صدر اوباما نے برما کا رُخ ہی کیوں کیا؟

آخری وقت اشاعت:  پير 19 نومبر 2012 ,‭ 17:23 GMT 22:23 PST
صدر اوباما برما میں

دوسری بار امریکہ کا صدر منتخب ہونے کے بعد براک اوباما کا پہلا غیر ملکی دورہ برما سے شروع ہوا۔

صدر کے پہلے دور میں ان کی انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی توجہ کا مرکز مشرق وسطیٰ اور افغانستان بنے ہوئے تھے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اب ان کے لیے ایشیا بہت اہم رہے گا۔

صدر کے قومی سلامتی کے مشیر تھامس ای ڈونلین نے کچھ روز پہلے اس بارے میں کہا تھا کہ ’ہم اپنے توازن میں تبدیلی لا کر ایشیا کی جانب جا رہے ہیں شمال مشرقی ایشیا میں تو پہلے ہی ہم نے کافی سرمایا کاری کی ہوئی تھی لیکن اب ہم آسیان اور جنوب مشرقی ایشیا پر خاص توجہ دے رہے ہیں۔‘

امریکی صدر کا برما کا دورہ صرف چھ گھنٹے جاری رہا لیکن پھر بھی یہ بہت اہم ہے۔ پچھلے سال تک برما عالمی برادری میں تنقید کا نشانہ بنا رہا اور وہ فوجی حکمرانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے ایک نا پسندیدہ اور غیر جمہوری ملک تصور کیا جاتا تھا۔

یہ کسی امریکی صدر کا برما کا پہلا دورہ ہے۔ اوباما انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس دورے کا بڑا مقصد ان جمہوری اصلاحات کی حمایت کرنا ہے جو صدر تھئن سین نے برما میں شروع کی ہیں لیکن ایک اور مقصد یہ بھی ہے جس کا ذکر نہیں کیا جاتا اور وہ ہے برما میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر کو کسی طرح کم کرنا۔

"امریکی صدر کا برما کا دورہ صرف چھ گھنٹے جاری رہا لیکن پھر بھی یہ بہت اہم ہے۔ پچھلے سال تک برما عالمی برادری میں تنقید کا نشانہ بنا رہا اور وہ فوجی حکمرانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے ایک نا پسندیدہ اور غیر جمہوری ملک تصور کیا جاتا تھ"

برما اور چین کے تعلقات کی تاریخ بہت زیادہ خوشگوار نہیں ہے اور دونوں کے تعلقات عسکری ساز و سامان کے فروخت اور چینی سرمایہ کاری پر مبنی رہے ہیں۔ اس تعلق کے بارے میں برما کے فوجی حکمرانوں تک کو تحفظات رہے ہیں۔

دورے کا مقصد امریکہ ’جہموری اصلاحات کی حمایت‘ بیان کر تو رہا ہے لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، سیاسی قیدی موجود ہیں اور نسلی تشدد جاری ہے۔ اوباما انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صدر ان سارے مسائل کا ذکر کریں گے تاکہ ان کو نمایاں بنایا جا سکے۔

دورے پر تنقید کرنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ شاید یہ دورہ قبل از وقت کیا گیا ہے کیونکہ اصلاحات کا عمل پچھلے سال ہی شروع ہوا تھا اور اس پر امریکہ اپنے لیے کوئی خاص مطالبات نہیں منوا سکا۔

صدر اوباما اور حزب اختلاف کی رہنما  آن سان سوچی

صدر اوباما حزب اختلاف کی رہنما آن سان سوچی سے ملنے ان کے گھر گئے

برما کی حکومت نے کچھ روز پہلے چار سو باون قیدیوں کے لیے معافی کا اعلان کیا تھا لیکن ان میں وہ افراد شامل نہیں تھے جن کو سیاسی بنیادوں پر حراست میں رکھا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے اندازے کے مطابق ایسے افراد کی تعداددو سو اسی اور تین سو تیس کے درمیان ہے۔

تھائی لینڈ کے دار الحکومت بینکاک میں ہیومن رائٹس واچ کے فِل رابرٹسن کا کہنا تھا کہ ’برما کی حکومت نے کچھ قیدیوں کو رہا کر دیا جن میں کوئی سیاسی قیدی شامل نہیں۔ یہ تو دورے کے لیے کوئی اچھی ابتدا نہیں‘۔

برما میں اقتدار اور سیاسی اصلاحات کے بارے میں اب بھی بہت کچھ واضح نہیں ہے۔ فوج کا کردار کتنا کم ہو سکا ہے اور برما کے موجودہ صدر اصلاحات میں کتنے سنجیدہ ہیں، ان سوالات کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ اوباما انتظامیہ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ یہ ان کے لیے خطے میں اپنا اثر زیادہ بڑھانے کا اچھا موقع ہے جسے وہ گنوانا نہیں چاہتے۔ صدر اوباما کے مشیر تھامس ڈونیلون کے مطابق ’ہم کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اس میں پیش قدمی رک بھی سکتی ہے اور یہ عمل پیچھے کی طرف بھی جا سکتا ہے، لیکن یہ واقعی ایک اہم مرحلہ ہے اور ہم اس موقع کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔