غزہ جنگ: لوگوں کی کہانیاں

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 17 نومبر 2012 ,‭ 07:04 GMT 12:04 PST

بدھ کے روز اسرائیل کی جانب سے حماس کے فوجی رہنما کے قتل کے بعد غزہ اور اسرائیل میں چھڑ جانے والی جنگ کے شعلے ابھی تک بھڑک رہے ہیں۔اب تک تینتیس فلسطینی اور تین اسرائیلی مارے جا چکے ہیں۔ مصر کے رہنماؤں نے ’کھلی جارحیت‘ کے پیشِ نظر غزہ کی حمایت کا عزم ظاہر کیا ہے۔

اس خطے کے لوگ یہ بیان کر رہے ہیں کہ وہ اس جنگ سے کس طرح متاثر ہوئے ہیں۔

جمعہ شام سات بج کر پچاس منٹ: غزہ

غزہ میں بی بی سی کے نمائندے جون ڈونیسن کہتے ہیں کہ فضائی بمباری کی آوازیں مسلسل جاری ہیں۔

دیما مشعل کا ٹوئٹر پر پیغام: میرے گھر کے قریب بہت بڑا دھماکا۔ میرے خدا، ایسا لگتا ہے کہ جیسے زلزلہ آ گیا ہو۔

رانا کا ٹوئٹر پر پیغام: دھماکوں کا سلسلہ۔ تمام غزہ پر اسرائیلی ڈرونوں کی تعداد میں اضافہ۔

ایمان سوران کا ٹوئٹر پر پیغام: دھماکوں کی آوازیں تیز تر، تیز تر ہوتی جا رہی ہیں۔

جمعہ ساڑھے چھ بجے شام: یروشلم

لوسی کوہن: میں لندن کی رہنے والی ہوں لیکن گذشتہ پندرہ سولہ برسوں سے یروشلم میں رہتی ہوں۔ اپنے سولہ سالہ قیام کے دوران میں نے آج تک ہوائی حملے نہیں دیکھے تھے۔

میں جانتی تھی کہ ہوائی حملے سے خبردار کرنے والے سائرن بجائے جا رہے ہیں، لیکن مجھے توقع نہیں تھی کہ یہ یہاں بھی ہو سکتے ہیں۔ ہم مغربی کنارے سے بہت قریب رہتے ہیں۔ مجھے یقین نہیں آ رہا کہ انھوں نے یہاں راکٹ داغے ہیں۔

جمعہ پونے چھ بجے شام: یروشلم

حماس کا کہنا ہے کہ انھوں نے یروشلم پر ایک راکٹ داغا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اس مقدس شہر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

امیت منشروف کی ای میل: یروشلم میں الارم۔ ہم سب پناہ گاہ میں ہیں۔ ہمیں ابھی تک نہیں معلوم کہ کیا ہو رہا ہے۔

کیتھرین وائبل کا ٹوئٹر پر پیغام: یروشلم میں لوگ صدمے کی حالت میں ہیں۔ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ اس شہر کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے جس کے آدھے حصے میں فلسطینی رہتے ہیں۔

جمعہ ساڑھے پانچ بجے شام: جافہ، اسرائیل

خواتین برائے امن کی کارکن لیہی روتھ چائلڈ: میں نے آج تل ابیب میں ڈیڑھ بجے ایک دھماکے کی آواز سنی۔ میں اسرائیلی ہوں لیکن میں نے آج مغربی کنارے کے بیلین گاؤں میں غزہ پر حملوں کے خلاف ایک مظاہرے میں شرکت کی۔

ہم ہر جمعے کو غزہ پر قبضے کے خلاف مظاہرے کرتے رہتے ہیں۔ بہت سے اسرائیلی، فلسطینی اور دوسری ملکوں کے لوگ پر امن مظاہرہ کرنے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔

تاہم چونکہ اس وقت یہ سب کچھ ہو رہا ہے اس لیے آج کے مظاہرے کے لیے بہت لوگ جمع ہوئے تھے۔ احتجاج میں دو سو کے لگ بھگ لوگ تھے۔ اسرائیلی فوج ہمیشہ ہمارے احتجاج کو دبا دیتی ہے۔ آج فوج نے ہمارے خلاف آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں استعمال کیں، لیکن ہم نے وہاں سے چلے جانے کے غیر قانونی احکامات کو ماننے سے انکار کر دیا۔

جمعہ سوا چار بجے: تل ابیب

سیسیلیا: ہم نے تل ابیب کے مرکز میں ایک راکٹ کے دھماکے کی آواز سنی۔ لوگ دہشت زدہ تھے اور ایک ریستوران کے اندر رو رہے تھے۔

میں ایک تجزیہ کار اور مشرقِ وسطیٰ کے امور کی ماہر ہوں اور میں یہاں حماس پر تحقیق کرنے آئی ہوں۔ مجھے خدشہ ہے کہ سبت کی وجہ سے مزید راکٹ آئیں گے کیوں کہ یہ یہودیوں کا مقدس دن ہے۔

جمعہ چار بجے: غزہ

ماجد ابوسلمہ کا ٹوئٹر پر پیغام: میں اپنے دوست کے باپ کے جنازے میں جا رہا ہوں جسے کل شہید کیا گیا تھا۔ وہ ایک استاد تھے اور اس وقت حملے کی زد میں آ گئے جب وہ زخمیوں کی عیادت کے لیے جا رہے تھے۔

مریم ابو عامر کا ٹوئٹر پر پیغام: جب بھی میں دھماکے کی آواز سنتی ہوں تو میں خاموشی سے چیختی ہوں تاکہ میرے ارد گرد بچے نہ ڈریں۔

جمعہ چار بجے: غزہ

کارمیل، عمر 17 سال: آج بڑے دھماکے سنے گئے۔ مقامی ہسپتال لوگوں سے خون کا عطیہ دینے کی درخواست کر رہا ہے کیوں کہ بہت سے لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

گذشتہ رات میں نے لوگوں کو چیختے اور روتے دیکھا۔ اسرائیلی حملوں میں بہت سے عام شہری اور بچے مارے گئے ہیں۔

میں نے اپنے چھوٹے بھائی کو بتایا کہ یہ آتش بازی کی آوازیں ہیں۔ میں انھیں پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔

اسرائیل نے فلسطینیوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے گھروں سے نکل جائیں۔ میری دادی کو فون پر ایس ایم ایس آیا کہ اگر آپ حماس کے کسی رکن کو جانتی ہیں تو اس سے دور رہیں۔

وہ فون بھی کرتے ہیں۔ اس لیے فلسطینی ایک دوسرے سے ان نمبروں کے بارے میں بات کر رہے ہیں تاکہ اگر ان نمبروں سے فون آئے تو اسے نہ اٹھایا جائے۔

ہر دو منٹ کے بعد ایک بم دھماکا سنائی دیتا ہے، اس لیے ہم گھر سے باہر نہیں نکل سکتے۔ ہم نے ایک مہینے کی خوراک ذخیرہ کر لی ہے تاکہ ہمیں گھر سے باہر نہ نکلنا پڑے۔

جمعہ ایک بج کر چالیس منٹ: تل ابیب

اسرائیل کے شہر تل ابیب میں ہوائی حملے کے سائرن سنے جا سکتے ہیں۔ شہر کے لوگ اس بارے میں کا ٹوئٹر پر پیغامات بھیج رہے ہیں:

شلومت شپیرا: تل ابیب میں دو منٹ پہلے سائرن بجا ہے۔

ڈیوڈ شین: ابھی ابھی ایک راکٹ گرنے کی آواز آئی ہے۔ میں ٹھیک ہوں۔

نوم مینٹل: ایک اور میزائل کا سائرن اور ایک زوردار دھماکا۔

جمعہ ایک بجے: تل ابیب کے قریب

الانا برگشاجل: میں تین سال پہلے اسرائیل منتقل ہوئی ہوں۔ میری ماں اسرائیلی ہے لیکن میں لندن کی ہوں۔ میری عمر 26 سال ہے اور میں یہاں ایم اے کر رہی ہوں۔

عام طور پر راکٹ حملوں کے وقت ہم پناہ کے لیے سیڑھیوں کے نیچے چلے جاتے ہیں۔ عام طور پر یہ حملے جلد ہی ختم ہو جاتے ہیں لیکن اس بات صورتِ حال مختلف ہے۔

اب ہر چند منٹوں کے بعد دھماکے ہو رہے ہیں۔ میں نے ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔