ہوزے موہیکا: دنیا کے سب سے غریب صدر

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 15 نومبر 2012 ,‭ 14:42 GMT 19:42 PST

یہ ایک عام شکایت ہے کہ سیاستدانوں کا طرز زندگی ان کے منتخب کرنے والے عوام سے بہت زیادہ مختلف ہوتا ہے لیکن یوراگوائے میں ایسا نہیں ہے یہاں کے صدر سے ملیے جو ایک چھوٹے اور ٹوٹے پھوٹے گھر میں رہتے ہیں اور اپنی تنخواہ کا زیادہ تر حصہ خیرات کر دیتے ہیں۔

ان کے کپڑے دھونے کی جگہ ان کے گھر کے باہر ہے۔ پانی وہ گھر کے قریب موجود کنویں سے حاصل کرتے ہیں جہاں جنگلی پھول اُگے ہوئے ہیں۔ صرف دو پولیس اہلکار اور تین کتے ان کے گھر کے باہر رکھوالی کے لیے تعینات ہیں۔

یہ یوراگوائے کے صدر ہوزے موہیکا کی رہائش گاہ ہے جن کا طرز زندگی دنیا کے دوسرے زیادہ تر رہنماؤں سے یکسر مختلف ہے۔

صدر موہیکا نے یوراگوائے حکومت کی جانب سے مراعات سے بھرپور رہائش گاہ کو رد کر دیا اور دارالحکومت کی ایک سڑک کے کنارے اپنی بیوی کےگھر میں رہنا پسند کیا۔ وہ اور ان کی اہلیہ خود کھیتوں میں کام کر کے پھول اگاتے ہیں۔

صدر موہیکا کا یہ طرزِ زندگی اور ان کی تنخواہ کا نوے فیصد حصّہ جو بارہ ہزار امریکی ڈالر کے برابر ہے خیرات کیا جانا انہیں دنیا کا سب سے غریب صدر بناتا ہے۔

اپنے باغیچے میں پڑی پرانی کرسی پر بیٹھے وہ کہتے ہیں ’میں نے اپنی زیادہ تر زندگی ایسے ہی گزاری ہے۔ جو کچھ میرے پاس ہے میں اسی کے ساتھ اچھی طرح رہ سکتا ہوں‘۔

ان کی تنخواہ کا بڑا حصہ غریبوں اور چھوٹے تاجروں کی مدد کے لیے مختص ہونے کے بعد ان کی بقیہ تنخواہ ایک یوراگوائے کے ایک عام باشندے کے برابر رہ جاتی ہے جو سات سو پچھہتر ڈالر ماہانہ ہے۔

یوراگوائے کے قانون کے مطابق جب انہوں نے دو ہزار دس میں اپنی سالانہ آمدنی ظاہر کی تو وہ ایک ہزار آٹھ سو ڈالر تھی۔ یہ رقم ان کی انیس سو ستّاسی میں خریدی گئی گاڑی کی قیمت کے برابر ہے۔

اس برس انہوں نے اپنی اہلیہ کے اثاثے بھی ظاہر کیے ہیں جن میں زمین، ٹریکٹرز، اور ایک گھر شامل ہے اور ان سب کی قیمت دو لاکھ پندرہ ہزار ڈالر کے قریب ہے۔

یہ رقم بھی ملک کے نائب صدر کی ظاہر کی گئی دولت کا ایک تہائی حصہ بنتی ہے۔

"اگر آپ کے پاس بہت زیادہ املاک نہیں ہیں تو آپ کو اپنی تمام عمر انہیں قائم رکھنے کے لیے کام نہیں کرنا پڑتا اور اس طرح آپ کے پاس اپنے لیے زیادہ وقت ہوتا ہے۔"

صدر جوس موجیکا

صدر موہیکا سنہ دو ہزار نو میں یوراگوائے صدر منتخب ہوئے۔ وہ سنہ انیس سو ساٹھ اور ستر کی دہائی میں یوراگوائے کی بائیں بازوں کے مسلح گروپ گوریلا ٹوپامسروس کا حصہ رہے۔ انہیں چھ مرتبہ گولی لگی اور وہ چودہ سال جیل میں رہے۔ ان کی سزا کا زیادہ تر وقت سخت حالات اور تنہائی میں گزرا۔ سنہ انیس سو پچاسی میں جمہوریت کی بحالی کے بعد انہیں رہائی ملی۔

صدر موہیکا کے مطابق قید کے انہی برسوں نے ان کی زندگی کی حالیہ شکل کو ترتیب دیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے غریب ترین صدر کہا جاتا ہے لیکن مجھے غربت کا احساس نہیں ہوتا۔ غریب تو وہ ہوتے ہیں جو مہنگا طرز زندگی اپنانے کے لیے کام کرتے ہیں اور ہمیشہ مزید سے مزید کی خواہش کرتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’یہ آزادی کا معاملہ ہے۔ اگر آپ کے پاس بہت زیادہ املاک نہیں ہیں تو آپ کو اپنی تمام عمر انہیں قائم رکھنے کے لیے کام نہیں کرنا پڑتا اور اس طرح آپ کے پاس اپنے لیے زیادہ وقت ہوتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں ’ہوسکتا ہے کہ میں ایک عجیب بوڑھا شحض لگتا ہوں لیکن یہ میرا آزادانہ انتخاب ہے۔‘

یوراگوائے کے رہنما نے ایسی ہی باتیں ری او پلس ٹوئنٹی ممالک کے جون میں ہونے والے اجلاس میں کہی تھیں۔ انہوں نے کہا تھا ’ہم ساری سہ پہر قابلِ تائید ترقی کی باتیں کرتے رہے ہیں، عوام کو غربت سے نکالنے کی باتیں۔ لیکن ہم کیا سوچ رہے ہیں؟ کیا ہم امیر ممالک کی ترقی اور کھپت کو اپنانا چاہتے ہیں؟‘

’میں آپ سے پوچھتا ہوں اگر تمام بھارتی باشندوں کے پاس بھی اتنی ہی گاڑیاں ہوں جتنی جرمن باشندوں کے پاس ہیں تو اس سیارے کا کیا ہوگا؟ ہمارے پاس کتنی آکسیجن رہ جائے گی؟‘

’کیا اس سیارے پر اتنے وسائل ہیں کہ سات یا آٹھ ارب لوگوں کو یکساں کھپت اور اخراج ملے، جیسا کے اس وقت امیر معاشروں میں دیکھا جا سکتا ہے؟ یہ کھپت کی زیادتی ہی ہے جو اس سیارے کو نقصان پہنچا رہی ہے۔‘

یوراگوائے کے محقق لگنیسو زوینسبر کا کہنا ہے کہ’ کئی لوگ صدر موہیکا سے ان کے اندازِ رہائش کے باعث ہمدردی کرتے ہیں لیکن اس کی وجہ سے ان کی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کیا جانا بند نہیں ہوتی۔‘

صدر موجیکا نے یوراگوائے حکومت کی جانب سے مراعات سے بھرپور رہائش گاہ کو مسترد کر دیا اور دارالحکومت کی ایک سڑک کے کنارے اپنی بیوی کے گھر میں رہنا پسند کیا۔

سنہ دو ہزار نو میں انتخاب کے بعد صدر موہیکا کی کی شہرت میں پچاس فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ رواں برس یوراگوائے کے صدر دو متنازعہ اقدامات کے باعث تنقید کا نشانہ بنے۔

ملک کی کانگرس نے حال ہر میں ایک قانون منظور کیا ہے جس کے مطابق بارہ ہفتے کے حمل کو گرائے جانے کو قانونی قرار دیا گیا ہے۔ صدر موہیکا نے اس کے لیے ووٹ نہیں کیا تھا۔

انہوں نے قنب کی کھپت سے متعلق ایک قانونی بحث کی بھی حمایت کی جس کے مطابق قنب کی تجارت میں حکومت کو اجارہ داری حاصل ہوگی۔ ان کا کہنا تھا’قنب کی کھپت زیادہ پریشان کن بات نہیں ہے، اصل مسئلہ منشیات کی تجارت ہے۔‘

تاہم اپنی مقبولیت کی کمی کے باعث انہیں زیادہ پریشانی اس لیے نہیں ہونی چاہیے کیونکہ وہ سنہ دو ہزار چودہ کے انتخابات میں دوبارہ حصہ نہیں لے سکتے۔ اس کے علاوہ وہ ستتر سال کی عمر میں اب وہ سیاست سے ریٹائر ہونے والے ہیں۔

اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں ریاست کی جانب سے پینشن ملے گی اور اپنے محدود خرچ کے باعث کئی سابق صدور کی طرح ان کی آمدنی میں اتنی کمی نہیں ہوگی جس سے انہیں مشکل کا سامنا کرنا پڑے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔