اوباما: وائٹ ہاؤس میں واپسی، معیشت بڑا چیلنج

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 8 نومبر 2012 ,‭ 09:08 GMT 14:08 PST
اوباما اپنے اہل خانے کے ساتھ

اوباما اپنے اہل خانے کے ساتھ واشنگٹن پہنچ گئے ہیں

براک اوباما دوسری مرتبہ امریکہ کا صدر منتخب ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس پہنچ گئے ہیں۔

انہیں ملک میں معاشی خسارے کے خطرے کو کم کرنے کے لیے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ملک کی معیشت کو دوبارہ مستحکم کرنے کے لیے انہیں کانگریس میں رپبلکن پارٹی کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔

براک اوباما کو رپبلیکن پارٹی کے ساتھ مل کر یہ اہم فیصلہ کرنا ہوگا کہ خسارے کے خطرے کو کم کرنے کے لیے اخراجات میں کمی کی جائے یا ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا جائے۔

واضح رہے کہ منگل کو ہونے والے اتنخابات میں ڈیمکوکریٹک پارٹی فاتح رہی لیکن ایوانِ نمائندگان میں بھی ری پبلکن پارٹی کا غلبہ برقرارہے۔

واضح رہے صدر اوباما کے بدھ کو واشنگٹن واپس آنے سے پہلے کانگریس کے سپیکر جان بونر نے اس بات کے اشارے دیے تھے کہ اگر صدر اوباما ٹیکسز میں اصلاحات کرتے ہیں تو انہیں رپبلکن پارٹی کے ساتھ کوئی درمیانی راستہ نکالنے پر اتفاق کرنا پڑے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیکس نظام میں اصلاحات کے تحت جو محصولات میں جو اضافہ ہوگا وہ اس کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔

واضح رہے کہ سابق صدر جارج بش کے دور اقتدار میں ٹیکس میں جو کٹوتی کی گئی تھی اس کی مدت دوہزار بارہ کے اخر میں ختم ہوجائے گی جس کے بعد ملک میں فوجی اور دیگر حکومتی اخراجات میں لازماً کٹوتی کرنی ہوگی۔حکومت اخراجات میں اس کمی سے تب بچ سکتی ہے جب وہ رپبلکن پارٹی سے کوئی معاہدہ کرے۔

انتخابات کے بعد پہلی بار عوام کے سامنے بیان دیتے ہوئے جان بونر نے کہا ہے کہ ملک کی معیشت کو خسارے سے بچانے کے لیے وہ حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’ صدر صاحب ، یہ آپ کا وقت ہے۔ ہم آپ کی قیادت میں کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔۔۔ رپبلکن اور ڈیموکریٹس کی حیثیت سے نہیں بلکہ امریکی کی حیثیت سے۔ ہم آپ کی کامیابی کی خواہش رکھتے ہیں۔‘

"ہم آگے کام کرنے کے بارے میں سوچ کر فکر مند ہیں۔ سب سے پہلے ہمیں معیشت سے متعلق جو پالیسیاں ہیں جن میں تبدیلی نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ان کے بارے میں کچھ کرنا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہم صحیح وقت پر صحیح کام کریں گے۔"

جو بائیڈن

امریکہ کے نائب صدر جو بائڈن نے واشٹنگٹن جاتے ہوئے جہاز پر سوار صحافیوں کو بتایا کہ ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ہم آگے کام کرنے کے بارے میں سوچ کر فکر مند ہیں۔ سب سے پہلے ہمیں معیشت سے متعلق جو پالیسیاں ہیں جن میں تبدیلی نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ان کے بارے میں کچھ کرنا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہم صحیح وقت پر صحیح کام کریں گے۔‘

واضح رہے کہ انتخاب میں شکست کے بعد رپبلکن پارٹی کے صدر کے عہدے کے امیدوار مٹ رومنی نے کہا تھا کہ دونوں پارٹیاں ’ لوگوں کو سیاست سے بالاتر رکھ کر‘ملک کے مفاد میں کام کریں گی۔

وہیں صدارتی انتخابات میں جیت کے بعد شکاگو میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ وہ مٹ رومنی کے ساتھ ملک کر کام کریں گے۔

واضح رہے کہ کانگریس آئندہ ہفتے معاشی پالیسیوں میں تبدیلی یا خسارے سے نمٹنے کے بارے میں بات چیت کرے گی۔

صدارتی انتخابات سے پہلے ہونے والے ایگزیٹ پول میں دس میں سے چھ ووٹروں نے ملک کے لیے کمزور معیشت کو سب سے بڑا مسئلہ بتایا تھا لیکن بیشتر نے اس کے لیے جارج بش کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔