اوباما کی جیت کی وجہ اقلیتوں کو تحائف: رومنی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 16 نومبر 2012 ,‭ 12:38 GMT 17:38 PST
مٹ رومنی

مٹ رومنی کو شاید نہیں معلوم تھا کہ صحافی ان کی باتیں سن رہے ہیں

امریکی صدارتی انتخابات میں شکست خوردہ ری پبلکن امیدوار مٹ رومنی کا کہنا ہے کہ صدر اوباما نے اقلیتی طبقے کے لیے بہت سے تحائف کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ سے رومنی ہار گئے۔

بدھ کے روز مسٹر رومنی نے عطیہ دہندگان سے بات چيت میں کہا کہ صدر اوباما نے ہسپانوی، افریقی امریکن اور نوجوانوں ووٹروں کو بہت سی چیزیں دیں جو ان کی جیت کا اہم سبب بنیں۔

انتخابی نتائج کے وقت شکست تسلیم کرنے کے بعد سے مسٹر رومنی کا یہ پہلا بیان ہے۔ چھ نومبر کے صدارتی انتخابات میں اوباما کے مقابلے مٹ رومنی کو شکست ہوئي تھی۔

اسی ہار پر بات چيت اور پارٹی کے مستقبل کے لائحۂ عمل پر غور و فکر کے لیے ری پبلکن پارٹی کےگورنر ریاست نواڈا کے شہر لاس ویگس میں جمع ہوئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق اسی میٹنگ کے دوران مٹ رومنی نے کہا ’اوباما کی مہم میں پرانی پلے بک کے مطابق ان گروپوں کو بہت سی چیزیں دینے کی بات کی گئی جو ان کے لیے ووٹ لا سکتے تھے، خاص طور افریقی امریکی برادری، ہسپانوی برادری اور نوجوان لوگوں کو۔‘

انہوں نے کہا کہ بعض ووٹرگروپ کے لیے صحت سے متعلق اوباما کا نیا قانون ’ کیئر ایکٹ‘ بہت زیادہ متاثر کن تھا۔ ’سیاہ فام امریکی رائے دہندگان کے لیے اوباماکیئر' ایک اضافی چیز اور رغبت دلانے کا اہم ذریعہ تھا۔‘

مٹ رومنی نے کہا’ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ جو شخص پچيس یا تیس ڈالر یا سالانہ پینتیس ہزار ڈالر کماتا ہو اس سے یہ کہا جائے کہ آپ کو مفت صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ خاص طور پر اگر کسی کے پاس صحت کا بیمہ نہیں ہے اور اسے ایک لاکھ ڈالر کی مفت سہولیات ملیں گي تو یہ بہت بڑی بات ہے۔‘

"آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ جو شخص پچيس یا تیس ڈالر یا سالانہ پینتیس ہزار ڈالر کماتا ہو اس سے یہ کہا جائے کہ آپ کو مفت صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ خاص طور پر اگر کسی کے پاس صحت کا بیمہ نہیں ہے اور اسے ایک لاکھ ڈالر کی مفت سہولیات ملیں گي تو یہ بہت بڑی بات ہے۔"

گورنر رومنی نے کہا کہ اوباما نے غیر قانونی طور پر تارکینِ وطن کے بچوں کو جو قانونی طور پر امریکہ میں رہنے کی اجازت دی، اس سے بھی ہسپانوی ووٹر ان کی طرف راغب ہوئے۔

اپنی شکست کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنے آپ میں کسی بھی طرح کی کوئی کمی یا خامی نہیں بتائی۔ انہوں نے اپنی مہم کو اچھا بتایا اور کہا کہ ان کی ٹیم نے زبردست کام کیا۔

اخبار ’لاس انجلس ٹائمز‘ نے لکھا ہے کہ شاید مٹ رومنی اس بات سے با خبر نہیں تھے کہ وہ جو بھی کہہ رہے ہیں اسے صحافی بھی سن رہے تھے۔

انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا کہ یہ سوچنا ابھی مشکل ہے کہ وہ مستقبل میں کیا کریں گے۔ ’ماضمی میں جو ہوا اس سے ہم اب بھی پریشان ہیں۔ مستقبل کے لیے سارے منصوبوں کو یجکا کرنا بہت مشکل ہے۔‘

نواڈا میں جمع ہونے والے پارٹی کےگورنروں کا کہنا ہے کہ آئندہ دو ہزار سولہ کے انتخابات کے لیے پارٹی کو بہت سے سبق سیکھنے ہوں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔