ماسکو کے پردیسی غلام

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 17 نومبر 2012 ,‭ 20:12 GMT 01:12 PST

لیلیٰ دس سال قبل جب ماسکو پہنچیں تو ان کی عمر سولہ برس تھی۔

دو ہفتے قبل انسانی سمگلنگ کے خلاف کام کرنے والے انسانی حقوق کے کارکنوں کو گیارہ ایسے افراد ملے جنھیں بظاہر ماسکو کے ایک بازار میں غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔

روس میں ازبکستان اور قزاقستان سے آئے ہوئے تارکینِ وطن کے ساتھ کتنا برا سلوک کیا جاتا ہے، یہ واقعہ اس کی بدترین مثال ہے۔

ایک خاتون کا کہنا ہے کہ انھیں دکان پر دس برس تک قید رکھا گیا اور ان کی ایک بچی بھی ان سے چھین لی گئی۔

بازیاب ہونے والے ان غلاموں میں سے کچھ اب مرکزی ماسکو کے ایک خیراتی ادارے میں مقیم ہیں۔ یہاں ایک چھ سالہ بچے بخیر نے ہیڈ فون پہنے ہوئے ہیں اور وہ کمپیوٹر پر بچوں کی ویڈیو کے ساتھ ساتھ گا رہا ہے۔

دو ہفتے قبل تک بخیر نے کبھی کمپیوٹر یا ویڈیو کی شکل تک نہیں دیکھی تھی۔ اس نے اپنی تمام زندگی ایک منی مارکیٹ کے تہہ خانے میں چند گز کے رقبے کے اندر گزاری جہاں اس کی ماں کو غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔

ازبکستان سے تعلق رکھنے والی لیلیٰ آشیرووا کو دس سال قبل ماسکو کے مشرقی مضافات میں واقع ایک مارکیٹ میں دکان کے معاون کی حیثیت سے لایا گیا تھا جب ان کی عمر صرف سولہ برس تھی۔

ان کا خیال تھا کہ انھیں تنخواہ ملے گی لیکن ایسا کبھی نہ ہو سکا’جب میں یہاں پہنچی تو پہلے ہی دن انھوں نے میرا پاسپورٹ لے لیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ مالک ایک لڑکی کو بری طرح پیٹ رہی ہے۔ اس نے لڑکی کے بال نوچے اور اسے زور سے لاتیں ماریں۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ میں غلط جگہ پر آ گئی ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ منی مارکیٹ میں بہت زیادہ کام لیا جاتا تھا، کھانا بہت کم ملتا تھا، اور وہ تشدد کے مسلسل خطرے کے سائے تلے رہتی تھیں۔

’دکان دار مجھے بہت پیٹا کرتی تھی۔ ایک بار وہ مجھے لگاتار دو گھنٹے تک پیٹتی رہی۔ میری ٹانگوں، جسم اور چہرے پر اب بھی نشانات ہیں۔ وہ اس وقت بھی مجھے مارتی تھی جب میں حاملہ تھی۔‘

لیلیٰ کے چھ سالہ بیٹے بخیر نے دو ہفتے قبل تک کمپیوٹر یا ویڈیو کی شکل تک نہیں دیکھی تھی۔

لیلیٰ اب دوبارہ حاملہ ہیں۔ ان کے دو بچے پہلے ہی قید کے دوران پیدا ہو چکے ہیں۔ چھ سالہ بخیر کے علاوہ اس کی بچی بھی تھی جس کا نام ڈیانا تھا، لیکن اسے دکان دار نے چھین لیا۔ بعد میں لیلیٰ کو بتایا گیا کہ وہ بالکنی سے گر کر ہلاک ہو گئی ہے۔ لیلیٰ کو یہ بھی معلوم نہیں کہ آیا یہ سچ ہے یا جھوٹ۔

’جب اس نے مجھے کہا کہ میری بیٹی مر گئی ہے تو میرا بدن بالکل سُن ہو گیا۔ میں نے کوئی چیخ پکار نہیں کی اور نہ ہی کسی قسم کے جذبات کا مظاہرہ کیا۔ بس میں نے یہ تہیہ کر لیا کہ مجھے اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ دکان دار سزا سے بچ نہ پائے۔‘

لیلیٰ نے بتایا کہ بچوں کا باپ دکان دار کے خاندان کا ایک مرد تھا۔ انھوں نے جنسی زیادتی کا لفظ استعمال نہیں کیا البتہ یہ ضرور کہا کہ وہ انھیں اکثر زدوکوب کیا کرتا تھا۔

لیلیٰ اس وقت آزاد ہوئیں جب انسانی سمگلنگ کے خلاف کام کرنے والی ایک تنظیم نے منی مارکیٹ پر دھاوا بول دیا۔ دکان کے پیچھے کئی لوگ سو رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ بہت سوں کو دکان کے اگلے دروازے سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔

قاسموف نے اپنی تمام عمر بند کمرے میں گزاری جس سے اسے سوکھے کی بیماری لاحق ہو گئی ہے۔

لیلیٰ کے بیٹے کے علاوہ وہاں دو اور بچے بھی تھے۔ ایک پانچ سالہ بچے کو اس کی تمام عمر ایک فلیٹ میں بند رکھا گیا تھا اور اس نے کبھی سورج کی روشنی نہیں دیکھی تھی۔

میں نے اگلے روز اسے ایک اور پناہ گاہ میں دیکھا۔ بورژان قاسموف اپنی نارمل جسامت سے آدھا لگتا تھا۔ اس کے اعضا سوکھے کی بیماری کی وجہ سے ٹیڑھے میڑھے اور سوجے ہوئے تھے۔

یہ بیماری دھوپ کی کمی سے وٹامن ڈی نہ بننے کے باعث پیدا ہوتی ہے۔ وہ بڑی مشکل سے چل پھر سکتا تھا۔

میں نے لیلیٰ سے پوچھا کہ انھوں نے کسی سے پولیس کو فون کرنے کی درخواست کیوں نہیں کی۔ انھوں نے کہا کہ مقامی پولیس افسروں کو دکان کے مالک رشوت دیتے تھے۔

’جب بھی کوئی لڑکی بھاگ جاتی تو وہ اسے پکڑ لیتے اور پھر بری طرح سے پیٹ ڈالتے۔‘

’حتیٰ کہ جب وہ پولیس سے مدد کی درخواست کرتیں تو ان کی کوئی مدد نہ کی جاتی۔ پولیس والے بس انھیں پکڑ کر واپس مالک کے پاس لے آتے۔ وہ کہتے ’ہم تمہاری لڑکیاں لے آئے ہیں، انھیں واپس لے لو۔ اس لیے ہم پولیس پر اعتبار نہیں کر سکتے تھے۔ ہم بھاگنے سے ڈرتی تھیں کیونکہ ہمیں خوف تھا کہ ہمیں پکڑ کر مارا پیٹا جائے گا۔‘

ہم گذشتہ ہفتے لیلیٰ کے ساتھ روس کے تفتیشی ادارے ان ویسٹی گیٹیو کمیٹی کے پاس گئے لیکن انھوں نے صرف اتنا کیا کہ مقامی پولیس سٹیشن کو فون کر دیا جس کے اہلکاروں کو لیلیٰ نے دکان کے مالک سے رشوت لیتے ہوئے دیکھا تھا۔

مقامی پولیس نے لیلیٰ کو غیرقانونی تارکِ وطن ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

انسانی حقوق کے کارکن طویل بحث کے بعد لیلیٰ کو دوبارہ چھڑانے میں کامیاب ہو گئے۔ البتہ ان کی دس سالہ قید کی تفتیش داخل دفتر کر دی گئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔