صدر اوباما برما کا دورہ کریں گے

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 9 نومبر 2012 ,‭ 05:17 GMT 10:17 PST

اس سے پہلے امریکی وزیرِخارجہ ہلری کلنٹن نے بھی گزشتہ سال دسمبر میں برما کا دورہ کیا تھا

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر براک اوباما اس ماہ برما کا دورہ کریں گے جو کسی بھی امریکی صدر کا پہلا دورہ ہو گا۔

امریکی صدر اوباما برما کے صدر تھین سین کے علاوہ اپوزیشن لیڈر آن سانگ سوچی سے بھی ملاقات کریں گے۔

براک اوباما اپنے تین روزہ دورے میں برما کے علاوہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا بھی جائیں گے۔ یہ دورہ سترہ سے بیس نومبر کو ہو گا۔

واضح رہے کہ برما کی حکومت نے ملک میں سیاسی، معاشی اور دیگر اصلاحات کے نفاذ کا آغاز کیا ہے جس پر اوبامہ انتظامیہ زور دیتی رہی ہے۔

اس سے پہلے امریکی وزیرِخارجہ ہلری کلنٹن نے بھی گزشتہ سال دسمبر میں برما کا دورہ کیا تھا۔

امریکی صدر اوباما کمبوڈیا میں ہونے والے ایسوسی ایشن آف ساؤتھ ایسٹ ایشین نیشنز کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے جس میں چین، جاپان اور روس کے رہنما بھی شریک ہوں گے۔

وہائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی کے مطابق صدر براک اوباما برما میں سیول سوسائٹی کے کارکنوں سے ملاقات کریں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ بامفرڈ کا کہنا ہے کہ براک اوباما کے دوسری مدت کے لیے امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد برما کے دورے پر جانے سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ برما کے سے تعلقات استوار کرنے میں کافی سنجیدہ ہے۔

نامہ نگار کے مطابق اس دورے سے امریکہ کو اس خطے میں اپنی اثرو رسوخ بڑھانے اور چین کا اثر کم کرنے کا موقع ملے گا۔

برما میں سنہ دو ہزار دس میں ہونے والے انتخابات کے بعد اصلاحات کے بعد اقتدار سویلین حکمرانوں کو منتقل کیا جا چکا ہے اور اسے فوج کی حمایت حاصل ہے۔

برما میں سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے اور اظہار رائے پر عائد پابندیاں بھی کم کر دی گئی ہیں۔

برما میں سالوں تک گھر میں نظر بندی کے بعد جمہوریت پسند رہمناء آنگ سان سُوچی کو بھی رہا کیا گیا جہنوں نے دو ہزار دس کے انتخابات کے بائکاٹ کے بعد سیاسی عمل میں دوبارہ شمولیت اختیار کی تھی۔

سوچی کی جماعت نے اپریل میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور اب ان کی جماعت پارلیمان میں موجود ہے۔

ان اصلاحات کے رد عمل میں امریکہ نے برما میں باقاعدہ طور پر اپنا سفیر مقرر کیا اور برما کے خلاف معاشی پابندیاں ہٹا دی تھیں۔

امریکہ جلد ہی برما سے برآمدات پر سے پابندی بھی ہٹا دے گا۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں صدر براک اوباما کے برما دورے کو وقت سے پہلے قرار دے سکتی ہیں کیونکہ برما کی حکومت ملک کے مغربی حصے میں ہونے والے نسلی فسادات پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔