غزہ: پانچ فلسطینی ہلاک، بیس زخمی

آخری وقت اشاعت:  اتوار 11 نومبر 2012 ,‭ 05:22 GMT 10:22 PST

اسرائیلی فوجیوں اورشدت پسندوں کےدرمیان جھڑپوں میں پانچ فلسطینی ہلاک اور بیس زخمی ہوگئے

اسرائیل اور غزا کی پٹی کے قریب اسرائیلی فوج اور شدت پسندوں کےدرمیان حالیہ جھڑپوں میں پانچ فلسطینی ہلاک اور بیس زخمی ہوگئے۔جبکہ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں چاراسرائیلی فوجی بھی زخمی ہوئے۔

چار فلسطینی اس وقت ہلاک ہوئے جب اسرائیلی فوج نے ایک میزائل حملے کے جواب میں کارروائی کی ۔اس سے پہلے غزہ کی پٹی سے اسرائیل کے فوجی دستے پر میزائل حملے میں چار اسرائیلی فوجی زخمی ہوگئے تھے۔

حماس کے اہل کاروں کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے افراد عام شہری تھے جو غزا شہر کے قریب علاقے میں ایک جنازے میں شریک تھے۔

اسلامی جہاد تنظیم نے بھی کہا کہ اسرائیل کی طرف سے ہونے والے ایک فضائی حملے میں ان کا ایک اہل کار ہلاک ہوا۔

اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے فضائی حملہ غزا سے مزید راکٹ داغے جانے کے بعد کیا۔

اسرائیلی فوجی حکام نے ایک بیان میں کہا کہ انھوں نے شمالی غزا میں راکٹ داغنے والے ایک گروہ کو اسرائیل کے جنوبی علاقے میں میزائل فائر کرنے کے فوراً بعد نشانہ بنایا۔

بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ چند ہی گھنٹوں کے اندر جنوبی اسرائیل میں پچیس میزائل داغے گئے۔

اسرائیلی فوج اور شدت پسندوں کے درمیان جمعرات کو ہونے والے جھڑپ میں ایک تیرہ سالہ فلسطینی لڑکا ہلاک ہوا۔ جبکہ اسرائیلی حکام کے مطابق اس واقعے کے بعد غزا کی پٹی کے سرحد پر سرنگ پھٹنے سے ایک فوجی زخمی ہوا۔

اسرائیلی فوج کی ترجمان نے کہا کہ یہ سرنگ حالیہ سالوں میں دریافت ہونے والے بڑے سرنگوں میں سے ایک تھا جو اسرائیلی فوجیوں کو اغواء یا ہلاک کرنے کے لیے استعمال ہو سکتا تھا۔

اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ اس ہفتے غزا اور اسرائیل کے سرحد پر گشت پر معمور تین فوجی ایک بم دھماکے میں زخمے ہوگئے تھے۔

حماس کی عسکری شاخ قاصام بریگیڈ نے کہا کہ انھوں نے تیرہ سالہ لڑکے کی ہلاکت کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے یہ دھماکہ کروایا۔

رمالہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جان ڈونیسن کا کہنا ہے کہ غزہ اور اس کے ارد گرد علاقوں میں پر تشدت واقعات اکثر ہوتے رہتے ہیں جبکہ سکون کے لمحات بہت کم ہوتے ہیں۔

حماس کے ترجمان نے دھمکی دی ہے کہ وہ سنیچر کواسرائیل کی طرف کی گئی فضائی حملے کا جواب دیں گے۔

اے پی خبر رساں ادارے نے بتایا کہ حماس کے ترجمان نے صحافیوں کو بیجے گئے ایک موبائیل پیغام میں کہا’عام شہریوں کو نشانہ بنانا ایک ناقابل برداشت عمل ہے اور ہمیں حق حاصل ہے کہ ہم اسرائیل کے جرائم کا جواب دیں۔‘

دوسری طرف اسرائیلی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ وہ عام اسرائیلی شہرویوں کو نقصان پہنچانے نہیں دیں گے اور اسرائیل کے خلاف دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔

انھوں نے مزید الزام لگایا کہ غزا میں ہونے والے دہشت گردی کی ذمہ دار حماس ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔