امریکہ: پاکستانی متاثرین، امداد کے منتطر

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 23 نومبر 2012 ,‭ 02:23 GMT 07:23 PST

سینڈی طوفان سے متاثرہ جنوبی ایشیائی نژاد امریکی امداد کے لیے قطار میں کھڑے ہیں

نیویارک میں سینڈی طوفان کے ٹکرانے اور پھر اس کی تباہی کے وسیع پیمانے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سینڈی طوفان کے گزر جانے کے چوتھے ہفتے بھی، کئی متاثرہ لوگ سڑکوں پر اور بے سر و سامانی کی حالت میں ہیں۔

شاید یہ بھی نیویارک میں بہت کم لوگوں کو اندازہ ہو کہ سیڈی طوفان سے متاثر ہونے والے لوگوں میں ایک بڑی تعداد پاکستانیوں کی ہے۔ طوفان کے چوتھے ہفتے بھی امدادی تنظیموں کے کیمپوں کے آگے ضرورت مند پاکستانی تارکین وطن کی طویل قطاریں لگی ہیں۔

متاثرہ پاکستانیوں میں بڑی تعداد بغیر دستاویزات کے تارکین وطن کی ہے جن کا سب کچھ ڈوب گیا ہے۔ ان افراد کی مشکل یہ بھی ہے کہ سرکاری امداد حاصل کرنے کے لیے کاغذات دکھانے لازمی ہیں۔ ان میں سے صرف ان غیر قانونی تارکین وطن کے لیے امریکی حکومت نے نرمی کی ہے جن کے بچے امریکہ میں پیدا ہوئے ہیں یا امریکی شہری ہیں۔

نیویارک میں بحیرہ اوقیانوس کے ساحل پر واقع ایک بڑے ضلع بروکلین کے ’منی پاکستان‘ کہلانے والے علاقے کونی آئی لینڈ سے تھوڑے فاصلے پر معروف برائیٹن بیچ ہے جو نیویارک میں سینڈی طوفان سے بری طرح نقصان ہوا۔

طوفان کے چوتھے ہفتے اسی برائیٹن بیچ میں مسجد عمر کے باہر ایک فلاحی تنظیم کی طرف سے لگائے گئے امدادی کیمپ کے سامنے لگي ہوئی قطار میں کھڑی پاکستانی نژاد خاتون رخسانہ کوثر نے بتایا ’اگر آّپ سینڈی طوفان والی رات آکر دیکھتے تو یہاں سمندر کی طوفانی لہروں کا پانی سڑکوں پر بارہ تیرہ فٹ تک پہنچا ہوا تھا اور ہمارے گھر میں سب کچھ ڈوب گیا تھا۔ بس ہم اپنے آپ کو بچا کر نکلے۔‘

بغیر دستاویزات کے

متاثرہ پاکستانیوں میں بڑی تعداد بغیر دستاویزات کے تارکین وطن کی ہے جن کا سب کچھ ڈوب گیا ہے۔ ان افراد کی مشکل یہ بھی ہے کہ سرکاری امداد حاصل کرنے کے لیے کاغذات دکھانے لازمی ہیں۔ ان میں سے صرف ان غیر قانونی تارکین وطن کے لیے امریکی حکومت نے نرمی کی ہے جن کے بچے امریکہ میں پیدا ہوئے ہیں یا امریکی شہری ہیں۔

بروکلین میں برائیٹن بیچ کے آس پاس آباد پاکستانیوں سمیت جنوبی ایشیائی لوگوں کی بڑی تعداد مزدور پیشہ اور ٹیکسی ڈرائیور ہیں۔ یہ لوگ زیادہ تر روزانہ کی اجرت پر کام کرتے ہیں اور ان کے گھروں کے زیادہ تر صرف مرد ہی کام کرتے ہیں۔

یہ تارکین وطن زیادہ تر برائٹین بیچ میں سرخ اینٹوں کی کثير منزلہ عمارتوں کے تہہ خانوں میں بنائے جانے والے ایک یا دو کمروں پر مشتمل گھروں میں کرائے پر رہتے تھے۔

متاثرین میں پاکستانیوں کے ساتھ مزدور پیشہ تارکینِ وطن بھارتی اور لاطینی امریکیوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔

سینڈي طوفان کے مارے ہوئے یہ لوگ صبح سویرے ریلیف کیمپ کے سامنے قطار بنائے کھڑے ہوتے ہیں۔ ان میں ایسے بھی لوگ تھے جو نیویارک میں نومبر کی سخت سردی میں بھی ہلکے کپڑوں میں تھے۔ ایسے لوگ بھی تھے جو پہلے معاشی طور پر خوشحال تھے اور اب متاثرین کے ساتھ سڑکوں پر ہیں یا اپنے رشتہ داروں کے ہاں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

قطار میں کھڑی شازیہ ندیم نے کہا کہ طوفان سے پہلے وارننگ سن کر ان کے رشتہ دار انہیں سینڈی سے محفوظ علاقے میں لے گئے تھے۔ لیکن جب واپس آئے تو ان کے مالک مکان نے ان کا سامان باہر سڑک پر پھینک کر مکان کو تالے لگا دیے تھے۔

شازیہ نے مزید بتایا ’ہم نے کبھی سوچا تک نہیں تھا کہ ہمیں بھی ایک دن پردیس میں امداد کی قطاروں میں کھڑا ہونے پڑے گا۔ اور سر پر چھت بھی نہیں ہوگي‘

"میرا شوہر ایک بیکری پر کام کرتا تھا جبکہ میں گھروں پر کام کرتی تھی۔ بمشکل گزارہ ہوتا تھا۔ ایک کمرے کے گھر میں رہتے تھے۔ اب پھر اسی گھر میں واپس آگئے ہیں کیوں کہ ہمارا کوئی رشتہ دار بھی نہیں جن کے پاس جاکر ٹھہریں۔ پانی تو نکل گیا ہے لیکن سب سامان ڈوب گیا۔"

شاہدہ اقبال

ایک اور خاتون کراچی کی شاہدہ اقبال بھی اپنے تین سالہ بیٹے کے ساتھ قطار میں کھڑی تھیں۔ طوفان سے قبل وہ کام کرتی تھیں لیکن اب بے روزگار ہوگئي ہیں۔ ’میرا شوہر ایک بیکری پر کام کرتا تھا جبکہ میں گھروں پر کام کرتی تھی۔ بمشکل گزارہ ہوتا تھا۔ ایک کمرے کے گھر میں رہتے تھے۔ اب پھر اسی گھر میں واپس آگئے ہیں کیوں کہ ہمارا کوئی رشتہ دار بھی نہیں جن کے پاس جاکر ٹھہریں۔ پانی تو نکل گیا ہے لیکن سب سامان ڈوب گیا۔‘

متاثر ہونے والوں میں نیویارک کی واحد کرکٹ کا سامان بیچنے والی دکان کے مالک رانا محمد حسین بھی ہیں جو نیویارک میں کرکٹ کے فروغ کے لیے بھی کام کرتے ہیں۔ طوفان والی وہ رات جمیکا میں کرکٹ کھیلنے گئے تھے۔ انہوں نے بتایا ’میں پر امید ہوں۔ بیس سال قبل اس ملک میں فقط ایک ہزار ڈالر جیب میں لے کر آیا تھا۔ اس ملک نے ہمیں سب کچھ دیا ہے۔ جان سلامت رہی تو سب کچھ پھر تعمیر کر لیں گے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔