امریکی سینیٹ کے چھ اہم مقابلے

آخری وقت اشاعت:  منگل 6 نومبر 2012 ,‭ 13:36 GMT 18:36 PST

چھ نومبر کو صدارتی انتخابات کے ساتھ ساتھ سینیٹ کی تینتیس نشتتوں کے لیے بھی مقابلہ ہو رہا ہے۔

دنیا کی نظریں امریکہ کے صدارتی انتخاب پر لگی ہوئی ہیں لیکن ڈیموکریٹ اور ری پبلکن پارٹیوں میں چھ نومبر کو ایک اور بےحد اہم مقابلہ بھی ہو رہا ہے جس میں کئی دلچسپ امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔

چھ نومبر کو امریکی سینیٹ کی تینتیس نشستوں پر بھی انتخاب ہو رہا ہے۔

ڈیموکریٹ پارٹی کو اس وقت سینیٹ میں سینتالیس کے مقابلے پر ترپن نشستوں سے برتری حاصل ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ری پبلکن پارٹی کو سینیٹ پر غلبہ پانے کے لیے صرف چار مزید نشستوں کی ضرورت ہے۔

کُک پولیٹیکل رپورٹ کی سینیئر ایڈیٹر جینیفر ڈفی کہتی ہیں کہ ان انتخابات میں امریکی سینیٹ کے لیے سخت رسہ کشی ہو گی۔ ’ڈیموکریٹ اپنی اکثریت کھو سکتے ہیں یا کم از کم ان کی اکثریت میں کمی واقع ہو جائے گی۔ سینیٹ بہت سے لحاظ سے پالیسی کنٹرول کرتا ہے، کیوں کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں قانون بنتے یا ختم ہوتے ہیں۔‘

ڈفی کہتی ہیں کہ اگر براک اوباما صدر بن جاتے ہیں تو وہ چاہیں گے کہ ڈیموکریٹ ایوانِ نمائندگان کا توڑ کرنے کے لیے سینیٹ پر کنٹرول برقرار رکھیں۔ اور اگر رومنی جیت جاتے ہیں تو سینیٹ میں اکثریت سے ری پبلکن پارٹی دونوں ایوانوں پر قبضہ جما لے گی۔

توقع کی جا رہی ہے کہ ایوانِ نمائندگان میں ری پبلکن پارٹی کی برتری برقرار رہے گی۔

ذیل میں سینیٹ کی نشستوں کے لیے ہونے والے چھ دلچسپ مقابلوں کا احوال پیش کیا جا رہا ہے۔

پالیسی ساز بمقابلہ ماڈل

الزبتھ وارن بمقابلہ سکاٹ براؤن

ریاست میساچوسٹس روایتی طور پر ڈیموکریٹ پارٹی کا گڑھ سمجھی جاتی ہے لیکن دو ہزار نو میں مشہور ڈیموکریٹک سینیٹر ٹیڈ کینیڈی کا انتقال ہوا تو ریاست نے پلٹا کھا کر بقیہ دو سال پورے کرنے کے لیے ان کی جگہ سکاٹ براؤن کو منتخب کر لیا، جو میانہ رو ری پبلکن ہیں۔

براؤن سابق فیشن ماڈل ہیں جنھوں نے ایک بار خواتین کے ایک رسالے کے لیے برہنہ تصاویر کھنچوائی تھیں۔ اب وہ مکمل مدت کے لیے میدان میں ہیں۔ وہ اپنے آپ کو معتدل سیاست دان کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کا زور قومی ری پبلکن پارٹی سے آزادی حاصل کرنا ہے، جو میساچوسٹس کے ووٹروں کے لیے ضرورت سے زیادہ قدامت پسند ہے۔

ان کے مقابلے پر الزبتھ وارن ہیں جو ہارورڈ کی آزاد خیال پروفیسر ہیں۔ واشنگٹن میں ان کی شہرت کا باعث صارفین کے تحفظ کا ایک نیا قانون ہے اس لیے قدامت پسندوں کو ان پر بڑا غصہ ہے۔

براؤن زیادہ کہنہ مشق سیاست دان ہیں، اور وہ اپنی حریف کو ہارورڈ کی نک چڑھی پروفیسر کے طور پر، اور خود کو عوامی آدمی کے روپ میں پیش کرتے ہیں۔

توقع ہے کہ صدر اوباما میساچوسٹس میں بیس پوائنٹ کی اکثریت سے جیت جائیں گے۔ اگر ڈیموکریٹ زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالنے آئے تو اس کا فائدہ وارن کو ہو گا۔

’جائز‘ جنسی زیادتی

کلیئر میک کیسکل بمقابلہ ٹاڈ ایکن

اس سال گرمیوں میں دوسری مدت کے انتخاب لڑنے والی سینیٹر کلیئر میک کیسکل سخت مشکل کا شکار ہیں۔

ریاست میزوری بتدریج قدامت پسند ہوتی چلی جا رہی ہے، اور ری پبلکن پارٹی میک کیسکل کو صدر اوباما کی نامقبول پالیسیوں کے ساتھ نتھی کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

گذشتہ برس انکشاف ہوا کہ میک کیسکل نے اپنے نجی طیارے کا خرچ سرکاری خزانے سے کیا ہے، اور اس کے علاوہ طیارے کا ٹیکس بھی ادا نہیں کیا۔

لیکن اگست میں میک کیسکل پر قسمت کی دیوی مہربان ہو گئی۔ ہوا یوں کہ ان کے ری پبلکن حریف اور اسقاطِ حمل کے مخالف ٹاڈ ایکن نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک پروگرام میں کہا کہ جو عورتیں ’جائز‘ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنتی ہیں ان کے پاس حمل کو روکنے کا حیاتیاتی دفاع موجود ہوتا ہے۔

ملک بھر کے ری پبلکنوں نے ایکن کی مذمت کی اور ان پر زور ڈالا کہ وہ انتخابات میں حصہ نہ لیں۔

رائے عامہ کے جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پہلے دوڑ میں پیچھے تھے لیکن اب مقابلہ کسی حد تک سخت ہوتا جا رہا ہے۔

مغرب میں معرکہ آرائی

رچرڈ کارمونا بمقابلہ جیف فلیک (بائیں)

تاریخی طور پر قدامت پسند سمجھی جانے والی ریاست ایری زونا میں ریٹائر ہونے والے ری پبلکن سینیٹر جون کائل کی جگہ پر کرنے کے لیے ڈیموکریٹ پارٹی نے جس امیدوار کا انتخاب کیا ہے اس کے بارے میں لگتا ہے کہ ان کا بایوڈیٹا ہالی وڈ کے کسی مسودہ نگار نے لکھا ہے۔

رچرڈ کارمونا ڈاکٹر ہیں اور صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں سرجن جنرل رہ چکے ہیں۔ ان کا تعلق نیویارک سے ہے اور وہ ویت نام جنگ کے تمغہ یافتہ فوجی رہ چکے ہیں۔ ان کی انتخابی سوانح میں لکھا ہوا ہے کہ ایک بار انھوں نے ہیلی کاپٹر سے رسے کی مدد سے اتر کر ایک پہاڑ کے دامن میں ایک شخص کی جان بچائی تھی۔

ان کے مقابلے پر کانگریس مین جیف فلیک ہیں، جو ایری زونا کے آبائی باشندے ہیں اور ایک ایسے قصبے کے باسی ہیں جس کا نام ان کے پردادا کے نام پر رکھا گیا تھا۔ انھیں سب سے پہلے سنہ دو ہزار میں ایوانِ نمائندگان کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

اگرچہ ایری زونا میں ری پبلکن پارٹی کا غلبہ ہے لیکن حالیہ برسوں میں وہاں بہت سے ہسپانوی تارکینِ وطن آ بسے ہیں۔ چوں کہ کارمونا کا تعلق پورٹو ریکو سے ہے اس لیے ڈیموکریٹ پارٹی کو امید ہے کہ یہ نئے باسی ان کی حمایت کریں گے۔

ٹی پارٹی کی پیالی میں طوفان

جو ڈونیلی (بائیں) بمقابلہ رچرڈ مرڈوک

ریاست ایری زونا میں ری پبلکن پارٹی سے ملحقہ ٹی پارٹی تحریک کے اسٹیبلشمنٹ مخالف طرزِ عمل نے ری پبلکن کے لیے محفوظ حلقے میں مقابلہ سخت بنا دیا ہے۔

مئی میں ری پبلکن ووٹروں نے ری پبلکن سینیٹر رچرڈ لوگر کو پارٹی کے پرائمری انتخابات میں ریٹائر ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔اگرچہ لوگر آزاد خیال امیدوار نہیں تھے لیکن ٹی پارٹی کے ارکان انھیں ڈیموکریٹ پارٹی کے حق میں بہت نرم سمجھتے تھے۔لوگر انیس سو چھہتر سے منتخب ہوتے چلے آئے تھے لیکن انھیں اچانک مصالحتی پالیسی کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بننا پڑا۔

ریاستی خزانچی رچرڈ مرڈوک نے قومی قدامت پسند گروپوں سے ملنے والی مالی امداد سے لیس ہو کر لوگر کو شکست دے دی۔

اب وہاں ڈیموکریٹ امیدوار جو ڈانیلی کے پاس صرف ایک موقع ہے۔ اور وہ یہ کہ انڈیانا کے ووٹر اس بار شاید ایک ایسے امیدوار کو برداشت نہ کریں جو ڈیموکریٹ پارٹی کے ساتھ کسی قسم کی مفاہمت پر یقین نہیں رکھتا۔

ہیوی ویٹ آمنے سامنے

ٹم کین (بائیں) بمقابلہ جارج ایلن

ورجینیا میں ریٹائر ہونے والے ڈیموکریٹک سینیٹر جم ویب کی جگہ پر کرنے کے لیے ہونے والا مقابلہ ان انتخابات کے اہم ترین مقابلوں میں شامل ہے۔

اس حلقے میں دو ایسے امیدوار حصہ لے رہے ہیں جو قومی اور ریاستی سطح پر جانے پہنچانے ہیں۔ دونوں ورجینیا کے سابق گورنر ہیں۔

ورجینیا صدارتی سوئنگ سٹیٹ بھی ہے، اس لیے صدارتی انتخابی مہمیں اور پارٹیوں کے نیٹ ورک وہاں پیسے اور وسائل کا بےدریغ استعمال کر رہے ہیں۔

ری پبلکن جارج ایلن سابق سینیٹر ہیں جو دو ہزار چھ میں جم ویب سے ہار گئے تھے۔

اگرچہ دو ہزار چھ میں ایلن کے جیتنے کا خاصا امکان تھا لیکن انھوں اس وقت اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لی جب انھوں نے ایک آبائی امریکی باشندے کو ایسے الفاظ سے مخاطب کیا جس سے نسلی تعصب کی بو آتی تھی۔

اس برس ڈیموکریٹ امیدوار ٹم کین ہیں۔ وہ اوباما کے پرانے حامی ہیں اور ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی کام کر چکے ہیں۔

ایلن نے کوشش کی ہے کہ کین کو براک اوباما کے ساتھ نتھی کر دیا جائے، تاکہ صدرکی عدم مقبولیت کین کو لے ڈوبے۔تاہم یہ ہتھکنڈا ابھی تک ناکام رہا ہے کیوں کہ اوباما ریاستی رائے عامہ کے جائزوں میں سخت مقابلہ کر رہے ہیں۔

اکھاڑے کی شیرنی

لنڈا میک میہن بمقابلہ رچرڈ بلومینتھال

لبرل ریاست کنیٹی کٹ میں ریٹائر ہونے والے سینیٹر جوزف لیبرمین کو جگہ پر کرنے کے لیے ہونے والی دوڑ میں پروفیشنل ریسلنگ کی سرمایہ کار شامل ہیں جنھوں نے ایک بار اپنے ایک ملازم کو سرِعام لات مار دی تھی۔

لنڈا میک میہن نے ورلڈ ریسلنگ انٹرٹینمنٹ سے لاکھوں ڈالر کمائے ہیں۔ یہ ریسلنگ قوی الجثہ پہلوانوں، نیم عریاں خواتین اور پہلوانوں کی طرف سے ایک دوسرے پر فولڈنگ کرسیوں سے حملے کرنے کے لیے مشہور ہے۔

لنڈا سیاسی میدان میں اناڑی ہیں اور وہ بظاہر اپنے ووٹروں، بالخصوص خواتین سے رابطہ قائم نہیں رکھ پائیں۔ ان کے حریف رچرڈ بلومینتھال نے لنڈا پر صنفی تعصب، تشدد، اور ریسلنگ میں ممنوع ادویات استعمال کروانے کا الزام لگایا تھا۔ دو ہزار دس میں لنڈا کو بہت زیادہ خرچ کرنے کے باوجود بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس بار لنڈا نے خاصے بہتر طریقے سے مہم چلائی ہے، خواتین ووٹروں میں اپنا امیج بہتر بنانے کی کوشش کی ہے، اور ریسلنگ سے تعلق کی وجہ سے ان کا جو تصور بن گیا تھا اس کو نرم کرنے پر کام کیا ہے۔

لنڈا کے مقابلے پر ڈیموکریٹ امیدوار کرسٹوفر مرفی ہیں۔ انتالیس سالہ مرفی تین بار کانگریس کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔