’امریکی قونصلیٹ پر حملہ دہشتگرد حملہ تھا‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 17 نومبر 2012 ,‭ 07:50 GMT 12:50 PST

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سابق سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریئس نے کانگریس کی انٹیلیجنس کمیٹی کو بتایا ہے کہ لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی قونصلیٹ پر حملہ دہشتگردی تھی۔

یہ بات انہوں نے جمعہ کو دی گئیں دو بریفنگز کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی بیانات میں سے اس بات کو نکال دیا گیا تھا تاکہ وہ گروہ چوکس نہ ہو جائیں جن پر ہمیں شک ہے کہ انہوں نے قونصلیٹ پر حملہ کیا تھا۔

جنرل پیٹریئس نے کمیٹی کو بتایا کہ انہوں نے عہدے سے استعفیٰ غیر ازدواجی تعلقات رکھنے کی بنا پر دیا نہ کہ بن غازی حملے کے باعث۔

کمیٹی ممبران نے بریفنگ کی شروع میں ان کے غیر ازدواجی تعلقات کے بارے میں سوالات کیے لیکن اس کے بعد وہ مطمئین ہو گئے کہ ان تعلقات کی وجہ سے قومی سلامتی کو نقصان نہیں پہنچایا۔

یاد رہے کہ گیارہ ستمبر کو بن غازی میں امریکی قونصلیٹ پر حملے میں امریکی سفیر سمیت چار امریکی ہلاک ہوگئے تھے۔

اگرچہ یہ بریفنگ بند کمرے میں کی گئی تھی لیکن کمیٹی ممبران نے میڈیا کو اس بریفنگ کے بارے میں بتایا۔

بریفنگ کے پہلے سیشن کے بعد کانگریس کے ممبر پیٹر کنگ نے میڈیا کو بتایا کے ڈیوڈ پیٹریئس نے کہا کہ سی آئی اے کو معلوم تھا کہ امریکی قونصلیٹ پر حملے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

تاہم پیٹر کنگ کا کہنا تھا کہ پیٹریئس کا یہ بیان ان کے چودہ ستمبر کو دیے گئے بیان سے مختلف ہے۔

انہوں نے کہا کہ چودہ ستمبر کو پیٹریئس نے کہا تھا کہ قونصلیٹ پر حملہ منصوبہ بندی کے تحت نہیں بلکہ توہین آمیز فلم کے خلاف مظاہرہ پرتشدد ہو گیا تھا۔

پیٹر کنگ نے کہا کہ سی آئی اے کے سابق سربراہ کی بریفنگ سے یہ بات واضح نہیں ہے کہ کس نے کہا تھا کہ یہ واقعہ مظاہرین کے بے قابو ہو جانے کے باعث ہوا۔

جنرل پیٹریئس نے بریفنگ میں بتایا کہ دہشت گرد گروہوں کا ذکر انتظامیہ کے حتمی بیان میں سے خارج کردیا گیا تھا لیکن ان کو یہ نہیں معلوم کہ کس دیڈرل ایجنسی کے کہنے پر ایسا کیا گیا۔

ڈیموکریٹ جماعت کے ممبران نے میڈیا کو بتایا کہ جنرل پیٹریئس کہ بیان سے یہ صاف ظاہر ہے کہ بیان میں تبدیلی سیاسی وجوہات کی بنا پر نہیں بلکہ انٹیلیجنس وجوہات کی بنا پر کی گئی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔