برطانیہ: ذہنی مریض یا بھوتوں کا سایہ

آخری وقت اشاعت:  منگل 20 نومبر 2012 ,‭ 22:39 GMT 03:39 PST

مدثر خان کا کہنا ہے کہ عامل کے ’عمل‘ سے وہ ٹھیک ہوئے جبکہ میڈیکل علاج سے انھیں کوئی فرق نہیں پڑا تھا

برطانیہ میں ماہرین صحت، سماجی کارکن اور قانون و انصاف کے اداروں سے منسلک افراد بعض اقلیتوں میں پائے جانے والے جن بھوتوں کا انسانوں پر سایہ ہونے کے عقائد کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نئی تحقیق کے مطابق برطانیہ میں کچھ ایشیائی نژاد لوگ ذہنی بیماریوں کو بھوت پریت کا سایہ سمجھتےہیں۔

ابو محمد ایک عامل ہیں جو مشرقی لندن میں اپنے گھر میں آلتی پالتی مار کر بیٹھے ہیں۔ ان کے ارد گرد قرآن کے نسخے، زیتون کے ڈبے اور پانی سپرے کرنے والی بوتل پڑی ہے جنھیں ’جن‘ کے اوپر استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے ہاں آنے والے اکثر لوگوں پر جن بھوتوں کا سایہ ہوتا ہے۔

ابو محمد راکی کے نام سے جانے جاتے ہیں جن سے ملنے کے لیے بہت سے آسیب زدہ لوگ مہینوں تک اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ عامل ایک گھنٹے کے سیشن کے لیے ایک آسیب زدہ شخص سے60 پاؤنڈ فیس لیتے ہیں۔

ان کے پاس آئے ہوئے ایک آسیب زدہ شخص 41 سالہ مدثر خان ہیں۔ مدثر خان کا کہنا ہے کہ ان پر کئی برسوں سے ’جن‘ کا سایہ ہے جس کی وجہ سے ان کے جسم پر بوجھ ہوتا ہے جس سے وہ بیمار رہتے ہیں اور ان کو نیند بھی نہیں آتی۔

ماضی میں مدثر خان ڈیپریشن کے لیے دوا لے رہے تھے اور ان پر خوف کے دورے بھی پڑتے تھے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ جنات نے ادویات کا اثر زائل کر دیا تھا لیکن عامل ابو محمد کے پاس آنے سے ان کو سکون ملا۔

ان کا کہنا ہے کہ’اپنے خاندان کے سامنے اس بات کو ثابت کرنے کے لیے میں ڈاکٹروں کے پاس جاتا رہا۔ اگر میں نہ جاتا تو وہ سوچتے کہ میں ذہنی مریض ہوں۔‘

" ہمیں معلوم ہوا جب لوگوں کو ڈیپریشن یا انزائٹی ہوتی ہے تو انھیں لگتا ہے کہ یہ نفسیاتی مسئلہ ہےتو وہ اس کا اعلاج کرتے ہیں۔جب وہ شدید بیمار ہوجاتے ہیں۔جیسا کہ کانوں میں آوازیں آنا۔ تو وہ کسی اور طرف رخ کرتے ہیں۔ایشیا سے تعلق رکھنے والے ، خاص کر پاکستانی نژاد برطانوی سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کا مسئلہ مذہبی ہے اور ان پر ’جن بھوتوں‘ کا سایہ ہوا ہے۔ تب جا کے وہ مسجد اور امام کے ذریعے علاج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔"

پرفیسر سوارا سنگھ

ابو محمد نے پانچ سال تک مدثر خان کا علاج کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جنوں کا اثر کم کرنے کے لیے انھیں بلا کر ان سے براہِ راست بات کرتے ہیں۔

عامل ابو محمد کا خیال ہے کہ ڈاکٹر بعض بیماریوں کا ویسے علاج کرتے ہیں جبکہ یہ اصل میں ’جن بھوت‘ کا مسئلہ ہوتا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کے ایسے آپریشن بھی کیے جاتے ہیں جن کی ضرورت نہیں ہوتی، کیوں کہ جن ڈاکٹروں کو بے وقوف بنا دیتے ہیں۔

ابو محمد کا کہنا ہے کہ ’میں ان کا قرآن کے ذریعے علاج کرتا ہوں۔ آپ کو اس کتاب پر یقین کرنا ہوگا تب یہ علاج کام کرے گا۔ ذہنی بیماریاں، دل کے امراض اور دوسرے بہت سے امراض اس طریقۂ علاج سے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔‘

ان سب باتوں کے باوجود وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے پاس آنے والے بعض لوگ شدید بیمار ہیں یا ذہنی امراض میں مبتلا ہیں اور ان کو میڈیکل علاج کی ضرورت ہے۔

ابو محمد کو یہ اندازہ ہے کہ ان کا طریقہ علاج متنازع ہے۔

ایک بیس سالہ لڑکا جس کا فرضی نام ندیم ہے، جب بیمار ہوا تو ان کے خاندان نے سمجھا کہ وہ آسیب زدہ ہو گیا ہے۔انھوں نے ایک عامل بلوا کر ندیم کا علاج کیا۔

ندیم کا کہنا ہے کہ’ میں بے چین تھا۔ میں اپنے گھر میں فرش پرگرتا، اٹھتا رہا، میں چلا رہا تھا اور جن میرے منھ کے راستے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘

ندیم نے مزید کہا کہ عامل سے علاج کرنے کے بعد انھیں فرق محسوس ہوا لیکن وہ مکمل طور پر صحت یاب نہ ہو سکے۔ آخر انھیں کار علاج کے لیے ہسپتال لے جایا گیا جہاں پتا چلا کہ وہ ذہنی بیماری شیزوفرینیا میں مبتلا ہیں۔ اب وہ باقاعدگی سے دوا لیتے ہیں۔

نائلہ ممتاز کو آسیب اتارنے کے عمل کے دوران ہلاک کیا گیا

برطانیہ میں ندیم جیسے کیسز عام ہیں جن میں عام بیماریوں کو سایہ یا آسیب مان لیا جاتا ہے۔ یہ بات ماہرینِ نفسیات کے لیے خدشات کا باعث ہے۔

وارک میڈیکل سکول میں محکمۂ نفسیات کے سربراہ پروفیسر سورن سنگھ نے حال ہی میں ایک تحقیق مکمل کی ہے جس میں یہ مطالعہ کیا گیا ہے کہ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے مریض باقی آبادی کی نسبت شدید بیماری کی حالت میں ذہنی معالج کے پاس کیوں پہنچتے ہیں۔

پرفیسر سورن سنگھ کا کہنا ہے ’ہمیں معلوم ہوا جب لوگوں کو ڈیپریشن یا ذہنی دباؤ کا عارضہ ہوتا ہے تو انھیں لگتا ہے کہ یہ نفسیاتی مسئلہ ہے تو وہ اس کا علاج کرواتے ہیں۔لیکن جب انھیں کوئی شدید ذہنی بیماری لاحق ہو جاتی ہے، جیسا کہ کانوں میں آوازیں آنا، تو وہ کسی اور طرف کا رخ کرتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید بتایا ’ایشیائی، خاص کر پاکستانی نژاد برطانوی سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کا مسئلہ مذہبی ہے اور ان پر ’جن بھوتوں‘ کا سایہ ہوا ہے۔ تب جا کے وہ مسجد اور امام کے ذریعے علاج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

’جن‘ اور بھوت پریوں پر یقین کرنے سے نہ صرف علاج کے مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ اس کے اور خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں۔ برمنگھم میں اس سال ستمبر میں ایک خاندان کے چار افراد کو 21 سالہ نائلہ ممتاز کو قتل کرنے کا مرتکب پایا گیا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ نائلہ ممتاز کے سسرال کا خیال تھا کہ ان پر ’جن‘ یا بھوت کا سایہ تھا۔ مقدمہ میں یہ ثبوت سامنے آئے کہ نائلہ آسیب اتارنے کے عمل کے دوران ہلاک ہوئیں۔

یاسمین اسحٰق کا بھی یہی تجربہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب انھیں اندازہ ہوا کہ لوگ مذہب کا فائدہ اٹھا رہے ہیں تو وہ خود علاج کرنے والی عامل بن گئی۔

عامل ابو محمد کا خیال ہے کے ’جن‘ ڈاکٹروں کو بے وقوف بناتے ہیں اور وہ آسیب ذدہ لوگوں کا غیر ضروری علاج کرتے ہیں

ان کا کہنا ہے کہ ’اگر کوئی عورت کہے کہ ان کی زندگی عذاب میں ہے یا ان پر ظلم کیا گیا تو انھیں چپ کرانے کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ آسیب زدہ ہے۔میں ذاتی تجربے سے بات کر رہی ہوں۔ میں نے دیکھا کہ آسیب زدہ کہ کو خواتین کو مارا پیٹا گیا ہے۔در حقیقت یہ عورت کے خلاف تشدد ہے۔ ‘

نذیر افضل شمال مغربی انگلستان میں پولیس افسر ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پولیس عاملوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔’ہمیں اس کے بارے میں زیادہ معلومات ملتی جا رہی ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ ہم مقامی آبادی کے لوگوں سے رابطے میں ہیں جو اس مسئلے کو خود حل کرنا چاہتے ہیں۔‘

پروفیسر سنگھ کہتے ہیں کہ ان آبادیوں میں تعلیم بہت ضروری ہے تاکہ یہ عامل طبی امداد کے راستے میں حائل نہ ہوں۔ جدید طب ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کا علاج ادویات سے نہیں بلکہ گفتگو کے ذریعے علاج ہے، اس لیے ’بعض معاشروں میں اس کا مطلب عامل سے بات کرنا ہوتا ہے، اس لیے ممکن ہے کہ اس کا فائدہ بھی ہوتا ہو۔

’البتہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ متبادل علاج طبی دیکھ بھال کے راستے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں، چناں چہ وہ دوا لینے کی بجائے دم درود پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔ اس سے مرض ٹھیک نہیں ہو سکتا، کیوں کہ مذہب تسلی تو دے سکتا ہے لیکن مرض کا علاج نہیں کر سکتا۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔