ایران پر حملے کے لیے اسرائیل کمر بستہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 7 نومبر 2012 ,‭ 21:29 GMT 02:29 PST

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اگر بین الاقوامی اقتصادی پابندیاں ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے میں کارگر ثابت نہیں ہوتیں تو وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا حکم دینے کے لیے تیار ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ ’بالکل اگر ضروری ہوا تو میں بٹن دبانے کے لیے تیار ہوں۔‘

اسرائیل ٹی وی پر بات کرتے ہوئے نیتن یاہو نے یہ اشارہ بھی دیا کہ اسرائیل ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔

اسرائیل کی حکومت ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے لیے امریکہ کو ’سرخ لکیرے‘ لگانے یا حد کا تعین کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اس وجہ سے صدر براک اوباما کی انتظامیہ کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں تناؤ بھی پیدا ہو گیا تھا۔

چینل ٹو نے وزیراعظم کو ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انٹرویو کیا تھا۔ اس تحقیقاتی رپورٹ میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی تھی کہ اسرائیل کی حکومت ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے باز رکھنے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

چینل ٹو کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ دو ہزار دس میں نتین یاہو اور ان کے وزیر دفاع ایہود براک نے فوج یہ حکم دیا تھا کہ ضرورت پڑنے پروہ چند گھنٹوں کے نوٹس پر ایران پر حملہ کرنے کے لیے تیار رہیں۔

چینل ٹو نے اپنے اس پروگرام کو نام دیا تھا ’اسرائیل ایران پر حملے کرنے کے لیے کتنا قریب ہے۔‘

فوج کو دیے جانے والے یہ احکامات فوج کے سربراہ لیفٹینٹ جنرل غبی اشکینازی اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے سربارہ میر داغن کی طرف سے مخالفت کی وجہ سے واپس لے لیے گئے تھے۔

اس پروگرام کے مطابق جنرل اشکینازی نے ایران پر مجوزہ حملے کو ایک دفاعی غلطی قرار دیا تھا کیونکہ اس سے خطے میں ایک بڑی جنگ چھڑنے کا خطرہ ہے جب کہ موساد کے سربراہ نے اسے غیر قانونی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس طرح کے حملے کے لیے کابینہ کی منظوری درکار ہے۔

لیکن یہ دونوں اشخاص اپنے عہدوں سے اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔

وزیر اعظم نیتن یاہو سے جب ان حضرات کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات پر جب تبصرہ کرنے کو کہا گیا تو انھوں نے اس سے اجتناب کیا۔

انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کرنے کا اختیار وزیر اعظم کے پاس ہے اور جب تک وہ وزیر اعظم کے عہدے پر ہیں وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے۔

اس مقصد کو حاصل کرنے کا اگر کوئی دوسرا راستہ نہیں ملا تو اسرائیل کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔

اس دستاویزی رپورٹ میں سابق وزیر اعظم ایہود اولمرت کی طرف سے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں حکومت کے رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس مسئلے پر امریکہ سے اپنے قریبی تعلقات کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ایہود اولمرت اسرائیل میں جنوری کی بائیس تاریخ کو ہونے متوقع انتخابات میں ملکی سیاست میں اپنا مقام دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔