افغانستان: دو دن میں چودہ افراد کو پھانسی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 22 نومبر 2012 ,‭ 00:52 GMT 05:52 PST

افغان حکام کے مطابق جن افراد کو پھانسی دی گئی وہ سنگین جرائم میں ملوث پائے گئے تھے

افغانستان میں حکام کے مطابق بدھ کو مزید چھ قیدیوں کو پھانسی دی گئی جس کے بعد گزشتہ دو دنوں میں پھانسی دیے جانے والے افراد کی تعداد چودہ ہو گئی۔

حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ جن افراد کو پھانسی دی گئی وہ شدت پسند نہیں تھے اور نہ ہی ان کا تعلق طالبان یا القاعدہ سے تھا۔

افغان حکام کا کہنا تھا کہ یہ افراد زنا بالجبر سمیت عورتوں اور بچوں کے خلاف دیگر سنگین جرائم میں ملوث پائے گئے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے افغان حکومت کی طرف سے قیدیوں کو پھانسی دینے کے عمل کو غیر انسانی اور ظالمانہ قرار دے کر اس کی مذمت کی ہے۔

بہت سے ایسے افغان باشندے جو شکایت کرتے ہیں کہ ملک میں جرائم بڑھ رہے ہیں اور جن کا موقف ہے کہ پھانسی ہی سے جرائم پر قابو پایا جا سکتا ہے، وہ حکومت کے اس اقدام سے خوش ہوں گے۔

طالبان کی حکومت کا 2001 میں خاتمے کے بعد افغانستان میں شاد و نادر ہی کسی کو پھانسی ہوئی۔

اطلاعات کے مطابق گزشتہ چار سال میں صرف دو افراد کو پھانسی ہوئی لیکن یہ واضح نہیں کہ اس ہفتے اتنے لوگوں کو کیوں پھانسی دی گئی۔

صدر حامد کرزئی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر کرزئی کو اختیار ہے کہ کسی کی پھانسی کو روکے لیکن انھوں نے ان سزاؤں کی منظوری دی تھی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ شاید صدر حامد کرزئی پر ان سزاؤں کو منظور کرنے کے لیے دباؤ تھا۔

حکام نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ مزید آٹھ قیدیوں کو شاید جمعرات کے دن پھانسی دی جائے۔

کابل میں بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ صدر کرزئی کی حکومت میں ایسے سکیورٹی اہلکار ہیں جو مزید قیدیوں کو پھانسی دینا چاہتے ہیں۔

"قیدیوں کو ٹارچر کرکے ان سے اقبال جرم کروایاجاتا ہے اور ایسے عدلیہ پر انحصار ہے جو کہ اذاد نہیں ہے۔غیر جانبدار مقدمہ چلانے کی کوئی گارنٹی نہیں"

پولی ٹراسکٹ ،ایمنسٹی انٹرنیشنل ایشیا کی ڈپٹی ڈائریکٹر

افغان حکومت کے ایک ترجمان رفعی فردوس نے قیدیوں کو پھانسی دینے کے حکومتی فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات اٹھانے سے قانون پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔

دوسری طرف ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز نے کہا کہ منگل کو آٹھ افراد کو پھانسی دینے کے عمل سے افغانستان پستی میں چلا گیا ہے۔ انھوں نے صدر کرزئی سے مزید افراد کو پھانسی نہ دینے اور پھانسی کی سزا ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’ پھانسی ایسی سزا ہے جو کبھی نہیں دینی چاہیے۔‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل ایشیا کی ڈپٹی ڈائریکٹر پولی ٹراسکٹ نے کہا کہ پھانسی ایک غیر انسانی اور ظالمانہ سزا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’قیدیوں کو ٹارچر کر کے ان سے اقبال جرم کروایا جاتا ہے اور ایسی عدلیہ پر انحصار ہے جو کہ آزاد نہیں۔غیر جانبدار مقدمہ چلانے کی کوئی گارنٹی نہیں۔‘

طالبان کے ترجمان نے بھی قیدیوں کو پھانسی دینے کے حکومتی فیصلے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ قیدیوں کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ طالبان اپنے دور حکومت میں لوگوں کو زنا اور دوسرے جرائم کی سزا کے طور پر سرعام پھانسی دیتے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔