غزہ میں کارروائیاں، مصر کے لیے امتحان کی گھڑی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 16 نومبر 2012 ,‭ 13:25 GMT 18:25 PST

مصر کو غزہ کے شہریوں سے ہمدردی اور اسرائیل سے اپنے تعلقات کا تحفظ کرنا ہے

غزہ اور شمالی اسرائیل کا منظر تقریباً ایک جیسا ہے۔ بدقسمتی سے دونوں جگہوں میں انسانی جانوں کا ضیاع بہت زیادہ ہوا ہے۔ البتہ پچھلی دفعہ جب اس خطے میں اسی طرح کی صورتحال پیدا ہوئی تھی تو مشرق وسطیٰ کی سیاسی صورتحال انتہائی مختلف تھی۔

ابھی تک یہ اندازہ لگانا انتہائی دشوار ہے کہ موجودہ حالات خطے کی سیاسی صورتحال پر کیا اثرات مرتب کریں گے۔

اسرائیل نے حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ کو ہلاک کرنے سے پہلے اس بات کا اندازہ لگانے کی یقیناً کوشش کی ہوگی کہ عرب دنیا کا ردعمل کیا ہوگا۔

عرب دنیا میں آنے والی تبدیلی کی لہر کے بعد مشرق وسطیٰ بالخصوص مصر میں حالات انتہائی بدل چکے ہیں اور وہاں ایک ایسی جماعت سے تعلق رکھنے والے شخص صدر کے عہدے پر فائز ہو چکے ہیں جن کی جماعت، اخوان المسلمین اور فلسطینی تنظیم حماس کا آپس میں نظریاتی لگاؤ ہے۔

صدر حسنی مبارک کےدور میں جب بھی ایسی صورتحال پیدا ہوتی تھی تو مصر کی اولین ترجیح امریکہ کے ساتھ اپنےسٹرٹیجک تعلقات کی حفاظت کرنا ہوتا تھا۔ مصر کے امریکہ کے ساتھ سٹرٹیجک تعلقات میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات انتہائی اہم ہیں۔ ماضی میں اسرائیل اور مصر کے ساتھ تعلقات کئی مرتبہ سرد مہری کا شکار تو ہوئے لیکن ختم نہیں ہوئے۔

"مصر میں لوگ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل نے فلسطینیوں پر نامناسب جبر روا رکھا ہوا ہے اور وہ ان کی جائز قومی خواہشات کی تکمیل کے راستے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اسی طرح اسرائیلی عوام میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ ساری عرب دنیا اسرائیلی ریاست کی مخالف ہے۔"

مصری صدر محمد مرسی کو امریکہ کے ساتھ سرٹیجک تعلقات ورثے میں ملے ہیں لیکن انہیں امریکہ کے ساتھ تعلقات اور حماس کے ساتھ ہمدردی کے درمیان توازن پیدا کرنا ہے جو یقیناً آسان نہیں ہے۔

قاہرہ کی یونیورسٹی میں پولیٹکل سائنس کے پروفیسر حسن نفا سمجھتے ہیں کہ یہ عین ممکن ہے کہ حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ کو ہلاک کرنے کا مقصد یہ پتہ لگانا ہو کہ مصر اور حماس کے تعلقات کتنے مضبوط ہیں۔

پروفیسر حسن نفا سمجھتے ہیں کہ موجودہ صورتحال صدر مرسی کے لیے انتہائی مشکل ہے۔ ایک طرف تو انہیں سخت ردعمل ظاہر کرنا ہے لیکن وہ حالات کو مزید خراب بھی نہیں کرنا چاہیں گے۔ ’وہ یقیناً سخت رد عمل ظاہر کریں گے لیکن بہت سوچ سمجھ کر۔‘

ابھی تک محمد مرسی کی حکومت نے جس ردعمل کا مظاہرہ کیا ہے وہ سابق صدر حسنی مبارک کے دور میں بھی سامنے آتا رہا ہے لیکن فرق صرف اس کی رفتار میں ہے۔

اسرائیل کے حملے کے چند گھنٹوں کے اندر مصر نے اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔ مصری سفیر کو اسرائیل سے واپس بلانا کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں ہے۔ سابق صدر حسنی مبارک نے بھی کئی بار ایسا کیا لیکن محمد مرسی نے یہ کام بہت سرعت کے ساتھ کیا۔

مصر نے نہ صرف اسرائیل میں اپنے سفیر کو واپس بلایا بلکہ قاہرہ میں اسرائیل کے سفیر کو دفترِ خارجہ طلب کر کے احتجاج کیا اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل اور عرب لیگ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی کارروائیوں کا نوٹس لیں۔

مصر کے پاس کوئی ایسا طریقہ نہیں تھا کہ وہ اسرائیل کو سوچنے پر مجبور کرتا۔ مصر نے کافی سوچ بچار کے بعد اپنے وزیر اعظم کو غزہ کے شہریوں سے اظہار ہمدردی کے لیے غزہ روانہ کیا۔ مصری وزیر اعظم کی غزہ میں موجودگی سے اسرائیل کے لیے غزہ میں اپنی کارروائیاں جاری رکھنا مشکل ہو جائےگا۔

محمد مرسی ابھی تک اپنے نقادوں کےاندازوں سے کہیں زیادہ لچکدرا ثابت ہوئے ہیں لیکن اگر جمہوری مصر میں اسرائیل کے خلاف نفرت اور فلسطینیوں کےساتھ ہمدردی بڑھتی رہی تو شاید وہ اپنی خارجہ پالیسی کے کچھ پہلوؤں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔