اوباما اور امریکہ اسرائیل تعلقات

آخری وقت اشاعت:  بدھ 7 نومبر 2012 ,‭ 13:33 GMT 18:33 PST
اوباما اور نتن یاہو

صدر اوباما کو خارجہ پالیسی میں کئی چیلنجوں کا سامنا ہو گا

صدر اوباما کے لیے خارجہ پالیسی میں سب سے مشکل معاملہ اسرائیلی صدر بنیامن نتن یاہو کے ساتھ تعلقات رہا ہے۔

اوباما کی جگہ ان کے حریف مسٹر مِٹ رومنی کو وائٹ ہاؤس میں دیکھنے کی مسٹر نتن یاہو کی خواہش دل میں ہی رہ گئی۔

تاہم اس موقع پر مسٹر نتن یاہو نے صدر اوباما کی جیت پر ان کو مبارکباد بھیجی اور یہ بھی کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کے درمیان دفاعی اتحاد پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگا۔

تاہم بی بی سی کے دفاعی اور سفارتی امور کے نامہ نگار جوناتھن مارکس کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ان تعلقات میں کئی اتار چڑھاؤ آ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کی دوسری مدت کے دوران ان کا خاصا وقت مشرقِ وسطی کے حالات کی نظر ہو سکتا ہے اور ان کی توجہ کا مرکز اسرائیل اور امریکی تعلقات رہیں گے۔

حالیہ برسوں میں امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کئی مرتبہ کشیدگی کا شکار ہوئے۔

صدر اوباما اور اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے درمیان کچھ خاص دوستی نہیں ہو پائی اور قدامت پسند اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ صدر اوباما یہودی ریاست کے دوست نہیں ہیں۔

صدر اوباما کے بارے میں قدامت پسند یہودیوں کے اس خیال نے متعدد موضوعات پر ہونے والے مذاکرات کو الجھا کر رکھ دیا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی تو ہے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک اور حقیقت بھی موجود ہے اور وہ یہ کہ صدر اوباما کی صدارت کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان فوجی اور سکیورٹی سے متعلق تعلقات میں قابلِ ذکر پیش رفت ہوئی ہے جو جاری رہے گی۔

ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایران اور فلسطین کے مسئلے پر تناؤ جاری رہے گا۔

اوباما انتظامیہ یہ جاننے کے لیے بے چین ہے کہ مذاکرات کے حوالے سے ایران نے جو سفارتی سطح پر خبریں پھیلائی ہیں وہ کس حد تک سنجیدہ ہیں۔

ادھر اوباماانتظامیہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کی کوشش بھی کر سکتی ہے اور اسرائیل پر اس بات کے لیے دباؤ ڈالا جا سکتا ہے کہ دو علیحدہ علیحدہ ریاستوں کے حل کے پیشِ نظر وہ اس بات کو مزید واضح کرے کہ اس کے خیال میں اس کی سرحدیں کہاں تک ہو سکتی ہیں۔

اپنی اس مدت کے دوران اوباما اسرائیل کا دورہ بھی کر سکتے ہیں۔

جنوری میں اسرائیل میں انتخابات ہونے والے ہیں اور ان انتخابات کے نتائج مستقبل کی سفارت کاری کے لیے بہت اہم ہونگے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔