شام: کار دھماکے میں بیس فوجی ہلاک

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 10 نومبر 2012 ,‭ 16:10 GMT 21:10 PST
شام

شام میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انسانی حقوق کے رضاکاروں نے کہا ہے کہ شام کے جنوبی شہر درعا میں ہونے والے جڑواں بم دھماکوں میں کم سے کم بیس فوجی مارے گئے ہیں۔

برطانیہ میں مقیم ان رضاکاروں نے کہا ہے کہ دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی دو کاروں سے ایک فوجی کیمپ کے پاس یہ دھماکے کیےگئے ہیں۔

لیکن شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے اس سے متعلق جو خبریں نشر کی ہیں اس میں جانی اور مالی نقصان کی بات تو کہی گئی ہے لیکن تفصیلات سے گریز کیاگیا ہے۔

کسی بھی گروپ نے ابھی تک ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ تاہم ماضی میں بشار الاسد کے خلاف بر سرپیکار باغی کار بم دھماکوں سے سرکاری فوجیوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں اور اس کی ذمہ داری بھی قبول کرتے رہے ہیں۔

اس دوران شام کے حزب اختلاف کے مختلف رہنماؤں کے درمیان کویت کے دارالحکومت دوحہ میں صلاح و مشورہ جاری ہے۔گزشتہ روز باغی گروہوں کے سب سے بڑے اتحاد شامی نیشنل کونسل نے جارج صابرہ کو اپنا رہنما منتخب کیا تھا جو ایک عیسائی اور سابق کمیونسٹ رہنما ہیں۔ جارج کو قطر میں باغی گروہوں کے درمیان مذاکرات کے بعد منتخب کیا گیا تھا۔

لیکن شامی نیشنل کونسل کو ابھی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آيا وہ اس متحدہ گروپ میں شامل ہو کر کام کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں جسے پہلے شامی نیشنل انیشیٹیو کا نام دیاگيا تھا۔ اس انیشیٹیو کو امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کی بھی حمایت حاصل ہے۔

اپنے انتخاب کے بعد جارج صابرہ نے عالمی برادری سے اپیل کیا کہ کونسل کو مزید اسلحے فراہم کیے جائیں تاکہ شامی صدر بشار الاسد کا تختہ الٹا جا سکے۔ لیکن انہوں نے اس بات پر خدشہ بھی ظاہر کیا کہ آيا شامی نیشنل کونسل نئے مجوزہ گروپ میں شامل ہوگی یا نہیں۔

شامی پناہ گزین

شامی پناہ گزین انتہائی مشکل حالات سے دوچار ہیں۔

مسٹر صابرہ نے کہا کہ ان کے انتخاب سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ کونسل فرقہ واریت پر یقین نہیں رکھتی۔ کونسل نے قطر میں ہونے والے مذاکرات میں دیگر گروہوں کو بھی کونسل میں شامل کرنے پر بات چیت کی لیکن اس حوالے سے قواعد و ضوابط ابھی طے نہیں پا سکے۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں گیارہ ہزار سے زائد افراد شام سے نقل مکانی کرگئے ہیں۔

جمعہ کو ادارے کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا ہجرت کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ شام میں حالات بے حد خراب ہوگئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق ادلیب اور حلب میں خوفناک لڑائی کے باعث نو ہزار افراد نقل مکانی کر کے ترکی کی سرحد میں داخل ہوئے ہیں۔ جبکہ دو ہزار افراد لبنان اور اردن میں داخل ہوئے ہیں۔

ان اداروں کا کہنا ہے کہ پچیس لاکھ شامی باشندے جن میں نصف تعداد بچوں کی ہے شام کے اندر بے گھر ہیں اورانہیں فوری امداد کی ضرورت ہے۔ اس سے قبل ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے نے کہا ہے کہ دو میجروں سمیت شام کی فوج کے چھبیس افسران منحرف ہو کر ترکی پہنچے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔