’پارلیمان صدر احمدی نژاد کو طلب نہ کرے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 22 نومبر 2012 ,‭ 08:52 GMT 13:52 PST

صدر احمدی نژاد اور آیت اللہ کے درمیان اس سے پہلے سیاسی کشیدگی رہ چکی ہے جسے ذرائع ابلاغ میں تفصیل سے پیش کیا گیا تھا

ایران کے روحانی پیشویٰ آیت اللہ خامنہ ای نے ملک کی پارلیمان کو حکم دیا ہے کہ صدر محمود احمدی نژاد کو مزید پوچھ گچھ کے لیے ایوان میں نہ بلایا جائے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے اراکین کو تنبیہ کی کہ اس معاملے کو آگے بڑھانے سے ایران کے مخالفین کو فائدہ پہنچے گا۔ صدر احمدی نژاد کو معیشت کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور دیگر حکومتی ناکامیوں کے سلسلے میں پارلیمان میں طلب کیا جانا تھا۔ملک کے رہبر عالم کی جانب سے احکامات کے بعد اراکانِ پارلیمان نے صدر کی طلبی کے مسودے کو منسوخ کر دیا ہے۔

محمود احمدی نژاد کی دوسری صدارتی مدت اگست دو ہزار تیرہ میں ختم ہو جائے گی۔

ایرانی پارلیمان میں آیت اللہ خامنہ ای کی اس طرح کی براہِ راست مداخلت کا یہ پہلا موقع ہے۔

یہ بات انھوں نے ایران کی رضاکارانہ نیم فوجی فورس باسیج کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میرا مطالبہ ہے کہ معزز اراکینِ پارلیمان اس معاملے کو آگے نہ بڑھائیں۔‘ انھوں نے کہا کہ اس معاملے کو آگے بڑھانے سے صرف ایران کے دشمنوں کا فائدہ ہوگا۔

’ملک کو اس وقت استحکام کی ضرورت ہے۔ تمام حکومتی دھڑوں مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے ساتھ ساتھ عوام کو مستحکم رہتے ہوئے اپنے فرائض نبھانے چاہیے۔‘

آیت اللہ خامنہ ای کا یہ بیان اس تنبیہ کی تائید کرتا ہے جو انھوں نے حال ہی میں حکام کے درمیان تنازعات کو منظرِ عام پر لانے کے بارے میں کی تھی۔

صدر احمدی نژاد اور آیت اللہ خامنہ ای کے درمیان اس سے پہلے سیاسی کشیدگی رہ چکی ہے جسے ذرائع ابلاغ میں تفصیل سے پیش کیا گیا تھا اور صدر کو اس کشمکش میں ناکامی ہوئی تھی۔

آیت اللہ خامنہ ای کی حمایت رکھنے والے گروہ پہلے ہی صدر کے قریبی ساتھیوں کے لیے مشکلات کا باعث بن چکے ہیں۔

چنانچہ ملک کے روحانی پیشویٰ کا یہ بیان، ایران میں اُن کی سیاسی قوت کا اظہار ہے اور یہ کہ فل الحال صدر کے خلاف ممکنہ تعزیراتی کارروائی کو منسوخ کروانے کا اقدام ہی نہیں بلکہ یہ بھی کہ صدر احمدی نژاد کو ان کی صدارتی مدت مکمل کرنے دینا چاہتے ہیں۔

ایران کے جوہری پروگرام کے باعث بین الاقوامی برادری کی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے ایرانی معیشت کافی مشکلات میں ہے۔ چونکہ احمدی نژاد تیسری مدت کے لیے صدارتی انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے انھیں سیاسی مفادات کے لیے اقتصادی بحران کا قصور وار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب اگر انھیں صدر کے عہدے سے برخاست کر دیا جاتا ہے تو وہ سیاسی شہید کے طور پر دوبارہ اٹھ سکتے ہیں اور ممکن ہے کہ اپنی انتقامی کارروائی میں وہ ملک کے اعلی اہلکاروں کے بارے میں ناگزیر انکشافات کر دیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔