عراق کا روس سے اسلحہ کی خرید کا معاہدہ منسوخ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 10 نومبر 2012 ,‭ 12:39 GMT 17:39 PST
عراقی اور روسی وزیر اعظم

عراقی اور روسی وزیر اعظموں نے گذشتہ ماہ چار اعشاریہ دو ارب ڈالر کا معاہدہ کیا تھا۔

عراقی حکومت کے ایک مشیر نے بتایا ہے کہ عراقی حکومت نے بدعنوانی کے شبہات کی وجہ سے روس کے ساتھ چار اعشاریہ دو ارب ڈالر کا اسلحہ خریدنے کا معاہدہ منسوخ کر دیا ہے۔

وزیرِ اعظم نوری المالکی کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیر اعظم نےاس معاہدے سے متعلق تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ معابدہ گزشتہ ماہ اکتوبر میں ہی طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت عراق کو روس سے جنگی ہیلی کاپٹر اور میزائل خریدنا تھے۔

امریکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد سے عراق نے اپنی فوج کی از سر نو تعمیر شروع کر رکھی ہے۔

عراقی وزیر اعظم کے ترجمان نے سنیچر کے روز اسلحے کی خرید کو منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہ وزیر اعظم نوری المالکی جب روس کے اپنے دورے سے واپس آئے تو انہیں اس کے معاہدے میں بدعنوانی کا شبہہ ہوا تھا اس لیے انہوں نے اس پورے معاہدے کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

روس کی جانب سے اسلحہ کی خریداری کے معاہدے کی منسوخی کے حوالے سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔

روس صدام حسین کے زمانے میں عراق کو اسلحہ فراہم کرنے والا اہم ملک تھا۔

عراقی وزیراعظم نے اکتوبر کے شروع میں ایک تقریر کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ وہ عراق میں اسلحے کے خریداری کے معاملے میں کسی کی ’اجارہ داری‘ دیکھنا پسند کریں گے۔

لیکن انہیں حزب اختلاف کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ جب امریکہ سے اسلحہ کی خریداریاں جاری ہیں تو ایسے میں روس سےہتھیار خریدنے کی کیا ضرورت تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔