نائیجیریا: توہین مذہب کی افواہ پر فسادات

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 23 نومبر 2012 ,‭ 00:51 GMT 05:51 PST

نائجیریا میں مسلمان اور عیسائی مذہبی رہنما مذاہب کے درمیان مکالمے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں

نائیجیریا میں پولیس کے مطابق پیغمبرِ اسلام کی توہین کی افواہ پھیلنے سے ملک کے شمالی علاقے میں فسادات شروع ہو گئے۔

حکام کے کہنا ہے کہ ملک کے شمالی حصے میں ایک قصبے بیچی میں افواہ پھیل گئی کہ ایک عیسائی آدمی نے پیغمبر اسلام کی توہین کی ہے جس کے بعد فسادات شروع ہو گئے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فسادات میں چار افراد ہلاک ہوگئے جبکہ دکانیں لوٹ لی گئی۔

یہ فسادات ایسے وقت میں شروع ہوئے جب اینگلیکن چرچ کے متوقع سربراہ رٹ ریو جسٹین ولبائے نے نائیجیریا میں مذہبی رواداری کو فروغ دینے کے لیے مہم کا آغاز کیا ہے۔

کانو ریاست کے پولیس چیف ابراہیم ادریس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’افواہ پھیل گئی کہ کسی نے پیغمبر اسلام کے شان میں گستاخی کی جس کی وجہ سے امن خراب ہو گیا۔‘

کانو میں بی بی سی کے نمائندے یوسف ابراہیم کا کہنا ہے کہ بیچی میں حالات قابو میں لانے کے فوج اور پولیس کے دستے تعینات کئے گئے ہیں۔

پولیس چیف ابراہیم ادریس کے مطابق فسادات اس وقت شروع ہوئے جب ایک عیسائی درزی نے اپنے مسلمان پڑوسی سے ہاؤسہ زبان میں بات کرتے ہوئے ایک کپڑے کا نام غلط ادا کیا جس کی وجہ سے الفاظ کا مفہوم بدل گیا۔ اس کے بعد مشتعل نوجوانوں نے عیسائیوں پر حملہ کیا اور ان کی دکانوں کو جلایا۔

مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ فسادات میں چار عیسائی ہلاک ہوگئے لیکن پولیس اس کی تصدیق نہیں کر سکی۔

یوسف ادریس نے بتایا کہ کچھ لوگوں نے ان کے فسادات شروع ہونے کی مختلف وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے ہجوم نے پہلے ایک عیسائی آدمی پر حملہ کیا۔ مسلمانوں نے الزام لگایا کہ عیسائی آدمی کا پہنا ہوا ٹی شرٹ پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز تھا۔

نائجیریا میں 1999 میں فوجی حکومت ختم ہونے کے بعد مذہبی فسادات میں ہزاروں لوگوں کی ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

اسلام شدت پسند گروپ بوکو حرام نے 2009 سے نائیجیریا میں سخت شرعی نظام نافذ کرنے کے لیے مسلح جدوجہد کر رہے ہیں۔

نائیجیریا کے شمال میں زیادہ تر مسلمان رہتے ہیں جبکہ جنوب میں عیسائی اور دیگر اقلیت آباد ہیں۔

دوسری طرف نائیجیریا کے دارالخلافہ ابوجہ میں پادری رٹ ریو جسٹین ولبائے نے مسلمانوں اور عیسائی مذہبی رہنماؤں اور برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ مل کر مذہبی رواداری کے فروغ کے لیے مہم کا آغاز کیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔