وکی لیکس: ملزم فوجی کی اعترافِ جرم کی پیشکش

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 9 نومبر 2012 ,‭ 12:23 GMT 17:23 PST

میننگ کے خلاف چھ ہفتوں کی کارروائی چار فروری کو شروع ہو گی

وکی لیکس کو مبینہ طور پر خفیہ دستاویزات فراہم کرنے کے ملزم فوجی بریڈلی میننگ نے چھوٹے جرائم میں اعترافِ جرم کرنے کی پیشکش کی ہے۔

بریڈلی میننگ کے وکیل ڈیوڈ کومز نے بدھ کو اس کیس میں کارروائی سے پہلے کی سماعت کے موقع پر عدالت کو یہ پیشکش کی۔

امریکی فوج نے کہا ہے کہ وکی لیکس کو اہم سرکاری دستاویزات فراہم کرنے اور انہیں افشا کرنے کے الزام میں بریڈلی میننگ کو کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

میننگ کے وکیل ڈیوڈ کومز نے ایک بلاگ میں لکھا ہے کہ ان کے موکلا ان پر عائد الزامات کے ذیلی زمرے میں آنے والے الزامات کو قبول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عدالت کو یہ بات طے کرنا ہو گی کہ آیا ان کے موکل کا اس نوعیت کا اقدام جائز ہے۔

ڈیوڈ کومز نے کہا کہ اگر عدالت میننگ کو کارروائی کی اجازت دے دیتی ہے اور اور اس معاملے کو اس طرح سے جانا جاتا ہے کہ ’اپنے ہی معاملے میں استثناء کرنا اور عوضی بدل قرار دینا ہوتا ہے۔‘

امریکی ریاست میری لینڈ میں کورٹ مارشل کی کارروائی کا سامنا کرنے والے میینگ پر دشمن کی مدد کرنے سمیت بائیس الزامات ہیں اور اگر وہ ان الزامات میں قصوروار پائے گئے تو ان کو عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

جج کرنل ڈینس لنڈ دس دسمبر کو سماعت کے موقع پر میننگ کی اعترافِ جرم کی پیشکش پر فیصلہ کریں گے۔

ان کے خلاف چھ ہفتوں کی کارروائی چار فروری کو شروع ہو گی۔

ڈیوڈ کومز کے مطابق میننگ امریکہ کے دشمن کی مدد میں قصوروار ہونے کا اعتراف نہیں کریں گے۔

میننگ پر دستاویزات افشا کرنے کے علاوہ ’دشمن کی مدد‘ کا الزام بھی لگایا گیا ہے اور اگر ان پر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں عمرقید ہو سکتی ہے۔

امریکی فوج کے ٹربیونل نے وکی لیکس کو خفیہ دستاویزات فراہم کرنے کے ملزم فوجی بریڈلی میننگ کا کورٹ مارشل کرنے کی سفارش کی تھی۔

چوبیس سالہ سپاہی بریڈلی میننگ نے دو ہزار سات میں امریکی فوج میں شمولیت اختیار کی تھی اور انہیں مئی دو ہزار دس میں حراست میں لیا گیا تھا۔

خفیہ معلومات کے تجزیہ کار کے طور پر امریکی فوج میں کام کرنے والے میننگ نے مبینہ طور پر وکی لیکس کو امریکی حکومت کی ہزاروں سفارتی اور فوجی دستاویزات فراہم کی تھیں جن کی اشاعت سے دنیا بھر میں سنسنی پھیل گئی تھی۔

تئیس سالہ میننگ پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ دو ہزار سات میں جس اپاچی ہیلی کاپٹر نے بغداد میں بارہ عراقی شہریوں کو ہلاک کیا تھا اس کی ویڈیو بھی انہوں نے وکی لیکس کو فراہم کی تھی۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ وکی لیکس کو اہم سرکاری دستاویزات فراہم کرنے اور انہیں افشا کرنے کے الزام میں بریڈلی میننگ کو کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بریڈلی میننگ کو حراست میں لیے جانے کے بعد ریاست ورجینیا میں کوانٹیکو کی فوجی جیل میں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا تھا جس پر ان کے وکلا نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔ بعد ازاں اپریل دو ہزار گیارہ میں میننگ کو ریاست کنساس کی فورٹ لیون ورتھ فوجی جیل منتقل کر دیا گیا تھا جہاں اب وہ قید ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔