روہنگیا آبادی کو قومی دھارے میں شامل کریں: اوباما

آخری وقت اشاعت:  پير 19 نومبر 2012 ,‭ 10:01 GMT 15:01 PST

اوباما برما کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی صدر ہیں

امریکہ کے صدر براک اوباما نے اپنے برما کے دورے کے دوران کہا ہے کہ ملک میں سیاسی اصلاحات کو یقینی بنانے کے لیے امریکہ اپنی حمایت جاری رکھے گا۔

رنگون میں خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا ہے کہ مغربی برما میں روہنگیا مسلمانون اور بودھ مذہب کے ماننے والوں کے درمیان نسلی تشدد کا کوئی جواز نہیں ہے۔

صدر اوباما نےکہا کہ برما میں نسلی تشدد کی خطرات کے بارے میں منتبہ کیا ہے۔

اسی دوران صدر اوباما نے برما کی عوام سے اپیل کی روہنگیا مسلمانوں کو ملک کے قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ کئی مہینوں نے برما کے مغرب میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات کی خبریں آئی ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں کو برما کے شہریت کا حق حاصل نہیں ہے۔

امریکی صدر براک اوباما دوسری مدت کے لیے صدر منتخب ہونے کے بعد پیر کو ایک تاریخی دورے پر برما پہنچے ہیں۔ یہ کسی بھی امریکی صدر کا دورِ اقتدار میں رہتے ہوئے برما کا پہلا دورہ ہے۔

اس دورے کا مقصد نومبر 2010 میں فوجی اقتدار کے خاتمے کے بعد برما کے صدر تھان سین کی طرف سے شروع کردہ اصلاحات کے عمل کی حمایت کا اظہار ہے۔

رنگون میں برما کے صدر تھان سین سے ملاقات کے بعد براک اوباما کا کہنا تھا کہ برما میں کی گئی اصلاحات ایک طویل سفر کا نقطۂ آغاز ہیں اور انہیں امید ہے کہ صدر تھان سین جمہوریت کی جانب سفر جاری رکھیں گے۔

رنگون یونیورسٹی میں خطاب کرتے صدر اوباما

صدر اوباما نے رنگون میں برما کے صدر تھان سین سے ملاقات کی ہے

ان کا کہنا تھا کہ برما پر عائد پابندیوں کا مکمل خاتمہ ملک میں حقوقِ انسانی کی صورتحال میں بہتری سے جڑا ہوا ہے۔

اس موقع پر برمی صدر نے کہا کہ ’بات چیت کے دوران ہم نے میانمار میں جمہوریت کی ترقی اور حقوقِ انسانی کو عالمی معیار پر لانے پر اتفاق کیا ہے۔ ہم امریکہ کے ساتھ مل کر اپنے اہلکاروں کی استعداِد کار میں اضافے اور سماجی ترقی کے لیے کام کرتے رہیں گے‘۔

براک اوباما نے برمی صدر کے علاوہ حزبِ اختلاف کی رہنما آنگ سان سوچی سے بھی ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ہے۔

صدر اوباما نے دورے سے قبل برما کے رہنماؤں پر زور دیا تھا کہ وہ اصلاحات جاری رکھیں تاہم ابھی مزید پیش رفت کی ضرورت ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ دورہ عجلت میں کیا جا رہا ہے کیونکہ برما میں اب بھی سیاسی قیدی موجود ہیں اور نسلی تنازعات اب بھی حل طلب ہیں۔

گزشتہ ایک سال میں سیاسی اصلاحات کے بعد، امریکہ اور مغربی ممالک نے برما کے خلاف عائد پابندیوں میں کمی کی ہے۔

" برما پر عائد پابندیوں کا مکمل خاتمہ ملک میں حقوقِ انسانی کی صورتحال میں بہتری سے جڑا ہوا ہے۔"

براک اوباما

ماضی میں امریکی حکام نے برما سے اس بات کی بھی یقین دہانی مانگی تھی کہ انھوں نے ملک کو شمالی کوریا سے دور کر لیا ہے۔ سنہ دو ہزار دس میں افواہوں کے ایک سلسلے کے مطابق دونوں ممالک جوہری ٹیکنالوجی پر مل کر کام کر رہے تھے۔

انسانی حقوق کی چند تنظیموں نے امریکی صدر پر تنقید کی ہے کہ صدر برما کی اصلاحات مکمل ہونے سے پہلے ہی اسے نواز رہے ہیں۔ تنظیموں کے مطابق اگرچہ سیاسی رہنماؤں کو رہا کیا گیا ہے تاہم ابھی بھی ملک میں تین سو سیاسی قیدی ہیں۔

برما کے دورے کے بعد وہ کمبوڈیا میں علاقائی اتحاد آسیان کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔

صدر اوباما کی کوشش ہے کہ وہ امریکی خارجہ پالیسی کو ایشیا کی جانب مرکوز کریں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ خطے میں چین کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم امریکی حکام کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ چین کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔