غزہ میں کشیدگی: معاملہ کیا ہے؟

آخری وقت اشاعت:  منگل 20 نومبر 2012 ,‭ 18:05 GMT 23:05 PST

اسرائیل نے غزہ کے خلاف حالیہ فوجی کارروائی چودہ نومبر کو شروع کی جو کہ اسرائیل اور فلسطینی جنگجؤوں کے درمیان کئی سالوں سے جاری کشیدگی کی تازہ ایک کڑی ہے۔ لڑائی کے اس باب میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے کئی عام شہری ہیں۔

اس تنازعے میں اب تک کیا ہوا ہے اور کیا کچھ ہو سکتا ہے، ان سوالات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

یہ سب شروع کیسے ہوا ہے؟

غزہ کے خلاف فوجی کاررروائی کا آغاز ایک اسرائیلی فضائی حملے سے ہوا جس میں حماس کے عسکری رہنماء احمد الجباری ہلاک ہوگئے۔ اسرائیل احمد الجباری کو غزہ سے اسرائیل کے خلاف ہونے والی گذشتہ دہائی کے تمام دہشتگردی کے واقعات کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

اس کے بعد ’اسرائیل ڈیفنس فورسز‘ (آئی ڈی ایف) نے ’آپریشن پلر آف ڈیفنس‘ کا اعلان کیا جس کا بظاہر مقصد اسرائیلی شہریوں کو غزہ سے ہونے والے راکٹ حملوں سے بچانا اور حماس کی ایسے حملے کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنا تھا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتنیاہو کا کہنا تھا کہ آپریشن اس لیے شروع کیا گیا کیونکہ اب ایسی صورتحال ناقابلِ قبول کہ اسرائیلی شہریوں کو راکٹ حملوں کے خوف میں رہنا پڑے۔

اس کے بعد اسرائیل کی جانب سے فضائی حملوں کا سلسلہ شروع ہوا جن کے بارے میں ان کا دعوی ہے کہ نشانہ بننے والے مقامات پر حماس سے راکٹ رکھے ہوئے تھے۔ ادھر حماس نے بھی اسرائیل پر راکٹ حملوں میں اضافہ کر دیا۔

دو ہزار سات سے غزہ میں برسرِاقتدار حماس کا کہنا تھا کہ احمد الجباری کے قتل نے کشیدگی کا راستے کھولے ہیں۔

اگرچہ الجباری کی ہلاکت سے اسرائیلی فوجی کارروائی شروع ہوگئی تاہم اس سے پہلے بھی سرحد کی دونوں جانب سے کئی بار جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ حماس کے ’القاسم بریگیڈز‘ سمیت کئی فلسطینی مسلح گروہ جنوبی اسرائیل میں راکٹ داغتے ہیں اور اسرائیلی فوج غزہ میں گولہ باری اور فضائی حملے کرتی ہے۔

چند ماہرین نے اس بات نوٹس ضرور لیا ہے کہ یہ فوجی کارروائی اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات سے صرف نو ہفتے پہلے ہی شروع کی گئی ہے۔ چند کا دعوی ہے کہ اس آپریشن کا مقصد آئندہ نومبر میں اقوام متحدہ میں مبصر درجہ حاصل کرنے کے فلسطینی منصوبے کو نقصان پہنچانا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع ایہود براک نے ان خیالات کو مسترد کیا کہ ان کا اور وزیرِ اعظم بنیامن نیتنیاہو کا جنگ کرنے میں فائدہ تھا۔ فوجی کارروائی سے پہلے ہی پولنگ کا اندازہ تھا کہ نیتنیاہو کی اتحادی حکومت کامیاب رہے گی۔

اس تنازع کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟

غزہ پٹی کی حدود کا تعین سنہ انیس سو اڑتالیس اور انیس سو انچاس میں عرب اسرائیل جنگ کے بعد طے پانے والے معاہدے میں کیا گیا تھا۔ غزہ میں رہنے والے پندرہ لاکھ میں سے تقریباً گیارہ لاکھ فلسطینیوں کا اندراج بطور پناہ گزین ہوا ہے۔

سنہ انیس سو اڑتالیس سے لے کر انیس سو سڑسٹھ تک غزہ کا علاقہ مصر کے قبضے میں رہا اور چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ میں اس خطے پر اسرائیل نے قبضہ کر لیا۔ سنہ دو ہزار پانچ میں اسرائیل نے اپنی فوجیں اور آبادکاروں کو غزہ سے نکال لیا مگر غزہ کے سرحدی حدود، فضائی اور بحری علاقوں پر اسرائیل کا ہی کنٹرول ہے۔ غزہ کی جنوبی سرحد مصر کے زیرِ انتظام ہے۔

گذشتہ ایک دہائی میں غزہ کے عوام نے شدید سماجی اور اقتصادی مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ خطے کی اسّی فیصد آبادی کا انحصار بین الاقوامی امداد پر ہے۔ سنہ دو ہزار سات میں جب غزہ میں حماس نے اقتدار سنبھالا تو پہلے سے جاری اسرائیلی ناکہ بندی کو مصر کی مدد سے شدید تر کر دیا گیا تاکہ حماس کی کمزور کیا جا سکے اور راکٹ حملے روکے جا سکیں۔ ان حالات کے نتیجے میں غزہ ایک ایسی جگہ بن گئی جسے اقوام متحدہ نے ’انتہائی تعلیم یافتہ اور ہنرمند افراد کا ایک غریب اور پسماندہ معاشرہ‘ قرار دیا ہے۔

سنہ دو ہزار دس میں اسرائیل نے علاقے کی ناکہ بندی کو جزوی طور پر ختم کر دیا تاہم برآمدات اور درآمدات پر پابندیوں نے علاقے میں اقتصادی بحالی اور تعمیرِ نو کو مشکل بنا دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس ناکہ بندی کو ایک جگہ تو ’اجتماعی سزا‘ کہا مگر دوسری جانب ایک رپورٹ میں اس ناکہ بندی کو قانونی قرار دیا۔

سنہ دو ہزار پانچ میں اسرائیل کے انخلاء کے باوجود غزہ کے جنگجو حملوں کے جاری رہنے کی وجہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی قبضہ بتاتے ہیں۔ غزہ کے علاقے میں کئی فضائی حملے کرنے کے باوجود اسرائیل راکٹ حملوں کو نہیں روک سکا ہے۔ دسمبر دو ہزار آٹھ میں اسرائیل نے ایک بڑا زمینی آپریشن کیا جس کا نام ’آپریشن کاسٹ لیڈ‘ تھا۔ اس آپریشن نے غزہ کے مسلح گروہوں کو شدید نقصان پہنچایا اور علاقے کا بیشتر سویلین ڈھانچے تباہ کردیا۔ مگر وقت کے ساتھ بحالی عمل میں آئی اور راکٹ حملے پھر شروع ہوگئے۔

جنوری دو ہزار نو سے اکتوبر دو ہزار بارہ کے درمیان بیشتر حملوں کے ذمہ دار دیگر چھوٹے مسلح گروہ تھے تاہم حماس کا عسکری ونگ بھی چند میں ملوث تھا۔ اسرائیل غزہ سے ہونے والے تمام حملوں کا ذمہ دار حماس کو ٹھہراتا ہے۔

فریق چاہتے کیا ہیں؟

اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ آپریشن پلر آف ڈفینس کے دو مقاصد ہیں۔ پہلا اسرائیلی شہریوں کا دفاع اور دوسرا غزہ میں دہشتگردی کے ڈھانچے کا ختم کرنا۔ وزیرِ اعظم نیتن یاہو کا اصرار ہے کہ وہ حماس کا تختہ الٹنا نہیں چاہتے۔

"اسرائیل کا مطالبہ ہے حماس کی جانب سے تمام جارحیت غیر مشروط پر روکی جائے جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی ختم کی جائے"

اٹھارہ نومبر کو وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے بتایا کہ اسرائیل فوج نے ایک ہزار سے زائد ’دہشتگردی کے مقامات‘ کو نشانہ بنایا ہے اور ان میں بہت سے اسرائیلی شہریوں کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیاروں کو تباہ کیا گیا اور ان حملوں کے ذمہ داران کو بھی مارا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل عام شہریوں کی ہلاکتوں کو کم سے کم رکھنا چاہتا ہے۔ حماس کے حکام نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں کم از کم آدھے خواتین اور بچے ہیں۔

اسرائیلی عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائی کے شروع کے چند گھنٹوں میں حماس اور اسلامک جہاد نامی تنظیم کے پاس موجود، ایران میں بنے ہوئے الفجر- 5 اور ایم- 75 متوسط رینج کے مزائلوں کو تباہ کیا گیا۔ تاہم ان میں سے چند تل ابیب اور یروشلم میں گرے ہیں اور اسرائیل کو چھوٹی رینج کے راکٹ حملوں کو روکنے میں زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔

آپریشن کے آغاز میں حماس کے نائب وزیرِ خارجہ غازی حماد کا کہنا تھا کہ حماس حملہ آور نہیں تھی اور نہ ہی وہ کشیدگی میں اضافہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ’ہم پھر کہیں گے کہ ہم مقبوضہ ہیں اور ہم ہی نشانہ ہیں۔‘ مگر غازی حماد کا کہنا تھا کہ حماس کو اپنے لوگوں کا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے اور وہ اسرائیلی حملوں کا جواب دیں گے۔ انھوں نے تنبیہ کی کہ ’اگر غزہ محفوظ نہیں رہے گا تو آپ کے شہر بھی محفوظ نہیں رہیں گے‘۔

کیا اسرائیل کی جانب سے زمینی حملہ ہو سکتا ہے؟

وزیرِ اعظم نیتن یاہو کہ چکے ہیں کہ اسرائیل آپریشن کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے تیار ہے اور انھوں نے ززینی کارروائی کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جبکہ وزیرِ دفاع براک کہتے ہیں کہ اسرائیل امن حاصل کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔ وزیرِ اعظم کے ترجمان اوفر گیندلمن نے ببیس نومبر کو بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ سفارتی کوششیں کامیاب ہوجائیں۔ ہم زمینی حملہ نہیں کرنا چاہتے۔ مگر اگر مذاکرات سے اس آپریشن کے مقاصد پورے نہ ہوئے تو ہم غزہ میں داخل ہو جائیں گے۔‘

اسرائیلی حکومت نے پچھتر ہزار ریزرو فوجیوں کو بظاہر زمینی حملے کی تیاری کے سلسلے میں طلب کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اکتیس ہزار کو پہلے ہی بلا لیا گیا ہے۔ کئی زمینی دستوں اور آرمرڈ بریگیڈوں کو غزہ کے قریب نگیو صحرا میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ سابق اسرائیلی کمانڈروں کا کہنا ہے کہ دو ہزار چھ کی لبانا جنگ میں تیس ہزار فوجیوں اور دو ہزار آٹھ کے آپریشن کاسٹ لیڈ میں بیس ہزار فوجیوں نے حصہ لیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی حکام کا ماننا ہے کہ فوج کو سرحدوں پر تعینات کرنے سے حماس معلوم ہوگا کے اسرائیلی ارادے سنجیدہ ہیں اور اس سے حماس کو روکنے میں مدد ملے گی مگر جنگ بندی نہ ہونے کی صورت میں حملہ کرنا بھی آسان ہو جائے گا۔

آپریشن کاسٹ لیڈ کے اختتام سے حماس کا عسکری ونگ ایک اور زمینی حملے کا سامنا کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق حماس کے پاس دس ہزار جنگجو ہیں اور بیس ہزار ریزروو جنگجو ہیں۔ تنظیم نے بنکرز بنا رکھے ہیں اور بہتر ہتھیار اور ٹیکنالوجی حاصل کر لی ہے۔ البتہ القاسم بریگیڈ کے سربراہ نہیں رہے ہیں، مگر اس کی کمانڈ اینڈ کنٹرول صلاحیت ابھی میں کام کر رہی ہے۔

عالمی برادری نے کیا ردِ عمل دیکھایا ہے؟

امریکی صدر براک اوباما نے اٹھارہ نومبر کو کہا تھا کہ بہتر یہ ہوگا کہ اسرائیل غزہ میں زمینی حملہ نہ کرے تاہم انھوں نے اس بات کی تائید کی کہ وہ فلسطینی عام شہریوں کی ہلاکتوں کے باوجود اسرائیل کے خود کا دفاع کرنے کے حق کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ صدر اوباما نے کہا کہ حماس کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملے تنازع کا حصہ ہیں اور انھیں رکنا ہوگا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی خطے میں موجود تمام فریقوں کے ساتھ کشیدگی کے حل کے لیے کام کر رہا ہے۔

برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ کا کہنا تھا کہ حالیہ کشیدگی کی زیادہ تر ذمہ داری حماس پر ہے تاہم اسرائیل کی جانب سے زمینی حملے کی صورت میں اسرائیل بہت سی بین الاقوامی حمایت اور ہمدردی کھو بیٹھے گا۔

سولہ نومبر کو یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کا کہنا تھا کہ وہ حالیہ کشیدگی کے بارے میں پریشان ہیں اور عام شہریوں کی ہلاکت کا انھیں شدید افسوس ہے۔ انھوں نے کہا کہ راکٹ حملے ناقابلِ قبول ہیں مگر اسرائیل کو بھی اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اس کی جوابی کارروائی متناسب ہو۔

تاہم خطے میں مغربی ممالک کے حامیوں کی جانب سے اسرائیلی اقدامات کی شدید مذمت کی گئی ہے جن میں مصر،ترکی، تیونس اور قطر شامل ہیں۔ مصری صدر محمد مرسی کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کو اس کے حال پر نہیں چھوڑیں گے اور انھوں نے اسرائیلی اقدامات کو انسانیت کے خلاف جارحیت قرار دیا۔ مصری وزیرِ اعظم ہشام قندیل نے سولہ نومبر کو غزہ کا دورہ کیا جہاں انھوں نے کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا عہد کیا۔

اٹھارہ نومبر کو عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے مصری امن کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا اور غزہ میں عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل العربی کی سربراہی میں وفد بھیجنے کی پیشکش کی۔ وزراء نے اسرائیل کی جانب سے ’جارحیت‘ کی مذمت کی اور اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی جانب سے کچھ نہ کرنے پر ’مکمل بے اطمینانی‘ کا اظہار کیا۔

جنگ بندی کا کیا امکان ہے؟

اسرائیل قیادت اور حماس کے سربراہان دونوں پر جنگ بندی کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل بان کی مون خطے کا دورہ کر رہے ہیں جہاں وہ مصری صدر محمد مرسی اور عرب لیگ کے سیکٹری جنرل نبیل العرابی سے ملاقاتیں کریں گے۔

حماس اور اسرائیل، دونوں کے وفود مصری حکام کے ساتھ جنگ بندی کی شرائط پر بحث کرنے کے لیے قاہرہ گئے ہیں۔

نومبر انیس کو اسرائیلی حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی حکومت کے مندرجہ ذیل مطالبات ہیں۔ غزہ سے کسی قسم کے بھی حملے اسرائیل پر نہ کیے جائیں جن میں اسرائیلی فوجیوں پر سرحدی علاقوں میں حملے بند ہونا ہوں گے، حماس کے جنگجووں کو سینائی جانے سے روکا جائے جہاں وہ مصر اور اسرائیل کی سرحد پر اسرائیلی فوجیوں پر حملے کرتے ہیں، حماس کو دوبارہ ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں اور کوئی بھی جنگ بندی صرف تھوڑے وقت کے لیے نہیں بلکہ جنوبی اسرائیل کے لیے دیرپا امن ہونا چاہیے۔

وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے ایک قریبی اہلکار نے بیس نومبر کو بی بی سی کو بتایا کہ وزیرِ اعظم واضح کر چکے ہیں کہ وہ قاہرہ میں جاری مذاکرات کو کامیابی کا موقع دینا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے ممکنہ زمینی حملہ روک دیا گیا ہے۔ تاہم اہلکار نے خبردار کیا کہ اسرائیل اس سلسلے میں کھلا وقت نہیں دے گا اور بائیس نومبر تک ان مذاکرات میں پیش رفت ضروری ہے۔

انیس نومبر کو حماس کے سیاسی رہنما خالد مشال نے قاہرہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل ’بدمعاشی‘ روک دے تو حماس جنگ بندی پر عملدرآمد کرئے گی۔ تاہم ان کا اصرار تھا کہ غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی کو بھی ان مذاکرات میں ختم کیا جانا ہوگا۔ پسِ پردہ حماس کے اہلکار نے بتایا کہ ان کی تنظیم اس وقت صرف ناکہ بندی ختم کرنے کا عہد چاہتی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ حماس اس بات کی یقین دہانی چاہتی ہے کہ اسرائیل اہم جنگجووں کو ہلاک کرنا بند کر دے گا۔

اس سب کا مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے سلسلے پر کیا اثر پڑے گا؟

مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان دو دہائیوں سے جاری مذاکرات کا کوئی مستقل حل نہیں ہو سکا۔ براہِ راست مذاکرات کا آخری سلسلہ دو ہزار دس میں رُک گیا تھا۔ حماس اسرائیل کے ساتھ کسی بھی امن مذاکرات کا حصہ نہیں رہی ہے۔ حماس اسرائیل کے حقِ وجود کو نہیں مانتا اور انیس سو ترانوے میں پی ایل او کی جانب سے منظور شدہ اوسلو اکارڈ کی مخالفت کرتے ہیں۔

اسرائیل کے تازہ ترین حملے سے پہلے بھی دونوں فریقوں میں اس قدر تضاد اور کشیدگی میں کمی کے امکانات میں اس قدر کمی کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ اس سال جنوری میں کئی ماہ کی بالواسطہ مذاکرات کسی بھی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئے تھے۔ فلسطینی مذاکرات کاروں کا اصرار ہے کہ براہِ راست مذاکرات کی بحالی سے پہلے مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی آبادی کاری کو روکنا ہوگا۔ ان کے اسرائیل ہم منصبوں کا کہنا ہے کہ مذاکرات مشروط نہیں ہو سکتے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی جانب سے اقوام متحدہ میں مبصر درجے کے لیے درخواست سے امریکی اور اسرائیلی حکومتیں ناخوش ہیں۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ یہ درجہ ملنے سے انھیں اسرائیل کے ساتھ مذاکرات میں فائدہ ہوگا۔ امریکہ اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ خود مختار ریاست کا قیام صرف براہِ راست مذاکرات سے ہو سکے گا۔

اٹھارہ نومبر کو امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ اگر غزہ میں حالات مزید خراب ہوئے تو کسی بھی دو ریاستی حل کی جانب امن کوششیں مستقبل بعید میں چلی جائیں گی۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔