نئی چینی قیادت کا انتخاب

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 10 نومبر 2012 ,‭ 15:01 GMT 20:01 PST
چین کی کانگریس

کانگریس ہر دس سال بعد منعقد ہوتی ہے اور اس میں نئی قیادت سامنے لائی جاتی ہے

چینی کمیونسٹ پارٹی نیشنل پیپلز کانگریس کا اجلاس جاری ہے۔ کانگریس اس اجلاس میں نئی قیادت کا انتخاب کرے گی اور یہ قیادت نہ صرف چین بلکہ دنیا کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

چین چونکہ اب دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی قوت ہے اور تیزی سے اہم عالمی کھلاڑی بھی بن رہا ہے، اس لیے ساری دنیا کی نظریں کانگریس کے اجلاس پر لگی ہیں۔

پارٹی کانگریس کیا ہے

کانگریس ہر پانچ سال بعد منعقد کی جاتی ہے اور اس میں پارٹی پالیسیوں اور پارٹی قیادت میں تبدیلیوں کا اعلان کیا جاتا ہے۔

آٹھ نومبر سے جاری اجلاس میں پورے چین سے کانگریس کے دو ہزار دو سو سے زائد مندوبین کی شرکت متوقع تھی۔

اس کانگریس میں پہلے سے متعین طاقت اور اتحاد کا مظاہرہ کیا جائے گا، لیکن کانگریس کی زیادہ تر کارروائی خفیہ رکھی جاتی ہے۔

اگر سارے نہیں تو اکثر مسائل ایسے ضرور ہیں جن کے بارے میں پارٹی قیادت کانگریس کے اجلاس سے پہلے ہی فیصلے کر چکی ہو گی۔

ابھی یہ نہیں معلوم کہ میٹنگ کتنی لمبی چلے گی، لیکن ماضی قریب میں کانگریس کے اجلاس ایک ہفتے سے زیادہ جاری نہیس رہتے۔

اہم کیا ہے؟

اس سال کی کانگریس اس لیے بھی اہم ہے کہ اس میں قیادت کی منتقلی کی توثیق کی جائے گی۔ یہ منتقلی دس سال میں ایک مرتبہ ہوتی ہے۔

پارٹی میں رہنماؤں کی عمر کی حد کے بارے میں بہت سخت رویہ رکھا جاتا ہے اور اس سال پارٹی کے مضبوط ترین پولٹ بیورو سٹینڈنگ کمیٹی، جو کہ پارٹی کا اقتدار سنبھالتی ہے، کے نو میں سے سات اراکین اپنی مدتِ اقتدار پوری کر رہے ہیں۔ ان میں چین کے موجودہ سربراہ صدر ہو جنتاؤ اور وزیرِ اعظم وین جیاباؤ بھی شامل ہیں۔

کانگریس کے فوراً بعد نئی قیادت میڈیا کے سامنے لائی جائے گی اور وہ اپنی سینیارٹی کے حوالے سے باری باری سب کے سامنے آئیں گے۔

چین کی کانگریس

کانگریس میں اہم مسائل پر بند دروازوں کے اندر فیصلے کیے جاتے ہیں

یہ قیادت اگلے دس برس تک چین کا اقتدار سنبھالے گی۔

چین کا نیا رہنما کون ہو گا؟

توقع ہے کہ کانگریس کے بعد پارٹی کی قیادت ہو جنتاؤ کی جگہ نائب صدر شی جِنگ پن کو سونپ دی جائے گی، جو کہ اگلے سال ملک کے صدر بن جائیں گے۔

وہ پارٹی کے اس خاص گروہ کے ’شہزادے‘ ہیں جن کا تعلق پارٹی کے سابق بڑوں کے نسب سے ہے۔

نائب وزیرِ اعظم اور ہو جنتاؤ کے قریبی ساتھی لی کیکیانگ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ وزیرِ اعظم وین جیاباؤ کی جگہ لیں گے۔

اس پر بھی بہت قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ پولٹ بیورو سٹینڈنگ کمیٹی کے دیگر اراکین کون ہوں گے اور اس کے حتمی اراکین پر دنیا کی گہری نظر ہو گی کیونکہ اسی سے مستقبل کے چین کی سمت کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سٹینڈنگ کمیٹی اراکین کی تعداد کو نو سے کم کر کے سات کر دیا جائے گا۔

رہنماؤں کو کس طرح چنا جاتا ہے؟

نظریاتی طور پر کانگریس پارٹی سینٹرل کمیٹی کے اراکین کو منتخب کرتی ہے، جو بعد میں پولٹ بیورو بشمول سٹینڈنگ کمیٹی کو منتخب کرتی ہے جو کہ چین سے متعلق سب اعلیٰ فیصلے کرتی ہے۔

لیکن حقیقت میں یہ عمل نیچے سے اوپر نہیں بلکہ اوپر سے نیچے ہوتا ہے، اور کانگریس اصل میں رہنماؤں کے فیصلوں کے لیے ربڑ کی ایک سٹمپ ثابت ہوتی ہے۔

ماؤزے تنگ اور دنگ ژیاؤپنگ کے دور میں اعلیٰ رہنما خود ہی اپنے جانشین کا انتخاب کرتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہوتا۔ نئے رہنماؤں کے چناؤ میں اب پارٹی کے مختلف دھڑوں اور مختلف مفاد رکھنے والوں کے درمیان سازشیں اور ہارس ٹریڈنگ بھی ہوتی ہے۔

نئی قیادت سے کیا فرق پڑے گا؟

اصلاحات کے حامی نئی قیادت سے فوری طور پر اصلاحات لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ اقتصادی اور سماجی مسائل کو ایک ایسا بحران بننے سے پہلے روکا جا سکے جو کہ کمیونسٹ قیادت کی گرفت اقتدار پر کمزور کر سکتا ہے۔

وہ خبردار کرتے رہے ہیں کہ سیاسی اصلاحات کے بغیر اس بات کا خدشہ ہے کہ بلا روک ریاستی اختیارات کہیں ترقی کا دم نہ گھونٹ دیں جس سے عوام میں بے اطمینانی بڑھ سکتی ہے۔

جو رہنما ریٹائر ہوتا ہے اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟

ریٹائر ہونے والے چینی رہنما اکثر پردے کے پیچھے سے اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔

سنہ دو ہزار دو میں پارٹی کے رہنما جیانگ زیمن اقتدار چھوڑ جانے کے بعد بھی تقریباً دو برس تک مرکزی کمیشن کے سربراہ رہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس راہ پر چلتے ہوئے ہو جنتاؤ بھی شاید ایسا ہی کریں۔

سرکاری عہدوں کے بغیر بھی پارٹی کے سابق ’بڑے‘ کافی مصروف رہتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔