مشرق وسطی کے پریس کو غزہ پر حملے کا خدشہ

آخری وقت اشاعت:  پير 19 نومبر 2012 ,‭ 17:52 GMT 22:52 PST
غزہ

غزہ پر تازہ اسرائیلی حملہ جاری ہے اور ابھی تک سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مشرق وسطی کے اخبارات کے سامنے دو سوالات ہیں۔ پہلا یہ کہ کیا سفارتکاری کے ذریعے غزہ تصادم کا سیاسی حل ہو پائے گا یا پھر اسرائیل زمینی حملے کے بارے میں فیصلہ کریگا؟

زیادہ تر اخبارات کا خیال ہے کہ زمین کے راستے حملہ کرنا تباہ کن ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی زیادہ تر مبصرین کا یہ خیال ہے کہ پہلی بار جب اسرائیل نے یہ ایسا قدم اٹھایا تھا تو اس وقت سے آج تک دنیا کافی بدل چکی ہے اور ان کا خیال ہے کہ اب اسرائیل کو کوئی حمایت حاصل نہیں ہوگی۔

کئی مبصرین کا کہنا ہے کہ فلسطینی گروہوں کو ایسے موقعے سے اپنے اختلافات بھلا دینے چاہیں اور حماس کو تنگ نظری کے ساتھ صرف اپنے مفاد کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے۔

منتخب ٹھکانوں پر حملہ یا کھلے عام جنگ؟

اسرائیل میں کافی مقبول اخبار یدیعوت احرونوت کے الیکس فش مین کا کہنا ہے کہ: ’وقت کے خلاف ایک دوڑ جاری ہے۔ ملٹری آپریشن میں اضافے کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر کسی نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش جاری ہے اور دونوں کی امید برابر ہے۔

نتنیاہو کے حامی اخبار اسرائیل ہایوم کے ڈین مارگلت کا کہنا ہے: 'اسرائیل زمینی حملے سے بچنا چاہتا ہے۔ نتنیاہو اور براک بڑے پیمانے پر حملے کے بجائے سرجیکل سٹرائیک کے حامی ہیں۔ اس آپریشن کو توسیع دینے سے بچنے کے لیے اسرائیل کو اس ضمن میں سنجیدہ تیاری کی ضرورت ہے۔ جو سرجیکل حملے کے خواہاں ہیں انہیں تمام طرح کی جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘

یدیعوت احرونوت کے ناحوم برنیا کے مطابق: ’حکومت اس مسئلے میں پریشان کن حالات سے دوچار ہے کہ کس طرح وہ جیت کے احساس کے ساتھ باہر نکلے۔ وہ اس کے بارے میں غزہ میں کیا کہیں گے، عالم عرب سے کیا کہیں گے اور دو ماہ میں ہونے والے انتخبات میں ووٹر کیا کہیں گے؟ اور اعتماد اور اعتبار کا کیا ہوگا؟ پیش روؤں کو جو مرحلہ درپیش تھا وہی انہیں بھی ہے کہ شروع کرنا تو آسان ہے لیکن اس سے نکلنا مشکل۔‘

ہارتز میں لیکود حکومت کے سابق وزیر دفاع موشے ارینس کا کہنا ہے: ’اگر چہ زمینی جنگ میں دہشتگردوں کے راکٹ کے ذخیروں کو تباہ بھی کر دیا جاتا ہے تو ان دہشتگردوں کو راکٹوں کی دوبارہ فراہمی حکومت اور اسرائیل کو پریشان کرتی رہے گی۔‘

معارف کے شیلوم یروشلمی کا کہنا ہے: ’یہ جنگ ایک ہفتے میں ختم ہو جائيگی کیونکہ اسے دنیا جاری نہیں رہنے دے گی۔ ہم لوگ دوہزار نو والے آپریشن ’کاسٹ لیڈ‘ کے دور میں نہیں ہیں۔ آج ہم براک اوباما کے ساتھ ہیں جنھوں نے نیویارک ٹائمز کے توسط سے زمینی آپریشن پر اپنا منفی تاثر دیا ہے۔ ہمیں تمام لوگوں کے مفاد میں اسے ختم کرنا شروع کر دینا چاہیے۔‘

جنگ میں اضافے کا خوف

فلسطینی انتظامیہ کے اخبار الحیات الجدجدہ کے حفیظ البارغوثی نے کہا: ’اس جارحیت میں زمینی جنگ کو روکنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس میں فلسطینی کافی تعداد میں جاں بحق ہونگے اس سے کوئی غرض نہیں کہ فتح کا پرچم حماس کا کوئی شخص اٹھا رہا ہے یا نہیں یا اس تحریک کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے یا نہیں۔‘

فلسطین کے فتح کے حامی اخبار الایام میں سمیہ شبیب نے کہا: ’اس بات کا خدشہ ہے کہ اگر اسرائیل غزہ میں اپنا آپریشن بڑھاتا ہے تو اس سے حماس اور اسلامی جہاد کے تمام بنیادی ڈھانچے تباہ ہو جائیں گے۔۔۔ اور یہ کہ حزب اللہ اسلامی جہاد کی جانب سے اسرائیل کے خلاف میدان میں اتر آئے گا اور یہ کہ حماس یروشلم، تل ابیب اور دوسرے شہروں میں ایک بار پھر سے خود کش حملے شروع کر دیگا۔‘

غزہ میں اسلامی نیشنل سالویشن پارٹی کے ہفتے میں دوبار نکلنے والے اخبار صالح النعامی کہ کہنا ہے: ’نتنیاہو کو یہ اندازہ ہے کہ اگر ٹیلی ویژن پر خواتین اور بچوں کے کٹے ہوئے اعضا نظر آئے تو شاید یورپ بھی اپنی حمایت بدل دے۔۔۔ وہ زمینی جنگ کی بجائے تازہ تصادم کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔‘

دنیا

مصر کے اخبار الاہرام میں لکھا گیا ہے: ’عالمی سطح پر فلسطین کے مسئلے کی اہمیت میں کمی فلسطینیوں میں موجود اختلاف ہے۔ فلسطین کی محرومیوں کو ختم کرنے میں مصر کو کلیدی کردار ادا کرنا ہے۔‘

شام کے حامی اخبار السفیر میں مصطفی لباد نے کہا ہے: ’فلسطینی قوم میں اتحاد اب نہیں ہے۔ غزہ پر جارحیت کو روکنے کے لیے عملی اقدام لینے ہونگے۔ محاصرے کو ختم کرنا ہوگا اور فلسطین قوم میں حقیقی اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔‘

لبنان کے اخبار الانوار میں رؤف شاہوری نے لکھا ہے: ’اسرائیل کا اہم مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ عرب انقلاب کے آنے سے قبل جو حالات تھے وہی قائم ہیں۔ وہ عرب والے ممالک کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ انھیں ایک جانب امریکہ اور اسرائیل کے امن اور دوسری جانب امریکہ کی منظوری، تعاون کے جاری رہنے اور نئی حکومت کو تحفظ فراہم کرنے کے درمیان سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔