سزائے موت کے خاتمے کے حق میں 110 ممالک

آخری وقت اشاعت:  منگل 20 نومبر 2012 ,‭ 15:14 GMT 20:14 PST

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی کمیٹی میں ایک سو دس ممالک نے سزائے موت کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی قرار داد کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

اس قرار داد کے حق میں ایک سو دس جبکہ مخالفت میں انتالیس ممالک نے ووٹ دیے اور چھتیس ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی کمیٹی میں ہر دو سال بعد رائے شماری کی جاتی ہے۔

سنہ دو ہزار دس میں سزائے موت کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی قرار داد کے حق میں ایک سو سات ممالک نے ووٹ دیا تھا۔

جن ممالک نے اس قرار داد کے حق میں ووٹ دیا ہے ان میں یورپی یونین کے ممالک، آسٹریلیا، برازیل اور جنوبی افریقہ سمیت اسرائیل بھی شامل ہے۔ اسرائیل نے اپنے اتحادی امریکہ کے خلاف ووٹ ڈالا۔

جن ممالک نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا ان میں امریکہ، بھارت، جاپان، چین، ایران، جنوبی کوریا، شام اور زمبابوے بھی شامل ہیں۔

فرانس کی نئی حکومت نے مہم شروع کی ہے جس میں وہ چاہتا ہے کہ جنرل اسمبلی میں اس دسمبر سزائے موت کے خاتمے کے لیے قرار داد پیش کی جائے۔

اگرچہ اس قرارداد کا اطلاق نہیں ہوتا لیکن سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر جنرل اسمبلی سے یہ قرارداد منظور ہو جاتی ہے تو ان ممالک پر اخلاقی دباؤ بڑھے گا جو سزائے موت کے خاتمے کے خلاف ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق ڈیڑھ سو ممالک نے یا تو سزائے موت کے قانون کو ختم کردیا ہے یا پھر اس کو عارضی طور پر معطل کردیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان نے بھی زبانی طور پر سزائے موت کو عارضی طور پر معطل کیا ہوا ہے لیکن چند ہی روز قبل صوبہ پنجاب کے شہر میانوالی میں ایک قیدی کو پھانسی دی گئی ہے۔

پاکستان میں یہ چار سال میں پہلی پھانسی ہے۔ گزشتہ چار برس کے دوران سزائے موت کے متعدد قیدیوں کو پھانسی دینے کی تاریخوں کا اجراء کیا جاتا رہا لیکن عمل درآمد سے قبل ملتوی کردیاگیا۔

حال ہی میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے انسانی حقوق سے متعلق جائزے کے موقعے پر بھی دنیا کے کئی ملکوں کی جانب سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ پاکستان سزائے موت کے قانون کا خاتمہ کرے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔