شام: کیمرون کے عرب رہنماؤں سے مذاکرات

آخری وقت اشاعت:  بدھ 7 نومبر 2012 ,‭ 08:11 GMT 13:11 PST
کیمرن اور متحدہ عرب امارات کے صدر

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرن مشرق وسطیٰ کے دورے میں عرب رہنماؤں سے شام کے بحران پر بات کر رہے ہیں۔

برطانوی وزیراعظم کے دفتر نے کہا ہے کہ برطانیہ شام کے مسلح باغیوں سے بات چیت کر رہا ہے تاکہ حزب اختلاف کو صدر بشارالاسد کے خلاف متحد کیا جا سکے۔

یہ اعلان برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے اردن پہنچنے کے بعد کیا گیا ہے جو مشرق وسطی کے اپنے دورے کے آخری مرحلے میں ہیں۔

کیمرون اپنے اس دورے میں اردن کے شاہ سے ملاقات کریں گے اور شام میں جاری جنگ کے بارے میں بات چیت کریں گے اس کے علاوہ وہ اس جنگ کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والے پناہ گزینوں سے بھی ملاقات کریں گے۔

ڈاؤننگ سٹریٹ کا کہنا ہے کہ برطانوی حکام اور شامی باغیوں کے درمیان اردن اور ترکی میں بات چیت ہوگی۔

ایک ترجمان نے بتایا کہ برطانیہ باغیوں کو مسلح نہیں کرے گا یا پھر انہیں فوجی مشیروں تک رسائی فراہم نہیں کی جائے گی۔

برطانیہ نے شام کے پناہ گزینوں کے لیے اپنی انسانی ہمدردی کی مد میں دی جانے والی رقم پانچ کروڑ پاؤنڈ سے زیادہ کردی ہے۔

واضح رہے کہ کیمرون کے مشرق وسطی کے تین دنوں کے دورے کے دوران شام کا بحران سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں سے ان کی بات چیت کا اہم موضوع رہا ہے۔

کار بم دھماکہ

شام میں جاری بغاوت کے بعد سے مسلسل ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں دونوں جانب پر انسانی حقوق کی پامالیوں کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

انھوں نے منگل کے روز کہا کہ وہ اس حق میں ہیں کہ صدر بشارالاسد کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے اگر اس سے پرامن انتقال اقتدار ممکن ہو سکتا ہے۔

دریں اثناء تازہ بم دھماکوں نے شام کے دارالحکومت دمشق کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انسانی حقوق کے رضاکاروں کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں میں کئی لوگوں کی ہلاکت کی خبریں ہیں۔

خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ یہ دھماکے ایسے علاقے میں ہوئے ہیں جہاں صدر بشارالاسد کے مسلک کے علوی لوگ زیادہ تعداد میں رہتے ہیں۔

ان دھماکوں میں کم از کم دس لوگوں کی ہلاکت کی خبریں ہیں۔

رضا کاروں کا کہنا ہے کہ اس دھماکے کچھ گھنٹوں کے بعد سنّی اکثریت والے ضلع القدم میں ایک مسجد کے سامنے ایک کار بم دھماکہ ہوا ہے۔

ابتدائی رپورٹوں میں بتایا جا رہا ہے کہ اس میں کئی لوگوں کی ہلاکت ہوئی ہیں لیکن ان کی تفصیل ابھی نہیں مل سکی ہے۔

شام کے لیے انسانی حقوق کی آبزرویٹری (ایس او ایچ آر) برطانیہ کی ایک رضاکار تنظیم ہے۔ اس تنظیم کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کے شمال مغربی نواحی علاقے واراؤند میں ہوئے بم دھماکے میں کم سے کم دس افراد ہلاک اور چالیس سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ اس علاقے میں علوی زیادہ تعداد میں آباد ہیں۔

بجلی معطل

"بہت سے لوگ اس دھماکے سے اپنے گھروں کے اندر متاثر ہوئے ہیں۔ دھماکے کے بعد بجلی کے معطل ہوجانے سے امدادی کاموں میں رخنہ پڑا ہے"

رضاکار ابو حمزہ الشامی

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی صنا کے مطابق اس دھماکے میں متعدد لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

منگل کے دن ہی القدم کی ایک مسجد کے سامنے رکی ایک ٹیکسی میں دھماکہ ہوا جس سے آس پاس کی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ رضاکاروں کا کہنا ہے کہ ان عمارتوں کے ملبے کے نیچے لوگ دبے ہوئے ہیں۔

رضاکار ابو حمزہ الشامی نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا: 'بہت سے لوگ اس دھماکے سے اپنے گھروں میں متاثر ہوئے ہیں۔ دھماکے کے بعد بجلی کے معطل ہوجانے سے امدادی کاموں میں رخنہ پڑا ہے۔'

دریں اثنا منگل کے دن شام کے مختلف علاقوں سے تصادم، گولہ باری، دھماکوں اور ہوائی حملوں کی خبریں ہیں۔

ایس او ایچ آر کا کہنا ہے کہ حمص صوبے کے حولہ علاقے میں حکومت کے ہوائی حملے میں سات لوگوں کے مرنے کی خبر ہے۔ جبکہ ادلب صوبے کے سراقب شہر میں آٹھ لوگ اس وقت ہلاک ہو گئے جب فوج نے گولہ باری شروع کر دی۔

اسی طرح دمشق کے جنوب مشرقی نواحی علاقے کفربطنا میں سات لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔