شام:’اسلام پسند باغیوں کو نیا اتحاد قبول نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 20 نومبر 2012 ,‭ 04:41 GMT 09:41 PST

بیس ماہ سے جاری اس تنازعے میں حلب کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔

شام کے شہر حلب میں اسلام پسند باغی دھڑوں نے کہا ہے کہ وہ مغرب کے حمایت یافتہ نئے اپوزیشن اتحاد کو مسترد کرتے ہیں۔

انٹرنیٹ پر نشر کی جانے والی ایک ویڈیو میں انھوں نے اس ’سازشی منصوبے‘ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ شام میں ایک ’اسلامی ریاست‘ قائم کرنا چاہتے ہیں۔

یورپی یونین نے پیر کے روز نئے اتحاد کو شامی عوام کا ’جائز نمائندہ‘ کہا تھا البتہ اسے مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا۔فرانس پہلے ہی اس اتحاد کو شام کا ’واحد نمائندہ‘ کہہ چکا ہے۔

اسے ’قومی اتحاد برائے شامی انقلابی اور اختلافی افواج‘ کہا جاتا ہے اور اسے قطر میں گیارہ نومبر کو قائم کیا گیا تھا۔ ترکی اور چھ خلیجی ممالک پہلے ہی اسے مکمل طور پر تسلیم کر چکے ہیں۔

بی بی سی کے سفارتی نمائندے جوناتھن مارکس کے مطابق ممکن ہے کہ برطانیہ بھی ان کی پیروی کرے۔ وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ اس بارے میں منگل کے روز پارلیمان میں ایک بیان دیں گے۔

ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی پاسداری اور سب کی شمولیت برطانیہ کی لازمی شرائط ہیں۔

حزبِ اختلاف کے اتحاد کو تسلیم کرنے سے مزید عملی اور سیاسی امداد کا راستہ کھل جائے گا، لیکن اس سے شام میں برسرِ پیکار جنگجوؤں کو اسلحہ فراہم نہیں کیا جا سکے گا۔

شام کے شہر حلب کے اسلامی باغی اس نئے اتحاد سے زیادہ متاثر نہیں ہوئے۔

"ہم حلب کے جنگجوؤں کے نمائندے ہیں، اور ہم اس سازشی منصوبے کو نامنظور کرتے ہیں۔ ہم نے ایک اسلامی ریاست قائم کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا ہے۔"

آن لائن نشر کی جانے والی ایک ویڈیو میں ایک نامعلوم شخص ایک لمبی میز کے سرے پر بیٹھا ہوا بول رہا ہے جب کہ وہاں کم از کم بیس دوسرے افراد بھی موجود ہیں۔ اس نے تیرہ اسلامی مسلح دھڑوں کا نام لیا جو اس اتحاد کو مسترد کرتے ہیں۔

’ہم حلب کے جنگجوؤں کے نمائندے ہیں، اور ہم اس سازشی منصوبے کو نامنظور کرتے ہیں۔ ہم نے ایک اسلامی ریاست قائم کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا ہے۔‘

البتہ حزبِ مخالف کے اتحاد کے نئے سربراہ معاذ الخطیب نے اس ویڈیو اعلان کو زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے قاہرہ سے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم شامی عوام کے مفاد میں ان سے رابطہ جاری رکھیں گے۔‘

امریکی وزارتِ دفاع کی ترجمان وکٹوریہ نیولینڈ نے کہا کہ ’یہ ہمارے لیے زیادہ حیران کن نہیں ہے کہ وہ جو شام کو شدت پسند اسلامی ملک بنانا چاہتے ہیں انھوں نے اس اتحاد کی مخالف کی ہے۔‘

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے بعض مغربی ممالک میں اس خدشے کو ہوا ملے گی کہ شام کے باغیوں کو دیے گئے ہتھیار شدت پسندوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔