حملوں کا دائرہ کار وسیع کیا جاسکتا ہے: اسرائیل

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 15 نومبر 2012 ,‭ 05:16 GMT 10:16 PST

اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتنیاہو نے دھمکی دی ہے کہ غزہ پر حماس کے خلاف کیے گئے حملوں کے دائرہ کار کو وسیع کیا جا سکتا ہے۔

ان کا یہ بیان گزشتہ روز فلسطین کے علاقے غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملے میں حماس کے رہنما احمد جباری کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ فضائی کارروائی میں حماس کے رہنما کو نشانہ بنایا گیا تھا کیونکہ وہ ایک دہائی سے دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

احمد جباری چار سال پہلے اسرائیل کے غزہ پر زمینی حملے کے بعد اسرائیل کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے سب سے اعلیٰ سطحی رہنما ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آج مصر کی درخواست پر بند کمرے کے اجلاس میں صورتحال کا جائزہ لے گی۔

فلسطینی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اس حملے کی قیمت چکانی پڑے گی۔

غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد شہر میں خوف کی فضاء ہے کہ حملے کے بعد تشدد میں اضافہ ہو گا۔

فلسطینی تنظیم حماس کے نائب وزیرِ خارجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ غزہ میں اسرائیلی حملہ پاگل پن ہے۔

احمد جباری چار سال میں اسرائیلی حملے کا شکار ہونے والے حماس کے پہلے اعلیٰ رہنما ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے فضائی کارروائی کے دوران فلسطین کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا جس میں سرکاری عمارتیں، سکیورٹی افواج اور سٹرکوں پر چلنے والی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔

اسرائیل میں موجود ایک نوجوان جیک جو انگلینڈ میں پیدا ہوئے اور اکیس برس کی عمر میں اسرائیل منتقل ہوئے نے بتایا کہ وہ چار سال سے اسرائیل کی ڈیفینس فورس میں کام کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’آپ یقین کریں کہ میں جنگ نہیں چاہتا کیونکہ جنگ میں عام فلسطینی افراد متاثر ہوتے ہیں۔ ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ جنگ کے دوران عام شہری زخمی نہ ہوں۔‘

دوسری جانب اسرائیلی کی سکیورٹی کابینہ نے فوج کو ضرورت کے تحت مزید اضافی افواج کو حرکت میں لانے کی اجازت دے دی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ اسرائیل کے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے تاہم اسرائیل کی جانب سے عام شہریوں کو نقصان سے بچانے کی ہر کوشش کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

اسرائیل کے ریڈیو وائس آف اسرائیل نیٹ ورک نے اپنی ایک رپورٹ میں اسرائیلی شہریوں کو جمعرات کو فلسطین کے علاقے غزہ سے سات کلو میٹر دور تک کام پر نہ آنے کی ہدایت کی ہے۔

ریڈیو کے مطابق جمعرات کو اس علاقے کے شاپنگ سینٹرز بھی عام افراد کے لیے بند رہیں گے اور وہاں ہونے والی تمام تقاریب بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔

دریں اثناء مصر نے فلسطینی علاقے غزہ پر اسرائیلی فضائی کارروائی کی مزمت کی ہے۔

احمد جباری پر حملے کے بعد صورتحال کافی کشیدہ ہو گئی ہے اور مصر سمیت عرب ممالک کی جان سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔

مصر نے قاہرہ میں اسرائیل کے سفیر کو طلب کیا اور اس اسرائیلی حملے کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔

مصر میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہونے والے واقعہ پر قاہرہ کا ردعمل بہت اہمیت کا حامل ہے۔

ادھر اسرائیل کی دفاعی افواج کی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ویویٹل کا کہنا ہے کہ حماس کے رہنما احمد جباری دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

ترجمان کے مطابق غزہ سے چالیس کلو میٹر دور واقع اسرائیلی سکول جمعرات کو بند رہیں گے۔

خبررساں ایجنسی رائیٹرز نے عرب لیگ کے ڈپٹی سربراہ کے حوالے سے بتایا کہ عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کا اجلاس سنیچر کو منعقد ہو گا جس میں اسرائیل کی جانب سے غزہ پر کیے جانے والے فضائی حملے پر غور کیا جائے گا۔

دریں اثنا امریکی صدر براک اوباما نے بدھ کو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو سے فون پر رابطہ کیا اور اسرائیلی فضائی حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کیا۔

ادھر فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے کی مزمت کی ہے۔

فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وفا کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق صدر محمود عباس کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فضائی حملے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے فوری طور پر اسرائیلی جارحیت روکنے کا مطالبہ کیا۔

حماس کے مصری اخوان المسلمین کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور اس تناظر میں مصر کے رد عمل کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی اسرائیلی فضائی حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال پر تناؤ کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے اقوام متحدہ میں فلسطین کے سفیر کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل کے غزہ پر فضائی حملے کے نتیجے میں نو افراد ہلاک ہوئے۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیلی کارروائی میں احمد جباری کے نائب بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

اسرائیل کی خفیہ ایجنسی شاباک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ’ جباری اسرائیل کے خلاف حملوں، ملڑی آپریشنز اور مالی وسائل مہیا کرنے کے ذمہ دار تھے۔‘

بیان کے مطابق’آج ان کی ہلاکت غزہ میں حماس کے اہلکاروں کے لیے ایک پیغام ہے کہ اگر وہ اسرائیل کے خلاف دہشت گردی کو فروغ دیتے رہے تو انہیں نقصان پہنچے گا۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔