آپریشن کا دائرہ بڑھانے کے لیے تیار ہیں: نتنیاہو

آخری وقت اشاعت:  اتوار 18 نومبر 2012 ,‭ 14:42 GMT 19:42 PST

اسرائیلی حملوں کا پانچواں دن

غزہ پر اسرائیلی حملوں کے پانچویں دن فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ بحری جہازوں سے بھی میزائل داغے گئے ہیں جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتنیاہو کا کہنا ہے ان کا ملک غزہ میں اپنی کارروائیوں میں ’قابلِ ذکر‘ اضافے کے لیے تیار ہے۔

غزہ میں طبی حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں اتوار کو مزید چھ افراد اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنے ہیں اور مرنے والوں میں ایک ہی خاندان کے دو بچے بھی شامل ہیں۔

فلسطینی علاقے سے اسرائیل پر راکٹ حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے اور اشکیلون نامی شہر پر راکٹ گرنے سے متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

’پلر آف ڈیفینس‘ نامی اسرائیلی کارروائی میں اب تک مجموعی طور پر باون افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ حماس کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملوں کے نتیجے میں تین اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔

متحارب فریقین کے ذرائع نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے اتوار کو کہا ہے کہ امریکہ اسرائیل کے اپنے تحفظ کے حق کی مکمل طور پر حمایت کرتا ہے۔

تھائی لینڈ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہم اسرائیل کی اس معاملے میں مکمل حمایت کرتے ہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے گھروں، کام کاج کی جگہوں اور لوگوں کی ہلاکت کا سبب بننے والے میزائلوں کے خلاف اپنا دفاع کرے اور ہم اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت جاری رکھیں گے‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ بات بھی سچ ہے کہ ہم خطے کے تمام فریقوں کے ساتھ بڑے سرگرم ہوکر کام کررہے ہیں یہ دیکھنے کے لیے کیا ہم یہ میزائل حملے بند کراسکتے ہیں، اس طرح سے کہ خطے میں مزید تشدد نہ پھیلے‘۔

برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اسرائیل غزہ میں زمینی کارروائی کرتا ہے تو اسے عالمی حمایت سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں۔تاہم سکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حالیہ تنازع کی اصولی ذمہ داری حماس پر ہی عائد ہوتی ہے۔

’پلر آف ڈیفینس‘ نامی اسرائیلی کارروائی میں اب تک مجموعی طور پر باون افراد ہلاک ہو چکے ہیں

اسرائیلی وزیراعظم نے اتوار کو کابینہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کسی بھی کارروائی کے لیے تیار ہے۔’اسرائیلی ڈیفینس افواج اس آپریشن کے دائرۂ کار میں قابلِ ذکر اضافے کے لیے تیار ہیں‘۔

تازہ اسرائیلی حملوں میں ذرائع ابلاغ کی دو عمارتیں بھی نشانہ بنی ہیں اور ان حملوں میں آٹھ فلسطینی صحافی زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان عمارتوں میں سے ایک میں غیر ملکی صحافیوں کی موجودگی سے آگاہ تھے اور وہ ان کا ہدف نہیں تھے۔

ٹوئٹر پر شائع ہونے والے پیغام میں اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ انہوں نے صرف ایک انٹینا سمیت مخصوص سازوسامان کو نشانہ بنایا تاہم روسی ٹی وی نیٹ روک رشیا ٹوڈے کے مطابق حملے میں ان کے دفتر کو نقصان پہنچا ہے۔

حملے میں نشانہ بننے والی عمارتوں میں سے ایک حماس کے ٹی وی سٹیشن القدس کے علاوہ سکائی نیوز اور آئی ٹی این کے بھی زیرِاستعمال تھی۔ اسی عمارت میں ایک سال قبل تک بی بی سی کا دفتر بھی تھا۔

غزہ میں طبی حکام کا کہنا ہے کہ پانچ روزہ اسرائیلی کارروائی میں اب تک گیارہ بچوں سمیت باون فلسطینیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ غزہ میں ہسپتال زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں اور ان ہسپتالوں میں طبی سپلائی کم پڑ رہی ہے۔

اتوار کو اسرائیل کے تجارتی صدر مقام سمجھے جانے والے شہر تل ابیب میں مسلسل چوتھے دن بھی راکٹ حملوں سے متنبہ کرنے والے سائرن بجائے جاتے رہے۔ اسرائیلی پولیس کے مطابق شہر پر داغے گئے دو راکٹ حفاظتی نظام کی مدد سے تباہ کیے گئے ہیں۔

تاہم غزہ سے داغا گیا ایک راکٹ اشکیلون میں ایک رہائشی عمارت پر گرا جس سے متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔

ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب کو بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا تھا کہ غزہ میں ایک درجن سے زیادہ دھماکے سنائی دیے۔ ان کے مطابق یہ میزائل جنگی بحری جہازوں سے فائر کیے گئے تھے۔

اسرائیل کے وزیر داخلہ ایلی یشئی نے اسرائیلی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا ہے ’آپریشن پلر آف ڈیفنس کا مقصد غزہ کو پتھر کے زمانے میں واپس بھیجنا ہے۔ اور پھر ہی اسرائیل میں اگلے چالیس سال تک سکون رہے گا۔‘


جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں

اسرائیل کے غزہ پر حملوں اور حماس کے اسرائیلی علاقے پر راکٹ باری کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تنازع کے حل کے لیے عالمی سطح پر سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔

فرانس کے وزیرِ خارجہ لورین فیبیئس اتوار کو اسی سلسلے میں اسرائیل پہنچے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ فریقین پر فوری جنگ بندی کے لیے زور دیں گے۔


عرب لیگ کے قاہرہ میں منعقد ہونے والے ہنگامی اجلاس میں ایک نمائندہ وفد غزہ کے دورے پر بھجوانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے جس کی قیادت عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل العربی کریں گے۔

اس وفد کے دورے کا مقصد غزہ کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا اور انسانی ہمدردی کے تحت امداد کی فراہمی کا جائزہ لینا ہے اور اس بحران میں پیش آنے والی مزید تبدیلیوں کا جائزہ لینا ہے۔

اس وفد میں عراق، لبنان اور فلسطینی انتظامیہ کے وزیر خارجہ شامل ہوں گے ہوں گے جن کی قیادت عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل العربی کریں گے۔

اسی طرح قاہرہ میں ہی حماس کے سربراہ خالد مشعال، قطر کے امیر، ترکی کے وزیر اعظم اور مصر کے صدر کے درمیان چار فریقی مذاکرات بھی ہو رہے ہیں۔

حماس کے اعلیٰ ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ حماس کا وفد قاہرہ میں ترکی کی جانب سے پیش کیے گئے ایک مجوزہ جنگ بندی کے منصوبے کا جائزہ لے رہا ہے۔

مصر کے صدر محمد مرسی نے کہا کہ ’اس بات کے کچھ اشارے ہیں کہ غزہ میں شاید جلد جنگ بندی ہو لیکن اس کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی‘۔

ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردغان نے مذاکرات سے پہلے کہا کہ ’حماس پر انگلی اٹھانا اسرائیل کی غزہ پر حملہ کرنے کی ایک چال ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل دنیا میں تین افراد کی ہلاکت کی بات کر رہا ہے مگر حقیقت میں یہ اسرائیل ہے جس نے ’جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔‘

غزہ تنارع نے حالات بدل دیے

پچھلے ہفتے کے اواخر میں لگتا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان تشدد میں سے اثر ختم ہو رہا تھا۔

دونوں ایک دوسرے پر تنازعے کو شروع کرنے کا الزام عائد کر رہے تھے اور سوموار تک مصر کی طرف سے جنگ بندی کی ایک تجویز کی بات ہو رہی تھی۔

لیکن اس کے بعد اسرائیل کی جانب سے حماس کے فوجی شعبے کے سربراہ احمد الجباری کے قتل نے حالات کو ڈرامائی انداز میں بدل کر اسے ایک عالمی بحران میں تبدیل کر دیا اور اس کے بعد آنے والی ہر چیز پر بھی اس کا اثر پڑا۔

یہ بحران خصوصی طور پر بہت خطرناک ہے کیونکہ انیس سو پچاس کے بعد سے پہلی بار مشرق وسطیٰ بہت غیر متوازن ہے۔

اضطرابی تبدیلیاں ماضی کے یقینی حقائق کی جگہ لے رہی ہیں اور بہت سارے پرانے چہرے جا چکے ہیں۔

فلسطین کی سرحد کے باہر زرا نظر دوڑائیں تو اندازہ ہو گا کہ شام ایک گہری خانہ جنگی کا شکار ہے جبکہ لبنان جس کے شام سے گہرے روابط ہیں اس کا اثر لیے بغیر نہیں رہ سکتا۔

دوسری طرف اردن میں مظاہرین وہ نعرے لگا رہے ہیں جو تیونس، مصر، لیبیا، شام اور تمام دوسری جگہوں پر استعمال کیے جا چکے ہیں کہ لوگ نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

سرحد پار نطر دوڑائیں

فلسطین کی سرحد کے باہر زرا نظر دوڑائیں تو اندازہ ہو گا کہ شام ایک گہری خانہ جنگی کا شکار ہے جبکہ لبنان جس کے شام سے گہرے روابط ہیں اس کا اثر لیے بغیر نہیں رہ سکتا۔

دوسری طرف اردن میں مظاہرین وہ نعرے لگا رہے ہیں جو تیونس، مصر، لیبیا، شام اور تمام دوسری جگہوں پر استعمال کیے جا چکے ہیں کہ لوگ نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

اسی طرح مصر میں حسنی مبارک نامی صدر نہیں ہے جس پر ایسے وقت میں امریکہ اور اسرائیل حالات کو توازن میں رکھنے کے لیے انحصار کرتے۔

حقیقت یہ ہے کہ وہ اس وقت مظاہرین کے قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

ان کے جمہوری طور پر منتخب ہونے والے جانشین محمد مرسی کا تعلق اخوان المسلین سے ہے جس تنظیم نے سیاسی اسلام کی بنیاد رکھی اور اس کو ترویج دی۔

اخوان کی شاخوں میں حماس بھی شامل ہے جس کے لیے مصر کی موجودہ حکومت نے بہت زیادہ حمایت کا اظہار کیا ہے لیکن فی الحال یہ صرف لفظی حمایت تک ہی محدود ہے۔

ترکی بھی مصر کے موقف کی حمایت کر رہا ہے لیکن درپردہ دونوں جنگ بندی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں مگر ان دونوں کی حمایت حماس کو اگر ضرورت پڑی تو اس معاملے کو جاری رکھنے کا اعتماد دلائیں گی۔

عرب دنیا میں پچھلے دو سال کے دوران آنے والے تغیر نے اسرائیل اور فلسطین کے تنازعے کو پس پشت ڈال دیا لیکن جب باقی تمام دنیا کی توجہ بٹی ہوئی تھی تو یہ مسئلہ بڑھ رہا تھا لیکن کبھی بھی اوجھل نہیں ہوا تھا۔

اصل بات یہ ہے کہ ایک پر تشدد بحران، حتیٰ کہ ایک نئی جنگ کے قریب ترین ایک حقیقت مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ہمہ تن موجود تھی۔

اسرائیل نے پچھتر ہزار فوجی ریزروز کو متحرک کرنے کا حکم دیا ہے تو حماس تل ابیب اور یروشلم کے اسرائیلی حصے کی جانب میزائیل داغ کر گہری چوٹ لگانے کی بھر پور کوشش کر رہا ہے۔

اب تک جو کچھ ہوا ہے وہ کسی لحاظ سے بھی اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑی گئی دو ہزار نو کی جنگ کے سطح پر نہیں ہے۔

لیکن اگر امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے بظاہر پرملال گزارشات کو جنہیں وہ شدت میں کمی کہتے ہیں دونوں جانب سے نظر انداز کیا جاتا رہا تو یہ یقیناً جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔


تصاویر

  • اسرائیلی کی جانب سے غزہ پر کارروائی کے پانچویں روز اسرائیل نے فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ بحری جہازوں سے بھی غزہ میں میزائل داغے ہیں۔
  • اسرائیلی کارروائی میں اب تک 48 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ حماس کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملوں کے نتیجے میں تین اسرائیلی ہلاک ہوئے۔
  • ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تازہ حملوں میں ایک ہی خاندان کے دو بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔
  • اسرائیل کا کہنا ہے کہ کہ غزہ سے راکٹ حملوں کو بند کرنے کے لیے اب بھی غزہ میں سینکڑوں اہداف ایسے ہیں جن کو نشانہ بنانا باقی ہے۔
  • اسرائیل نے میڈیا کمپلیکس کو بھی نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں چھ صحافی زخمی ہوئے ہیں۔
  • اسرائیل کی جانب سے آپریشن پلر آف ڈیفنس کے پانچویں روز بھی فضائی حملے جاری رہے۔
  • اسرائیل کے وزیر داخلہ ایلی یشئی نے اسرائیلی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا ’آپریشن پلر آف ڈیفنس کا مقصد غزہ کو پتھر کے زمانے میں واپس بھیجنا ہے۔ اور پھر ہی اسرائیل میں اگلے چالیس سال تک سکون رہے گا۔‘
  • سرائیلی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں سے حماس کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ لیکن ان کا مزید کہنا ہے کہ حماس کی عسکری صلاحیت کو ختم کرنے کے لیے زمینی کارروائی ضروری ہے۔


لوگوں کی کہانیاں

اس خطے کے لوگ یہ بیان کر رہے ہیں کہ وہ اس جنگ سے کس طرح متاثر ہوئے ہیں۔

جمعہ شام سات بج کر پچاس منٹ: غزہ

غزہ میں بی بی سی کے نمائندے جون ڈونیسن کہتے ہیں کہ فضائی بمباری کی آوازیں مسلسل جاری ہیں۔

دیما مشعل کا ٹوئٹر پر پیغام: میرے گھر کے قریب بہت بڑا دھماکا۔ میرے خدا، ایسا لگتا ہے کہ جیسے زلزلہ آ گیا ہو۔

رانا کا ٹوئٹر پر پیغام: دھماکوں کا سلسلہ۔ تمام غزہ پر اسرائیلی ڈرونوں کی تعداد میں اضافہ۔

ایمان سوران کا ٹوئٹر پر پیغام: دھماکوں کی آوازیں تیز تر، تیز تر ہوتی جا رہی ہیں۔

جمعہ ساڑھے چھ بجے شام: یروشلم

لوسی کوہن: میں لندن کی رہنے والی ہوں لیکن گذشتہ پندرہ سولہ برسوں سے یروشلم میں رہتی ہوں۔ اپنے سولہ سالہ قیام کے دوران میں نے آج تک ہوائی حملے نہیں دیکھے تھے۔

میں جانتی تھی کہ ہوائی حملے سے خبردار کرنے والے سائرن بجائے جا رہے ہیں، لیکن مجھے توقع نہیں تھی کہ یہ یہاں بھی ہو سکتے ہیں۔ ہم مغربی کنارے سے بہت قریب رہتے ہیں۔ مجھے یقین نہیں آ رہا کہ انھوں نے یہاں راکٹ داغے ہیں۔

جمعہ پونے چھ بجے شام: یروشلم

حماس کا کہنا ہے کہ انھوں نے یروشلم پر ایک راکٹ داغا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اس مقدس شہر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

امیت منشروف کی ای میل: یروشلم میں الارم۔ ہم سب پناہ گاہ میں ہیں۔ ہمیں ابھی تک نہیں معلوم کہ کیا ہو رہا ہے۔

کیتھرین وائبل کا ٹوئٹر پر پیغام: یروشلم میں لوگ صدمے کی حالت میں ہیں۔ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ اس شہر کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے جس کے آدھے حصے میں فلسطینی رہتے ہیں۔

جمعہ ساڑھے پانچ بجے شام: جافہ، اسرائیل

خواتین برائے امن کی کارکن لیہی روتھ چائلڈ: میں نے آج تل ابیب میں ڈیڑھ بجے ایک دھماکے کی آواز سنی۔ میں اسرائیلی ہوں لیکن میں نے آج مغربی کنارے کے بیلین گاؤں میں غزہ پر حملوں کے خلاف ایک مظاہرے میں شرکت کی۔

ہم ہر جمعے کو غزہ پر قبضے کے خلاف مظاہرے کرتے رہتے ہیں۔ بہت سے اسرائیلی، فلسطینی اور دوسری ملکوں کے لوگ پر امن مظاہرہ کرنے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔

تاہم چونکہ اس وقت یہ سب کچھ ہو رہا ہے اس لیے آج کے مظاہرے کے لیے بہت لوگ جمع ہوئے تھے۔ احتجاج میں دو سو کے لگ بھگ لوگ تھے۔ اسرائیلی فوج ہمیشہ ہمارے احتجاج کو دبا دیتی ہے۔ آج فوج نے ہمارے خلاف آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں استعمال کیں، لیکن ہم نے وہاں سے چلے جانے کے غیر قانونی احکامات کو ماننے سے انکار کر دیا۔

جمعہ سوا چار بجے: تل ابیب

سیسیلیا: ہم نے تل ابیب کے مرکز میں ایک راکٹ کے دھماکے کی آواز سنی۔ لوگ دہشت زدہ تھے اور ایک ریستوران کے اندر رو رہے تھے۔

میں ایک تجزیہ کار اور مشرقِ وسطیٰ کے امور کی ماہر ہوں اور میں یہاں حماس پر تحقیق کرنے آئی ہوں۔ مجھے خدشہ ہے کہ سبت کی وجہ سے مزید راکٹ آئیں گے کیوں کہ یہ یہودیوں کا مقدس دن ہے۔

جمعہ چار بجے: غزہ

ماجد ابوسلمہ کا ٹوئٹر پر پیغام: میں اپنے دوست کے باپ کے جنازے میں جا رہا ہوں جسے کل شہید کیا گیا تھا۔ وہ ایک استاد تھے اور اس وقت حملے کی زد میں آ گئے جب وہ زخمیوں کی عیادت کے لیے جا رہے تھے۔

مریم ابو عامر کا ٹوئٹر پر پیغام: جب بھی میں دھماکے کی آواز سنتی ہوں تو میں خاموشی سے چیختی ہوں تاکہ میرے ارد گرد بچے نہ ڈریں۔

جمعہ چار بجے: غزہ

کارمیل، عمر 17 سال: آج بڑے دھماکے سنے گئے۔ مقامی ہسپتال لوگوں سے خون کا عطیہ دینے کی درخواست کر رہا ہے کیوں کہ بہت سے لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

گذشتہ رات میں نے لوگوں کو چیختے اور روتے دیکھا۔ اسرائیلی حملوں میں بہت سے عام شہری اور بچے مارے گئے ہیں۔

میں نے اپنے چھوٹے بھائی کو بتایا کہ یہ آتش بازی کی آوازیں ہیں۔ میں انھیں پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔

اسرائیل نے فلسطینیوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے گھروں سے نکل جائیں۔ میری دادی کو فون پر ایس ایم ایس آیا کہ اگر آپ حماس کے کسی رکن کو جانتی ہیں تو اس سے دور رہیں۔

وہ فون بھی کرتے ہیں۔ اس لیے فلسطینی ایک دوسرے سے ان نمبروں کے بارے میں بات کر رہے ہیں تاکہ اگر ان نمبروں سے فون آئے تو اسے نہ اٹھایا جائے۔

ہر دو منٹ کے بعد ایک بم دھماکا سنائی دیتا ہے، اس لیے ہم گھر سے باہر نہیں نکل سکتے۔ ہم نے ایک مہینے کی خوراک ذخیرہ کر لی ہے تاکہ ہمیں گھر سے باہر نہ نکلنا پڑے۔

جمعہ ایک بج کر چالیس منٹ: تل ابیب

اسرائیل کے شہر تل ابیب میں ہوائی حملے کے سائرن سنے جا سکتے ہیں۔ شہر کے لوگ اس بارے میں کا ٹوئٹر پر پیغامات بھیج رہے ہیں:

شلومت شپیرا: تل ابیب میں دو منٹ پہلے سائرن بجا ہے۔

ڈیوڈ شین: ابھی ابھی ایک راکٹ گرنے کی آواز آئی ہے۔ میں ٹھیک ہوں۔

نوم مینٹل: ایک اور میزائل کا سائرن اور ایک زوردار دھماکا۔

جمعہ ایک بجے: تل ابیب کے قریب

الانا برگشاجل: میں تین سال پہلے اسرائیل منتقل ہوئی ہوں۔ میری ماں اسرائیلی ہے لیکن میں لندن کی ہوں۔ میری عمر 26 سال ہے اور میں یہاں ایم اے کر رہی ہوں۔

عام طور پر راکٹ حملوں کے وقت ہم پناہ کے لیے سیڑھیوں کے نیچے چلے جاتے ہیں۔ عام طور پر یہ حملے جلد ہی ختم ہو جاتے ہیں لیکن اس بات صورتِ حال مختلف ہے۔

اب ہر چند منٹوں کے بعد دھماکے ہو رہے ہیں۔ میں نے ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا۔

فلسطینی علاقوں کا خاکہ

فلسطینیوں کی ایک کروڑ سے زائد کی آبادی دو حصوں میں بٹ گئی ہے جس کا ایک حصہ تاریخی فلسطین کے علاقوں میں جبکہ دوسرا حصہ پڑوسی عرب ممالک میں تارکین وطن کی حیثیت سے مقیم ہے۔

اسرائیل کے ساتھ مسلسل چپقلش اور تارکین وطن فلسطینیوں کی حیثیت پر محاذ آرائی کی وجہ سے غزہ اور غرب اردن میں فلسطینی ریاست قائم کرنے کی کوششیں ناکام ہوگئیں ہیں۔

سنہ انیس سو اڑتالیس میں اسرائیل کی طرف سے آزادی کا اعلان کرنے کے بعد ہونے والی جنگ میں فلسطینی علاقے اسرائیل، شرق الاردن اور مصر کے درمیان تقسیم کیے گئے۔ غرب اردن، اردن اور غزہ مصر کے زیر انتظام رہا۔ فلسطین کی قومی تحریک بتدریج غرب اردن، غزہ اور پڑوسی ملکوں میں قائم مہاجرین کے کیمپوں میں شروع ہوئی۔

سنہ انیس سو سڑسٹھ کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ سے کچھ ہی عرصہ پہلے تحریک آزادی فلسطین (پی، ایل، او) ایک بڑی نمائندہ تنظیم کی حیثیت سے سامنے آئی۔

حقائق

  • آبادی: چار کروڑ چالیس لاکھ (اقوام متحدہ، 2010)
  • مستقبل کا دارالحکومت: مشرقی یروشلم (رملہ انتظامی دارالحکومت ہے)
  • رقبہ:5970 مربع کلو میٹر،غرب اردن 2305 اور غزہ 365 مربع کلو میٹر( فلسطین کی وزارت اطلاعات)
  • بڑی زبان: عربی
  • بڑے مذاہب: اسلام ، عیسائیت
  • اوسط عمر: مرد: 73 سال ، عورت:76 سال (اقوام متحدہ)
  • سکہ: 1 اردن دینار= 1000 فلز، 1 اسرائیلی شیکل= 100 اگاراٹ
  • برآمدات: سیٹرس(مالٹا، لیموں)
  • کل قومی آمدنی فی کس: 1230 امریکی ڈالر(عالمی بینک 2007 )
  • انٹرنیٹ ڈومین: پی ایس
  • بین الاقوامی ڈائلنگ کوڈ: 970 +

یاسر عرفات کی سربراہی میں تحریک آزادی فلسطین کو دھیرے دھیرے بین الاقوامی سطح پر فلسطینی عوام کی نمائندہ تنظیم کے طور پر تسلیم کیا گیا جس کی وجہ سے تحریک آزادی فلسطین اور اسرائیل کے درمیان انیس سو ترانوے میں اوسلو معاہدہ بھی ہوا۔ اس معاہدے کے تحت غرب اردن اور غزہ کے علاقوں کا عبوری انتظام سنبھالنے کے لیے فلسطین کی قومی اتھارٹی قائم کی گئی لیکن باہمی طور پر قابل قبول حل نہ ہونے کی وجہ سےاتھارٹی میں مشرقی یروشلم کا علاقہ شامل نہیں تھا۔

علاقے میں جاری تشدد اور اسرائیل کی طرف سے آباد کاری جیسے مسائل نے مستقل بنیادوں پر حل تلاش کرنے کے عمل کو متاثر کیا جس کی وجہ سے طرفین نے کیے گئے معاہدوں کی اہمیت پر سوال اٹھائے۔ حماس تحریک، جس نے سنہ دو ہزار سات میں غزہ کا کنٹرول سنبھالا، اوسلو معاہدے کو کھلے عام رد کرتی ہے۔

فلسطین کی قومی اتھارٹی، تحریک آزادی فلسطین کی ایک ایجنسی کے طور پر کام کرتی ہے اور بین الاقوامی اداروں میں فلسطین کے لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے۔

فلسطین کی قومی اتھارٹی کا سربراہ ایک براہ راست منتخب کیا گیا صدر کرتا ہے جو وزاعظم اور حکومتی اہل کاروں کو بھی تعینات کرتا ہےاس کے لیے منتخب قانون ساز کونسل کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس اتھارٹی کی سویلین اور سکیورٹی عمل داری شہری علاقوں جسے علاقہ ’اے‘ کہتے ہیں تک محدود ہے۔ جبکہ دیہی علاقے جسے علاقہ ’بی‘ کہتے ہیں، میں اتھارٹی کی صرف سویلین عمل داری ہوتی ہے۔

اسرائیلی کنٹرول

اسرائیل کو وادیِ اردن، اسرائیلی آبادی اور بائی پاس سڑکوں پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور اس کی فورسز مسلح افراد کا پیچھا کرتے ہوئے شہری علاقوں میں بھی داخل ہوتی ہیں۔

تحریک آزادی فلسطین کا ایک فتح نامی گروہ سنہ دو ہزار چھ تک اتھارٹی چلاتا رہا۔ اس کے بعد قانون ساز کونسل کے انتخابات حماس نے جیت لیے۔ اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور حماس کی حکومت کے درمیان خراب تعلقات کی وجہ سے فتح اور حماس تنظیموں کے درمیان خونریزی کے بعد حماس نے جون سنھ دو ہزار سات میں غزہ کےاقتدار پر قبضہ کر لیا اور صدر محمود عباس نے حماس کی حکومت تحلیل کر دی۔ تب سے فلسطینی اتھارٹی کے علاقے غرب اردن فتح کے زیر اتنظام ہے اور غزہ حماس کے کنٹرول میں ہے۔ مصر کی طرف سے دونوں فلسطینی دھڑوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے لیکن ابھی تک کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

فلسطینی ریاست

فلسطینی اتھارٹی نے سنہ دو ہزار گیارہ میں اقوم متحدہ سے ’فلسطینی ریاست‘ کو تسلیم کرانے کی کوشش کی تھی جس کا مقصد اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں ٹھہراؤ کو بھی اجاگر کرنا تھا۔ حمایت نہ ہونے کی وجہ سے یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی لیکن ثقافت اور تعلیم کے لیےاقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے ’فلسطین ریاست‘ کو اکتوبر میں تسلیم کیا۔

غرب اردن میں اکتوبر سنہ دو ہزار بارہ میں ہونے والے انتخابات میں فتح کی پوزیشن خراب ہوئی کیوں کہ انھیں قانون ساز کونسل میں صرف چالیس فیصد نشستیں ملیں۔ انتخابات میں پچپن فیصد ووٹروں نے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا۔ فتح کو گیارہ میں سے بڑے شہروں کی چار نشستیں ملی جب کہ آزاد اور بائیں بازوں کے نمائندوں کو نشستوں کا پانچواں حصہ ملا۔ حماس نے غرب اردن میں انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور غزہ میں انتخابات نہیں کروائے۔

علاقے میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے فتح کی سربراہی میں فلسطین کی قومی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان بین الاقوامی تعاون سے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے لیکن یروشلم جسے دونوں طرفین اپنے ملک کا دارالحکومت کے طور پر مانتے ہیں، فلسطینی تارکین وطن اور اسرائیلی آباد کاری جیسےمسائل مستقل حل کی طرف پیش رفت میں رکاوٹ ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی نے سنہ دو ہزار گیارہ میں اقوام متحدہ سے ’فلسطینی ریاست‘ کو تسلیم کرانے کی کوشش کی تھی جس کا مقصد اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں ٹھہراؤ کو بھی اجاگر کرنا تھا۔ حمایت نہ ہونے کی وجہ سے یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی لیکن ثقافت اور تعلیم کے لیےاقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے ’فلسطین ریاست‘ کو اکتوبر میں تسلیم کیا۔

بہرحال اسرائیل اور حماس کے ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت سے انکار اور پر تشدت جھڑپیں اور بین الاقوامی سطح پر سردمہری کی وجہ سے علاقے میں دیر پا امن کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔

بڑے رہنما

محمود عباس

فلسطینی اتھارٹی کے سابق وزارعظم اور فتح تنظیم کے صدارتی امیدوار محمود عباس نے جنوری دو ہزار پانچ میں انتخابات جیت کر مرحوم فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی جگہ لے لی اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر بن گئے۔

محمود عباس ابو میزان کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ یاسر عرفات کی موت کے بعد وہ تحریک آذادی فلسطین یا (پی ایل او) سربراہ بن گئے تھے۔ وہ سنہ انیس سو انہتر سے یاسر عرفات کے نائب کے طور پر کام کر رہے تھے۔

محمود عباس سنہ انیس سو پینتیس میں سفید نامی علاقے میں پیدا ہوئے جو آج کے شمالی اسرائیل میں ہے۔ انھوں نے یاسر عرفات کے ساتھ مل کر انیس سو پچاس میں فتح تنظیم کی بنیاد ڈالی۔

انھوں نے سنہ انیس سو ستر کی دہائی میں بائیں بازو کے اسرائیلیوں سے رابطے قائم کیے۔ محمود عباس کو سنہ انیس سو ترانوے کے اوسلو معاہدے کا خالق سمجھا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت فلسطینی اتھارٹی قیام میں آئی۔

اسماعیل ہنیہ

حماس کے سب سے زیادہ جانے پہچانے رہنما اسماعیل ہنیہ ہیں۔ وہ سنہ دو ہزار چھ کے انتخابات میں فلسطینی اتھارٹی کے وزیراعظم منتخب ہوئے اور اب وہ غزہ میں حماس کی طرف سے انتظامیہ کے سربراہ ہیں۔

اسماعیل ہنیہ سنہ انیس سو باسٹھ میں غزہ کے شمال میں شاطی علاقے میں واقع ایک مہاجر کیمپ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے حماس تنظیم میں ترقی کی اور سنہ دو ہزار چھ میں قانون ساز کونسل کے انتخابات میں کامیابی کے بعد صدر محمود عباس نے انھیں وزیراعظم تعینات کیا لیکن جلد ہی ان کی حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب بین الاقوامی رفاہی اداروں نے ان کی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے یہ شرط رکھی کہ حماس تشدد کا راستہ ترک کرے اور اسرائیل کو تسلیم کرے۔

حماس اور فتح کے درمیان محاذ آرائی کے بعد صدر محمود عباس نے ان کی حکومت تحلیل کردی۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔