ارجنٹائن: کرپشن کے خلاف حزبِ مخالف کا احتجاج

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 9 نومبر 2012 ,‭ 05:33 GMT 10:33 PST

ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں ہزاروں افراد نے ملک میں بڑھتے ہوئے جرائم اور کرپشن کے خلاف احتجاج کیا

جنوبی امریکہ کے ملک ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں ہزاروں افراد نے ملک میں بڑھتے ہوئے جرائم اور کرپشن کے خلاف احتجاج کیا۔

ارجنٹائن کی حزبِ مخالف نے جمعرات کو ہونے والے حکومت مخالف احتجاج کے لیے سوشل نیٹ ورک کا استعمال کیا۔

احتجاج میں شریک افراد صدر کرسٹینا فرنینڈس کی حکومت کی پالیسیوں، ملک میں بڑھتے ہوئے افراطِ رز، جرائم اور کرپشن کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

بیونس آئرس میں ہونے والے احتجاج میں مظاہرین نے حکومت کی جانب سے گزشتہ سال سے امریکی ڈالر خریدنے پر عائد پابندی کے خلاف بھی احتجاج کیا۔

حزبِ مخالف کے کارکنوں کے مطابق گزشتہ دہائی میں ہونے والا یہ سب سے بڑا حکومت مخالف احتجاج تھا۔

واضح رہے کہ ارجنٹائن کی صدر فرنینڈس گزشتہ سال کے انتخابات میں دوسری بار ملک کی صدر منتخب ہوئی تھیں۔

ارجنٹائن میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں افراطِ زر کی شرح بارہ فیصد ہے تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہ شرح کہیں زیادہ ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے نے ستمبر میں ارجنٹائن کی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر وہ افراطِ زر پر قابو نہ پا سکے تو ان پر اقتصادی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

دوسری جانب ارجنٹائن کی حکومت کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی بحران کی وجہ سے ملک کی معیشت سست روی کا شکار ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔