اوباما سو سال میں دوبارہ جیتنے والے ساتویں صدر

آخری وقت اشاعت:  بدھ 7 نومبر 2012 ,‭ 07:32 GMT 12:32 PST

اس تصویر میں حالیہ تاریخ کے تین امریکی صدور، بل کلنٹن، جارج ڈبلیو بش اور براک اوباما موجود ہیں جو دو بار عہدہ صدارت پر باز رہے ہیں۔

دو ہزار بارہ کے صدارتی انتخاب میں فتح کے بعد صدر براک اوباما گزشتہ سو سال میں دوسری مدت کے لیے منتخب ہونے والے ساتویں امریکی صدر بن گئے ہیں۔

انیس سو بارہ سے اب تک امریکہ میں کل سترہ صدور برسرِ اقتدار رہے ہیں جن میں سے نو کا تعلق ریپبلکن جبکہ آٹھ کا ڈیموکریٹک پارٹی سے تھا۔

ان سترہ صدور میں سے فرینکلن ڈی روزاولٹ وہ واحد صدر ہیں جنہوں نے چار بار امریکہ کی صدارت سنبھالی۔ ماضی قریب میں مسلسل دو بار صدر بننے والوں میں بل کلنٹن، جارج ڈبلیو بش اور رانلڈ ریگن شامل ہیں۔

گزشتہ سو سال میں دوسری مرتبہ صدر بننے کا پہلا موقع وڈرو ولسن کو سنہ انیس سو سترہ میں ملا۔ ان کے دورِ صدارت کے اہم واقعات میں پہلی جنگِ عظیم اور اس کے بعد اقوام متحدہ کی تخلیق ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے اندازِ روابط میں وڈرو ولسن کو لبرل نظریات کا بانی مانا جاتا ہے۔

اس کے بعد سنہ انیس سو تینتس میں پہلی مرتبہ برسرِ اقتدار آنے والے صدر فرینکلن ڈیلانو روزاولٹ 1937، 1941 اور پھر 1945 کے صدارتی الیکشن میں بھی کامیاب رہے اور انہوں نے اپنے انتقال تک بارہ برس تک امریکہ پر حکومت کی۔

اس دوران روزاولٹ نے دوسری جنگِ عظیم میں امریکہ کی سربراہی کے علاوہ انیس سو تیس کی دہائی کے شدید اقتصادی بحران کا بھی سامنا کیا۔

صدر فرینکلن ڈی روزاولٹ واحد امریکی صدر ہیں جو چار بار اس عہدے پر فائز رہے ہیں

امریکہ کے پہلے صدر جارج واشنگٹن کے بعد سے امریکہ میں کسی بھی صدر کے دو سے زیادہ بار انتخاب میں حصہ نہ لینے کی روایت قائم تھی جو کہ فرینکلن ڈی روزاولٹ نے توڑی۔ تاہم اس کے بعد سے امریکی آئین میں بائیسویں ترمیم کے تحت اس روایت کو قانون بنا دیا ہے۔

دوسری جنگِ عظیم میں امریکی افواج کے سربراہ اور ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور نے انیس سو ترپن سے امریکہ میں زمامِ اقتدار سنبھالی اور انیس سو اکسٹھ تک اس صدر کے عہدے پر فائز رہے۔

ان کے بعد دو مرتبہ صدر بننے کا اعزاز رچرڈ نکسن کو ملا۔ وہ پہلی مرتبہ سنہ انیس سو انہتر اور پھر انیس سو تہتر میں دوبارہ صدر بنے لیکن ایک برس بعد ہی انہیں اپنے سیاسی حریفوں کی جاسوسی کرنے کے الزامات میں ’واٹر گیٹ سکینڈل‘ کی وجہ سے اس عہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔ صدر رچرڈ نکسن کا اہم سیاسی ورثہ امریکہ اور چین کے تعلقات میں بہتری تھا۔

ہالی وڈ کے اداکار رانلڈ ریگن امریکہ کے چالیسویں صدر تھے۔ انہوں نے انیس سو اکیاسی سے انیس سو نواسی تک اس عہدے پر کام کیا۔ ریگن کی معاشی پالیسی بہت مقبول ہوئی۔ رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے کے باوجود ریگن نے امریکہ کے حکومتی اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ کیا۔

اس تصویر میں سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن اور رونالڈ ریگن موجود ہیں جو دو بار عہدہ صدارت پر فائز ہوئے۔

انیس سو ترانوے میں صدر بننے والے ڈیموکریٹ بل کلنٹن دو ہزار ایک کے آغاز تک اس منصب پر فائز رہے۔ ان کے دور میں امریکہ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا انقلاب آیا اور اس نے دنیا بھر کا رنگ بدل دیا۔ بل کلنٹن کے دورِ صدارت میں بھی امریکہ نے معاشی طور پر کافی ترقی بھی کی اور امریکی بجٹ خسارے سے نکل آیا۔

براک اوباما سے قبل دو مرتبہ منتخب ہونے والے آخری صدر جارج ڈبلیو بش تھے۔ جو دو ہزار ایک میں صدر بنے اور دو ہزار نو میں براک اوباما کے صدارت سنبھالنے تک اس عہدے پر موجود رہے۔

بش دور میں ستمبر دو ہزار ایک میں امریکی شہر نیویارک میں ہونے والے حملوں کے بعد دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ شروع ہوئی اور یہی جنگ ان کی صدارت کا محور رہی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔