تل ابیب کو راکٹوں سے نشانہ بنانے کی کوشش

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 16 نومبر 2012 ,‭ 19:32 GMT 00:32 PST

فلسطینی عسکریت پسندوں نے راکٹوں سے اسرائیل کے سب سے بڑے شہر تل ابیب کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔

تل ابیب میں جمعرات کو حملوں سے خبردار کرنے کے لیے سائرن بجائے گئے اور شہریوں نے محفوظ مقامات پر پناہ بھی لی۔

تاہم اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ شہر کا کوئی علاقہ راکٹ حملے کا نشانہ نہیں بنا جبکہ ایک راکٹ جنوبی شہر رشون لیزون اور دوسرا سمندر میں گرا۔

اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان کے مطابق تل ابیب کی جانب دو راکٹ داغے گئے تھے لیکن دونوں میں سے کوئی نشانے پر نہیں لگا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسلامی جہاد کے مسلح ونگ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایرانی ساخت کا ایک راکٹ تل ابیب پر داغا۔

اسلامی جہاد گروپ نے ایک مختصر بیان میں بتایا کہ ان کی جانب سے داغے گئے راکٹ سے تل ابیب میں زور دار دھماکہ ہوا جس سے شہر لرز گیا۔

واضح رہے کہ سنہ انیس سو اکانوے میں خلیجی جنگ کے دوران اس وقت کے عراقی صدر صدام حسین کی حکومت کی جانب سے اسرائیلی شہر تل ابیب پر داغے جانے میزائلوں کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ تل ابیب کو میزائلوں کے خطرے کا سامنا ہے۔

ویب سائٹ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق جمعرات کو تل ابیب کے گردونواح کے علاوہ بنائی براک، گیواتیم اور رمت گان میں بھی حملوں سے خبردار کرنے کے لیے سائرن بجائے گئے۔

اس سے قبل غزہ سے داغے جانے والے راکٹوں سے جنوبی اسرائیل میں تین افراد ہلاک ہو گئے جبکہ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں دو دن میں اب تک پندرہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔

اسرائیلی حکام کے مطابق اسرائیلی باشندے اس وقت ہلاک ہوئے جب کیرات ملاچی نامی قصبے میں ایک چار منزلہ عمارت راکٹوں کا نشانہ بنی۔

غزہ میں اسرائیل کی طرف سے حماس کے فوجی سربراہ احمد جباری کے قتل کے بعد یہ پہلی اسرائیلی ہلاکتیں ہیں۔

احمد جباری کو بدھ کو اسرائیلی فضائیہ کے طیارے نے میزائل سے نشانہ بنایا تھا اور اس کے بعد سے اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک پندرہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

ان ہلاک شدگان میں زیادہ تعداد عسکریت پسندوں کی ہے لیکن مرنے والوں میں بی بی سی کے ایک کیمرہ مین کے گیارہ ماہ کے بیٹے سمیت متعدد بچے بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق بدھ کے بعد سے اب تک اسرائیلی علاقے پر تین سو راکٹ داغے گئے جن میں سے ایک سو پینتالیس کو میزائل روکنے کے دفاعی نظام نے راستے ہی میں تباہ کر دیا۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتنیاہو نے کہا ہے کہ ان کا ملک شہری ہلاکتوں سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حماس جان بوجھ کر ان میزائلوں اور راکٹوں کا رخ عام آبادیوں کی جانب موڑ رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے تل ابیب میں نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ اسرائیل اور غزہ کے دہشت گردوں کے درمیان کوئی اخلاقی تناسب نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ حماس جان بوجھ کر ہمارے بچوں کو نشانہ بناتا اور اپنے بچوں کے نزدیک راکٹوں کو رکھتا ہے۔

بنیامن نتنیاہو کے مطابق اس حقیقت کے باوجود اسرائیل شہری ہلاکتوں سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔

ادھر برطانیہ کے خارجہ سیکرٹری ولیم ہیگ نے کہا کہ ’حالیہ بحران کی بڑی حد تک ذمے دار حماس ہے۔‘ انھوں نے طرفین پر زور دیا کہ وہ ایسے کسی بھی اقدام سے احتراز کریں جس سے شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو یا جس سے بحران میں اضافہ ہو۔‘

اسی دوران مصری صدر محمد مرسی نے اسرائیلی فضائی حملوں کی مذمت کی اور اسرائیل سے سفیر کو واپس بلوا لیا۔ قاہرہ میں اسرائیل کے خلاف درجنوں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق حماس کے سیاسی قائد خالد مشعل نے اسرائیل کے خلاف ’مزاحمت‘ جاری رکھنے کا تہیہ کیا ہے۔ دریں اثنا فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سوئٹزرلینڈ کا دروہ مختصر کر کے بحران سے نمٹنے کے لیے مغربی کنارے پہنچ گئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔