ماضی کے دشمن آج کے دوست

آخری وقت اشاعت:  منگل 6 نومبر 2012 ,‭ 17:07 GMT 22:07 PST
ڈیل زلکو اور زولٹن ڈینی

ڈیل زلکو اور زولٹن ڈینی کی دوستی ایک مثال ہے۔

ایک سابق امریکی پائلٹ اور ان کے جہاز کو نیٹو آپریشن کے دوران سربیہ میں مارگرانے والے شخص کے درمیان دوستی اپنے آپ میں ایک انوکھا واقعہ ہے۔

دشمن کی روٹی چھین لینا ایک بات ہے لیکن ایک ساتھ مل کر روٹی بنانا دوسری بات اور یہ عام طور پر نہیں ہوتا ہے۔

لیکن زولٹن ڈینی کے باورچی خانے میں کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔

کسی زمانے میں یوگوسلاویہ کے طیارہ شکن یونٹ میں کام کرنے والے سابق کرنل نے اب باورچی خانے کا ایپرن پہن لیا ہے اور وہ ایک کامیاب بیکری چلا رہے ہیں۔

عجیب بات یہ ہے کہ ان کے بازو میں امریکی فضائیہ کے سابق پائلٹ ڈیل زلکو آٹا گوندھ رہے ہیں۔

انیس سو ننانوے میں یہ دونوں ایک دوسرے کے مخالف تھے جب نیٹو افواج نے بلغراد اور دوسرے اہم مقامات کو نشانہ بنایا تھا اور متحدہ نیٹو فوج کے ایک اہم آپریشن میں دونوں نے انتہائی نمایاں کارنامہ انجام دیا تھا۔

جیت کا گول

"جب اس طیارے نشانہ بنایا تو بہت اچھا لگا، ایسا لگا کہ فٹ بال میچ میں فتح کا گول داغ دیا"

ڈیل زیلکو خفیہ طیارہ ایف ایک سو سترہ اڑا رہے تھے۔ یہ جنگی جہاز اس قدر ایڈوانس تھا کہ وہ دشمن کے راڈار پر نظر نہیں آتا تھا۔

لیکن انیس سو ننانوے میں ستائیس مارچ کی رات کو کچھ بے چینی تھی۔ موسم کے حالات ایسے تھے کہ خفیہ طیارے اپنے معمول کے شکار پر نہیں جا سکتے تھے اور ایف سولہ طیارے ریڈار شکن میزائل داغ رہے تھے۔

ڈیل زیلکو نے کہا: ’مجھے زندگی میں کبھی یہ خیال اس شدت کے ساتھ نہیں گزرا تھا کہ اگر ایف ایک سو سترہ طیارے کو مار کر گرایا جا سکتا ہے تو وہ یہی رات ہو سکتی ہے۔ اور جب ایسا ہوا تو مجھے حیرت نہیں ہوئی‘۔

دوسری جانب زولٹن ڈینی کے اپنے مسائل تھے وہ ایک ایسے فوجی دستے کی قیادت کر رہے تھے جس کے پاس وسائل کی کمی تھی اور انہیں ہمیشہ ایف سولہ طیاروں سے حملے کا خدشہ رہتا تھا لیکن ان کے ساتھی مورال یا ہنر کسی معاملے میں بھی کم نہیں تھے۔

ہر رات انہیں اپنے دستے کے ساتھ جگہ تبدیل کرنی پڑتی تھی انھیں اپنی مشینوں کو بیس سیکنڈ کے دورانیہ میں چلانا ہوتا تھا تاکہ ریڈار شکن میزائل سے بچا جا سکے۔

کیا نشانہ لگایا ہے!

"'میں نے سوچا کہ سربیائی ایس اے ایم (زمین سے ہوا میں مارنے والا میزائل)کے اس آپریٹر سے ملوں اور اس کے ساتھ کافی پیؤں اور اس سے کہوں کہ اچھا نشانہ تھا اور میں اس کے اور سربیائی عوام کے تئیں عزت کا جذبہ رکھتا ہوں۔"

زولٹن نے اپنی مشین میں تبدیلی کی تھی جس کے سبب وہ معمول کی لہروں کے باہر بھی کارروائی کر سکتے تھے۔ اور شاید یہی وجہ تھی کہ انہیں ڈیل زیلکو کے خفیہ جہاز کا پتہ چل گیا۔

ڈینی نے کہا:’جب وہ طیارے نشانہ بنایا تو بہت اچھا لگا، ایسا لگا کہ فٹ بال میچ میں فتح کا گول داغ دیا ہو‘۔

امریکی پائلٹ کا تاثر بہر حال مختلف تھا لیکن جب انھوں نے اپنی سیٹ کو اجیکٹ کر لیا کیونکہ طیارہ قابو سے باہر ہو چکا تھا تو زیلکو کے دل میں بڑے فراخدلانہ خیالات ابھرے۔

انھوں نے کہا: ’میں نے سوچا کہ سربیائی ایس اے ایم (زمین سے ہوا میں مارنے والا میزائل) کے اس آپریٹر سے ملوں اور اس کے ساتھ کافی پیؤں اور اس سے کہوں کہ اچھا نشانہ تھا اور میں اس کے اور سربیائی عوام کے تئیں عزت کا جذبہ رکھتا ہوں‘۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ جب دونوں لوگوں کو ملانے کی بات پہلی بار سامنے آئی تو زیلکو نے اس کی قدر کی۔

ڈینی کے بیٹے اٹیلا کی جانب سے یہ پیشکش پہلی بار ہوئی جس نے اس کے بارے میں ڈیل آن لائن پر دیکھا تھا۔ اس تصویر کو سربیا کی ڈاکومنٹری بنانے والے زیلجکو مرکووک نے ’دی ٹوئنٹی فرسٹ سیکنڈ‘ میں پیش کیا تھا۔

انھوں نے امریکی فضائیہ کے توسط سے ریٹائرڈ پائلٹ ڈیل زیلکو سے رابطہ کیا اور ان کے لیے اس سے بہتر اور کیا بات ہو سکتی تھی کہ وہ اپنے اس نشانے باز سے مل سکیں گے۔

ڈینی اور زیلکو

دونوں سابق فوجیوں کی دوستی پر سکنڈ میٹنگ کے نام سے ایک ڈاکومنٹر بنی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب میں نے اس خیال کے بارے میں پڑھا کے میں اس آدمی سے ملوں جس نے میرے طیارے کو مار گرایا تھا تو میرا پہلا تاثر تھا: ’یقینا کیوں نہیں۔ اور میں اس خیال سے کافی متاثر ہوا۔ میں نے سوچا کہ مجھے اس شخص سے اور سربیہ کے لوگوں سے ملنا ہے اور میرے لیے یہ جذبوں کا مشن بن گیا۔‘

کئی سالوں تک خط وکتابت جاری رہی۔ ان دونوں سابق فوجیوں کا کہنا ہے کہ دونوں نے ایک دوسرے کو اپنی کہانیاں سنائیں، اپنے خیالات اور احساسات بانٹے اور بالمشافہ گفتگو کے لیے کام کیا۔

گزشتہ سال بالآخر دونوں ملے جہاں زلجکو مرکووک کا کیمرہ بھی موجود تھا۔ ڈیل اور زولٹن کی اس ملاقات پر مبنی ان کی یہ ڈاکومنٹری ’سیکنڈ میٹنگ‘ یا دوسری ملاقات کے نام سے جانی جاتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ان کی کہانی پوری دنیا کے لیے معنی رکھتی ہے۔

ان کا خیال ہے کہ ’تینوں خاندان ڈیل، زولٹن اور وہ امن میں یقین رکھتے ہیں۔ ہم تینوں خاندان امید اور امن میں یقین رکھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ان کے امید اور امن کے پیغام کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جائے گا‘۔

دانی کے بچے بڑے بھائیوں کی طرح سلوک کر رہے تھے تو زیلکو کے بچے ٹین ایجر کی طرح اور اس دوران دونوں باپ گھر میں کھانا اور کافی بناتے نظر آئے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔