سری لنکا: جیل میں تصادم، ستائیس ہلاک

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 10 نومبر 2012 ,‭ 09:26 GMT 14:26 PST
ویلیکاڈ جیل کا منظرر

حکام کے مطابق بعض افراد جیل سے فرار ہوتے وقت مارے گئے

سری لنکا میں حکام کے مطابق دارالحکومت کولمبو میں واقع ویلیکاڈا جیل میں قیدیوں اور جیل کے گارڈز کے درمیان تصادم میں ستائیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ تصادم اس وقت شروع ہوا جب جیل میں غیرقانونی اشیاء کی تلاشی کے لیے پولیس کامنڈوز اضافی سیکورٹی فراہم کرنے لے لیے وہاں پہنچے۔

وہاں موجود ایک قیدی نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ حالات اس وقت بگڑ گئے جب پولیس کے کمانڈوز جیل کے اندر داخل ہو گئے اور قیدیوں کو باہر نکال کر ان کی تلاشی لینے لگے۔

اطلاعات کے مطابق بعض قیدیوں نے سیکورٹی اہلکاروں کے ہتھیار اپنے قبضے میں لے لیے جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سیکورٹی گارڈز نے ان قیدیوں پر گولیاں چلائیں جو جیل سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بیشتر قیدی ہی ہیں۔ اس واقعہ میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

جیل کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اب حالات قابو میں ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جو قیدی جیل سے فرار ہوئے ہیں ان کی تلاش جاری ہے۔ حالات کو قابو کرنے کے لیے فوج بلائی گئی ہے وہیں جیل کے اطراف کی سڑکوں کو بند کردیا گیا ہے۔

کولمبو میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار چارلس ہیوی لینڈ کا کہنا ہےکہ اس واقعہ کے بعد قیدیوں کے خاندان والے اور دوست پریشان ہیں اور جیل کے قریب جمع ہیں۔

جیل کے ایک اہلکار کے مطابق پولیس کمانڈوز بغیر عدالت کے حکم کے جیل میں گھس آئے اور انہوں نے قیدیوں کو اکسایا جس کے نتیجے میں تصادم ہوا ہے۔

حالانکہ جیل اہلکاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ قیدیوں نے پہلے گولی چلائی۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ سیکورٹی گارڈز نے فرار ہونے والے قیدیوں پر گولیاں چلائیں جس میں تین قیدی ہلاک ہوئے۔

زخمیوں کو نیشنل ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ہسپتال کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ تیتالیس زخمیوں میں سے تئیس قیدی ہیں، تیرہ پولیس کمانڈوز، چار فوجی اور ایک جیل اہلکار شامل ہیں۔

اس جیل میں چار ہزار ایسے قیدی ہیں جنہوں نے پہلے بھی وہاں تشدد دیکھا ہے۔ اسی سال جنوری کے مہینے میں اسی جیل میں قیدیوں اور سیکورٹی گارڈز کے درمیان تصادم میں پچیس قیدی ہلاک اور چار سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ سنہ دو ہزار دس میں قیدیوں کے پاس موبائل فون پکڑنے کے لیے چھاپوں کے دوران تشدد بھڑک اٹھا تھا جس میں پچاس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔