شام: متحدہ اپوزیشن بنانے کے لیے بنیادی نکات پر اتفاق

آخری وقت اشاعت:  اتوار 11 نومبر 2012 ,‭ 07:51 GMT 12:51 PST

شام کے حزب اختلاف کے دھڑے متحدہ اپوزیشن بنانے کے لیے بنیادی نکات پر متفق ہو گئے

شام میں حزب اختلاف کے گروپوں نے صدر بشارالاسد کے خلاف متحد ہونے کی کوششیں تیز کر دیں ہیں اور متحد حزب اختلاف قائم کرنے کے لیے بنیادی نکات پر متفق ہو گئے۔

متحدہ حزب اختلاف بنانے کے لیے شام کے مخالف دھڑوں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ قطر کے دارالحکومت دوہا میں اتوار کی صبح بھی جاری رہا۔

مندوبین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حزب اختلاف کے دھڑے بنیادی نکات پر متفق ہو چکے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے حزب مخالف کے رہنما سوہیراتاسی کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’ ہمارے درمیان شام میں قومی سطح پر ایک متحدہ حزب اختلاف بنانے کے لیے بنیادی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے اور اتوار کے دن ہم اس پر مزید بات چیت کریں گے۔‘

دریں اثناء حزب اختلاف کے ایک بڑے رہنما رئید سیف کے حوالے سے بتایا گیا کہ حزب مخالف رہنماؤں کے درمیان متحدہ اپوزیشن بنانے کا نوے فیصد چانس ہے۔

صدر بشارالاسد کے شامی مخالف دھڑوں پر امریکہ اور دوسرے مغربی اتحادی دباؤ ڈال رہے ہیں کہ متحد ہونے کے لیے وہ آپس میں کوئی سمجھوتہ کر لیں۔

'سیرین نیشنل انیشیٹیو' کے نام سے تجویز کردہ نئے اتحاد کا مقصد شام میں حزب اختلاف کے سیاسی اور عسکری دھڑوں کو ضم کر صدر بشارالاسد کے مقابلے میں ایک نئی قابل اعتماد قیادت کو سامنے لانا ہے۔ تاہم ملک سے باہر حزب اختلاف کی ایک بڑی تنظیم شام کی قومی کونسل کو خدشہ ہے کہ نئی تنظیم کے بننے سے ان کی اہمیت کم ہو جائے گی۔

یاد رہے کہ شام کے باغی رہنما رئیدسیف نے پہلے بھی کہا تھا کہ بات چیت کے پہلے دن متحدہ اپوزیشن بنانے میں پیش رفت ہوئی تھی اور شام کی قومی کونسل کے بعض ارکان نے عندیہ دیا تھا کہ وہ ساٹھ ارکان پر مشتمل حزب اختلاف کے نئے گروپ بنانے کے منصوبے کو تسلیم کرنے کے لیے راضی ہو گئے تھے۔

متحدہ حزب اختلاف بنانے کا مقصد ایسی قابل اعتماد شامی لیڈرشپ کو تیار کرنا ہے جن کا تعلق شام کی عوام سے ہو اور جنہیں شام کے مغربی دوست ممالک کا گروپ تسلیم کر ے۔

شام کی امداد کے حوالے سے ( ہیومنٹیرین فورم کی ) چھٹی ملاقات جنیوا میں ہوگی جس میں اقوام متحدہ کے ادارے اور ممبر ممالک شریک ہوں گے۔

شامی حکومت نے ملک میں غیر ملکی امدادی ایجنسیوں کی موجودگی کو محددود کر دیا ہے۔

شام کےصدر بشارالاسد کے خلاف پر تشدد احتجاج گزشتہ سال مارچ سے جاری ہے۔

حزب مخالف کے کارکنوں کے مطابق شام میں جاری پرتشدد واقعات میں تقریباً پینتیس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں بارہ لاکھ افراد بےگھر ہو چکے ہیں جبکہ دو ملین سے زیادہ افراد کو امداد کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ شام میں امداد کی رسائی ممکن بنانے کے لیے دوہا اجلاس ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب بین الاقوامی امدادی ایجنسی ریڈ کراس کے سربراہ نے کہا ہے کہ وہ شام کی بڑھتی ہوئی امدادی ضروریات پوری نہیں کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔