض 537 ووٹوں سے جیتے اور اس کے ساتھ صدارتی انتخابات بھی جیت گئے۔

2004: جارج ڈبلیو بش بمقابلہ جان کیری

سنہ 2004 میں جارج بش کا مقابلہ ڈیموکریٹ جماعت سینیٹر جان کیری سے ہوا۔ جارج بش نے اپنی مہم قومی سلامتی پر چلائی اور اپنے آپ کو ایک ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا جو فیصلے لے سکتا ہے۔

انتخابات سے چند روز قبل القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کا ایک پیغام جاری ہوا جس میں انہوں نے ستمبر 2001 کے حملوں کی ذمہ داری قبول کی اور جارج بش کے فیصلوں کا مذاق اڑایا۔

اس پیغام کے بعد جارج بش کی پوزیشن مستحکم ہو گئی اور انہوں نے 286 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے جبکہ جان کیری 251 ووٹ حاصل کرسکے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔