حماس ہیڈکوارٹر پر حملہ، چار روز میں 33 فلسطینی ہلاک

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 17 نومبر 2012 ,‭ 05:01 GMT 10:01 PST

اسرائیل کی جانب سے غزہ پر چوتھے روز بھی فضائی حملے جاری رہے اور ہفتے کو غزہ میں حماس کے ہیڈ کوارٹر کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق حماس کے ہیڈ کوارٹر کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ یاد رہے کہ مصری وزیر اعظم ہشام قندیل نے جمعہ کو حماس ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا تھا۔

اس سے قبل اسرائیل نے پچھہتر ہزار ریزرو فوج کے اراکین کو تیار رہنے کا حکم دیا تھا۔

جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب کو اسرائیل کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی لیکن ہفتے کی صبح غزہ دھماکوں کی آوازوں سے گونج اٹھا۔

اسرائیل نے پچھہتر ہزار ریزرو فوج کے اراکین کو تیار رہنے کا حکم دیا ہےاور غزہ پر کارروائیوں میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ فیصلہ حماس کی جانب سے یروشلم پر راکٹ داغے جانے کے بعد کیا گیا۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’آج غزہ میں سکون نہیں ہو گا۔‘

اسرائیل نے غزہ پر بدھ کے روز سے فضائی حملے شروع کیے ہیں اور اور چار دن کی کارروائیوں میں تینتیس فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس سے پہلے حماس کے عسکریت پسندوں نے راکٹ سے یروشلم کو نشانہ بنایا تاہم وہ راکٹ یروشلم کے قریب گرا۔ واضح رہے کہ اس شہر کو دہائیوں میں پہلی بار نشانہ بنایا گیا ہے۔

حماس کی جانب سے اسرائیل پر داغے گئے راکٹوں سے تین اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کو فون کیا اور ایک بار پھر اسرائیل کے ’دفاع کا حق رکھنے‘ کی حمایت کی۔

"امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کو فون کیا اور ایک بار پھر اسرائیل کے ’دفاع کا حق رکھنے‘ کی حمایت کی۔ دونوں رہنماؤں نے کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے بھی بات چیت کی۔ "

وائٹ ہاؤس کے ترجمان

وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے بھی بات چیت کی۔

دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے غزہ میں زمینی کارروائی کی افواہیں گردش کر رہی ہیں لیکن اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب اسرائیل نے فضائی حملہ کر کے حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ احمد جباری اور ان کے نائب کو ہلاک کر دیا تھا۔

اسرائیلی اخبار کے مطابق یروشلم کی جانب داغا جانے والا راکٹ جنوبی حصے میں گرا۔ اخبار کے مطابق سنہ انیس سو ستر کے بعد پہلی بار یروشلم کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسرائیلی پولیس حکام کے مطابق جمعرات کو ملک کے سب سے شہر تل ابیب کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ سنہ انیس سو اکیانوے میں خلیجی جنگ کے دوران اس وقت کے عراقی صدر صدام حسین کی حکومت کی جانب سے اسرائیلی شہر تل ابیب پر داغے جانے میزائلوں کے بعد تل ابیب کو میزائلوں کے خطرے کا سامنا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حماس کے عسکریب پسندوں نے ایسے طاقتور میزائلوں کا استعمال پہلی بار کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق بدھ کے بعد سے اب تک اسرائیلی علاقے پر پانچ سو پچاس راکٹ داغے گئے جن میں سے ایک سو چوراسی کو اسرائیل کے میزائل شکن دفاعی نظام نے راستے ہی میں تباہ کر دیا۔

ترجمان کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں چھ سو سے زائد جگہوں کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل نے جمعہ کو شام غزہ جانے والے تین راستوں کو بند کر دیا تھا۔

اسرائیل میں ایسی افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ غزہ پر زمینی حملہ یقینی ہے تاہم اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ابھی ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔