ڈیوڈ پیٹریئس کے خلاف تحقیقات کا آغاز

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 16 نومبر 2012 ,‭ 01:31 GMT 06:31 PST

امریکہ کے خفیہ ادارے سی آئی اے نے کہا ہے کہ اس نے اپنے سابق سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریئس کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

سی آئی اے کے ترجمان نے کہا ہے کہ تحقیقات معاملے کی وضاحت کے لیے ہیں اور ایجنسی کو امید ہے کہ وہ اس سے سبق سیکھے گی۔

امریکی خفیہ ایجنسی نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنی کاررکردگی کا مسلسل مشاہدہ کر رہی ہے۔

جنرل پیٹریئس نے اپنی سوانح عمری لکھنے والی خاتون پاؤلا براڈ ویل کے ساتھ غیرازدواجی تعلقات کا اعتراف کرتے ہوئے حال ہی میں استعفی دیا تھا۔

جنرل پیٹریئس نے مستعفی ہونے کے بعد جمعرات کو سی این این کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے براڈویل کو کبھی خفیہ معلومات فراہم نہیں کیں۔

ڈیوڈ پیٹریئس ستمبر دو ہزار ایک کے واقعات کے بعد سے امریکہ کے اہم ترین فوجی افسروں میں سے ایک ہیں۔

دو ہزار گیارہ کے وسط میں جب لیون پنیٹا وزیرِ دفاع بنے تو جنرل پیٹریئس نے افغانستان میں نیٹو افواج کی سربراہی چھوڑ کر سی آئی اے کی قیادت سنبھالی تھی۔

اپنے استعفے کے سلسلے میں ساٹھ سالہ ڈیوڈ پیٹریئس کا کہنا تھا کہ ’سینتیس سال سے شادی شدہ ہونے کے باوجود میں نے ایک بہت غلط قدم اٹھایا اور ایک دوسری عورت کے ساتھ روابط رکھے۔ ایک شادی شدہ مرد ہونے اور سی آئی اے جیسی ایجنسی کا سربراہ ہونے کے ناطے یہ قدم ناقابل قبول ہے۔‘

تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے اس معاملے کی تفتیش تبھی شروع کر دی تھی جب جِل کیلی نے شکایت کی تھی کہ پاؤلا بروڈول انھیں نامناسب ای میلیں کر رہی ہیں۔

انہی ای ملیز کی تفتیش کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ جنرل پیٹریئس اور پاؤلا بروڈول کے ’بےقاعدہ ازدواجی تعلقات‘ ہیں۔

اس بات کے منظرِ عام پر آنے کے بعد جنرل پٹریئس اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔