حزبِ اختلاف کے رہنما کا انتخاب، دھاندلی کا الزام

آخری وقت اشاعت:  پير 19 نومبر 2012 ,‭ 01:46 GMT 06:46 PST

فرانسواں کوپے کو دائیں بازو کا امیدوار سمجھا جاتا ہے جو یو ایم پی کے سیکرٹری جنرل رہ چکے ہیں۔

فرانس کی حزبِ اختلاف کے رہنما کے لیے ہونے والے انتخاب میں دونوں امیدواروں نے اپنی اپنی جیت کا اعلان کر دیا ہے، جب کہ اسی دوران دھاندلی کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔

دائیں بازو کے امیدوار ژاں فرانسوا کوپے اور سابق وزیرِ اعظم فرانسوا فیوں کے درمیان صرف چند سو ووٹوں کا فرق ہے۔دونوں امیدوارں کا تعلق یو ایم پی (یونین فار پاپولر موومنٹ) سے ہے، اور دونوں کے حامیوں نے دھاندلی کا الزام لگایا ہے۔

مئی میں صدارتی انتخابات میں نکولس سارکوزی کی شکست کے بعد پارٹی کا کوئی سربراہ نہیں تھا۔کوپے 2010 سے اس قدامت پسند پارٹی کے سیکریٹری جنرل رہے ہیں، جب کہ ان کے حریف سرکوزی کے دور میں پانچ سال تک وزیرِ اعظم کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔

پارٹی کے تین لاکھ ارکان میں سے پچاس فیصد سے زائد نے حقِ رائے دہی استعمال کیا، جو توقعات سے زیادہ ہے۔

جب ابتدائی نتائج سامنے آئے تو کوپے کو معمولی برتری حاصل تھی، جس نے ان سیاسی تجزیہ کاروں کو حیران کر دیا جنھیں توقع تھی کہ سابق وزیرِ اعظم جیت جائیں گے۔ انتخاب سے پہلے ہونے والے رائے عامہ کے جائزوں میں انھیں مستقل برتری حاصل رہی تھی۔

دونوں حریفوں کے درمیان ہونے والا مقابلہ خاصا تلخ تھا۔ ساحلی شہر نیس سے حتمی نتائج آنے کے باوجود کوپے کی ٹیم نے دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

یو ایم پی کے ایک ڈپٹی میئر جو کوپے کے حامی ہیں، کہتے ہیں کہ ایلپیز میری ٹائمز کے علاقے کے انتخابی مراکز میں ’کئی بے قاعدگیاں‘ ہوئی ہیں۔ پیرس کے ایک انتخابی مرکز میں پارٹی کے ایک عہدے دار نے شکایت کی ہے کہ پارٹی کی فہرست میں موجود ووٹروں کی تعداد سے 40 ووٹ زیادہ ڈالے گئے ہیں۔

ایک فرانسیسی ٹی وی چینل کے مطابق فیوں کی ٹیم نے بھی ایک شکایت درج کروائی ہے۔

آر ٹی ایل ریڈیو کی اطلاع کے مطابق کل 650 انتخابی مراکز کھولے گئے تھے اور ووٹروں کی بڑی تعداد کی وجہ سے فرانسوا فیوں کو اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک انتظار کرنا پڑا۔

فرانسوا فیوں (بائیں) اور ژاں فرانسوا کوپے ٹیلی ویژن پر ایک مباحثے کے دوران۔

دونوں امیدواروں کا اس بارے میں خاصا اختلاف موجود ہے کہ وسط دائیں بازو کی پارٹی یو ایم کا مستقبل میں کیا لائحۂ عمل ہونا چاہیے۔

فیوں کی عمر 58 برس ہے اور وہ 2007 سے 2012 تک صدر سارکوزی کی حکومت میں وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ انھیں ژاں فرانسوا کوپے کے مقابلے پر زیادہ متین اور بردبار رہنما سمجھا جاتا ہے۔

کوپے کی عمر 48 سال ہے اور انھیں زیادہ دائیں بازو کا سمجھا جاتا ہے۔ گذشتہ ماہ انھوں نے ایک منشور تیار کیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مضافاتی جتھے سفید فام افراد کے خلاف نسلی تعصب کو ہوا دے رہے ہیں۔

فاتح جو بھی ہو، اسے شدید مالی مشکلات کا شکار پارٹی وراثت میں ملے گی۔ پارٹی کو گذشتہ پانچ برسوں میں کئی صدموں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جو اس سال سارکوزی کی شکست اور ان کے سوشلسٹ حریف فرانسوا اولوند پر منتج ہوئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔