مسلمان،اقلیتی ووٹر:امریکہ کا بایاں بازو؟

آخری وقت اشاعت:  پير 5 نومبر 2012 ,‭ 07:31 GMT 12:31 PST

’جو بھی اقلیتی ووٹ ہے وہ اہمیت رکھتا ہے‘

’یو آر لائیک اوبامہ ؟ می لائیک اوبامہ ٹو!‘۔ یہ الفاظ نیویارک میں ایک کافی شاپ پر کام کرنے والے بنگلہ دیشی نے مجھ سے کہے۔ ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں اس کی مراد تھی: کیا تم بھی اوبامہ کو پسند کرتے ہو؟ میں بھی اوبامہ کو پسند کرتا ہوں۔

دنیا کا طاقتور ملک جس کے ڈیموکریٹ صدر کو کبھی مسلمان تو کبھی سوشلسٹ،کبھی غیر ملکی تو کبھی امریکہ سے باہر پیدا ہونے والا بتایا جائے وہاں اقلیتوں کا اس کی طرف رجحان ہونا ایک فطری بات ہے۔

لیکن امریکہ میں مسلمان سنہ دو ہزار کے انتخابات میں زیادہ تر ری پبلکن ووٹر تھے اور مسلمانوں کی کمیونٹی تنظیموں کی تنظیم امریکن مسلم پولیٹیکل کوآرڈینشین کونسل( اے ایم پی سی سی ) نے بھی اس صدارتی انتخاب میں جارج ڈبلیو بش کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

الینوائے ریاست میں مسلم ٹاسک فورس کے سلمان آفتاب کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار میں مسلم کمیونٹی کے صدر جارج بش کو ووٹ دینے کے کئي اسباب تھے جن میں ایک سبب ڈیموکریٹک پارٹی کے نائب صدارات کیلیے امیدوار لبرمین کے مبینہ طور مسلم مخالف خیالات تھے۔

ان کے مطابق ’اور پھر تب گیارہ ستمبربھی نہیں ہوا تھا۔ مسلمان ووٹر گیارہ سمتبر دو ہزار ایک کے بعد متحرک اور متحد ہوئے ہیں‘۔

الینوائے ریاست میں مسلمانوں کی ایک بڑي آبادی بستی ہے جس میں عراقی عرب، شامی عرب،افغان ، پاکستانی، بھارتی برادریاں اور خاص طور حیدرآباد کے مسلمان اور مقامی سیاہ فام مسلمان شامل ہیں۔

یہیں نیویارک کے بعد سیاہ فام امریکی مسلمانوں کی نیشن آف اسلام کا بڑا مرکز بھی ہے۔

"مقامی سطح پر ہر مسلمان نسلی گروپ کے اپنے اپنے ایجنڈے ہیں لیکن وہ امریکی خارجہ پالیسی کی بنیاد پر ووٹ کرتے ہیں ۔ وہ اسرائیلی پالیسیوں اور صیہونیت کے خلاف ہیں۔"

آفتاب سلمان

لیکن آفتاب سلمان کا جو صدر اباوما اور ڈیموکریٹک پارٹی کے حق میں بیس ٹیلفون بنک قائم کر کے ووٹوں کیلیے مسلمان کمیونٹی سمیت ووٹروں کو متحرک کر رہے ہیں، کہنا تھا کہ مسلمان امریکہ میں دائيں بازو کے خلاف ہیں۔

ان کے بقول مقامی سطح پر ہر مسلمان نسلی گروپ کے اپنے اپنے ایجنڈے ہیں لیکن وہ امریکی خارجہ پالیسی کی بنیاد پر ووٹ کرتے ہیں ۔ وہ اسرائیلی پالیسیوں اور صیہونیت کے خلاف ہیں۔

لیکن واشنگٹن میں ری پبلکن پارٹی میں پاکستانی نژاد سرکردہ مہم کار حنیف اختر اس سے اختلاف کرتے ہیں کہ امریکی انتخابات میں مسلمانوں کا ووٹ اہمیت رکھتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا ووٹ اس لیے اہمیت نہیں رکھتا کہ وہ سیاسی طور تتربتر ہیں اور انکی آبادی کہیں ایک جگہ نہیں یعنی کہ وہ امریکی سیاست کے اصطلاح میں بلاک ووٹ نہیں ہیں اور نہ ہی وہ امریکی ووٹوں میں کوئی قابل ذکر اوسط رکھتے ہیں۔

آزاد تجزیہ نگار اور گذشتہ بتیس سال سے امریکی انتخابات کا قریب سے مشاہدہ اور تجزیہ کرنے والے سید نسیم اختر کا کہنا ہے کہ مذہب و عقیدے کی بنیاد سے زیادہ جو بھی اقلیتی ووٹ ہے وہ اہمیت رکھتا ہے اور اس کا دینے والا ڈیموکریٹک پارٹی کا ووٹر بنتا ہے جبکہ سفید فام اور مقامی اکثریت کا رجحان ری پبلکن بنتا ہے۔ ہسپانوی یا لاطینی امریکی ، خواتین، ہم جنس پرست، عمر رسید یا سینیئر ، نئے امریکی یہ سب زیادہ تر ڈیموکریٹک یا اب اوبامہ ووٹر ہی بنتے ہیں۔

سید نسیم اختر کے مطابق نہ صرف پاکستانی بلکہ مسلم سیاہ فام، عرب مسلم، گیانیز، بھارتی، متوسط طبقات اور نچلے متوسط طبقے کے سفید فام مقامی امریکی ایک بلاک ووٹ تشکیل دیتے ہیں۔

"مسلمانوں کا ووٹ اس لیے اہمیت نہیں رکھتا کہ وہ سیاسی طور تتربتر ہیں اور انکی آبادی کہیں ایک جگہ نہیں یعنی کہ وہ امریکی سیاست کے اصطلاح میں بلاک ووٹ نہیں ہیں اور نہ ہی وہ امریکی ووٹوں میں کوئی قابل ذکر اوسط رکھتے ہیں۔"

حنیف اختر، ری پبلکن انتخابی مہم کے رکن

وہ اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے کہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے دہشتگرد حملوں کے بعد مسلمان اور جنوبی ایشیائي ڈیموکریٹک پارٹی کے حمایتی اور ووٹر بنے ہیں۔ سید نسیم اختر کا کہنا تھا ’یہ بنیادی طور آزاد خیال یا لبرل مخالف قدامت پسند کی کمشمکش ہے‘۔ بقول سید نسیم اختر کے کہ ’میں نے کبھی کسی پاکستانی کو شاذ و نادر ہی ری پبلکن دیکھا ہے‘۔

ایک مسلم رفاعی تنظیم کے سرگرم عہدیدار کا جو مسلم امریکی حلقوں کی سیاست کے قریب سے مشاہدہ کار ہیں، کہنا تھا کہ اگرچہ پاکستان میں ڈرون حملوں پر اوبامہ اور مٹ رمنی کا موقف ایک سا ہے لیکن امریکہ میں مسلمان ووٹر دوسرے ووٹروں کی طرح زیادہ تر خارجہ پالیسی پر نہیں مقامی ایشوز یا مسائل پر ووٹ دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مقامی طور امریکہ میں اندرونِ خانہ اپنی پالسیوں میں صدر براک اوبامہ مسلمانوں کےلیے مفید ثابت ہوئے ہیں۔

حیرت ہے کہ جماعت اسلامی کی طرف جھکاؤ رکھنے والے پاکستانی امریکی ہوں یا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگی کے حامی۔ عمران خان کے لیے چندہ جمع کرنے والے ان کی تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے یا سندھی اور بلوچ قوم پرست یا پھر ایم کیو ایم کے حامی امریکہ میں سبھی زیادہ تر اوبامہ کا ووٹ بنک بنتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔