بحرین: اکتیس شیعہ مسلمانوں کی شہریت منسوخ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 7 نومبر 2012 ,‭ 13:17 GMT 18:17 PST

وزارتِ داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان افراد کو اپیل کا حق حاصل ہے

بحرین میں حکام نے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے اکتیس کارکنوں کی شہریت منسوخ کر دی ہے۔

جن افراد کی شہریت منسوخ کی گئی ہے ان میں دو سابق ارکانِ پارلیمان بھی شامل ہیں۔

بحرین میں شہریت کے قانون میں یہ گنجائش ہے کہ ان افراد کی شہریت پر نظرِ ثانی کی جائے جن کے بارے میں حکام فیصلہ کریں کہ انہوں نے ملکی سلامتی کو نقصان پہنچایا ہے۔

وزارتِ داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان افراد کو اپیل کا حق حاصل ہے۔

یہ حکومتی اقدام اس وقت کیا گیا ہے جب ملک میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر تمام مظاہروں اور اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

بحرین کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے میڈیا کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان افراد کی شہریت بحرین کی شہریت کے آرٹیکل کی شق نمبر دس کے تحت منسوخ کی گئی ہے۔

بحرین کے وزیر داخلہ شیخ راشد الاخلیفہ نے کہا ہے آزادئ رائے کی اظہار کی بار بار خلاف ورزی اب برداشت نہیں کی جائے گی۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ بحرین کی حکومت کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندی ملک کی خراب صورتحال کو مزید بگاڑ سکتی ہے۔

اقوامِ متحدہ نے بحرین کی حکومت سے ان پابندیوں کو فوری طور پر ہٹانے کی استدعا کی ہے۔

واضح رہے کہ بحرین میں گزشتہ سال فروری میں حکومت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

مظاہرین حکومت سے ملک میں جمہوریت اور سنی شاہی خاندان کی جانب سے شعیہ مسلمانوں کے خلاف کیے جانے والے امتیازی قوانین کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

بحرین کی حکومت کے خلاف فروری دو ہزار گیارہ سے شروع ہونے والوں ان مظاہروں میں اب تک کم سے کم ساٹھ افراد ہلاک اور ہزاروں افراد زخمی ہوئے جن میں متعدد کو جیل بھیج دیا گیا۔

بحرین کی پارلیمان کے سابق ارکان متر متر نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا جن افراد کی شہریت بدھ کو منسوخ کی گئی ہے انہیں گزشتہ سال فوجی عدالت نے رہا کیا تھا۔

بحرین کی انسانی حقوق سے متعلق یوتھ سوسائٹی اور بحرین کے انسانی حقوق سے متعلق سینٹر نے حکومت کے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ حکام اپنے اقدام کے حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔

بیان کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بحرین کے حکام کی جانب سے اکتیس افراد کی شہریت منسوخ کرنے کا فیصلہ پرامن احتجاج اختیار کرنے والوں کو سزا دینا ہے۔

دوسری جانب بحرین کی وزارتِ داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ حکومتی فیصلے پر پوری طرح عملدرآمد کرے گا۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔