کانگو میں بغاوت کے بعد انسانی بحران ، اقوام متحدہ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 24 نومبر 2012 ,‭ 00:09 GMT 05:09 PST

کانگو میں باغیوں کی پیش قدمی کی وجہ سے ہزاروس کی تعداد میں لوگ بے گھر ہوگئے

اقوام متحدہ نے جمہوریہ کانگو میں باغیوں کی جانب سے منگل کو گومہ شہر پر قبضے کے بعد عام شہریوں کے لئے تیزی سے خراب ہوتی ہوئی صورت حال کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ پچھلے تصادم میں مہاجر بننے والے لوگوں کی کیمپوں میں ادویات اور خوراک ختم ہونے لگے ہیں لیکن موجودہ لڑائی کی وجہ سے ان کیمپوں تک رسائی ممکن نہیں جس کی وجہ سے انسانی بحران پید ہو گیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق ایم ٹوئنٹی تھری یعنی ایم تئیس باغیوں کے ہاتھوں عام شہریوں کو قتل، اغواء اور بھتہ خوری کا سامنا ہے۔

مسلح گروہ معدنیات سے مالا مال مشرقی کانگو پر قبضہ کرنے کے لیےگزشتہ دو دہائیوں سے لڑتے رہے ہیں۔

باغیوں کی پیش قدمی کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ دیہاتوں اور مہاجر کیمپوں سے بے دخل ہو گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے بچوں کے لیے ذیلی ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ سینکڑوں کی تعداد میں بچے اپنے والدین سے بچھڑ گئے ہیں ۔ انھوں نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ ہے کہ باغی ان بچوں کو اپنے پاس بھرتی کر لیں گے۔

ٹو تری ایم باغی گروپ میں کانگو کی فوج سے باغی فوجی شامل ہیں

اقوام متحدہ کے مہاجرین کے لیے ذیلی ادارے یو این ایچ سی آر کے ترجمان آڈرین اڈورڈ نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا’ یو این ایچ سی آر شمالی کیوا صوبے میں بےگھر ہونے والے بچوں اور دوسرے بے کس لوگوں کی صورت حال پر فکر مند ہے۔‘

انھوں نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ عام طور پر ہم شمالی کیوا میں اکتیس کیمپوں میں ایک لاکھ اسی ہزار لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں لیکن لڑائی کی وجہ سے اب ہم یا ہمارے دوسرے ساتھی ادارے ان علاقوں تک نہیں پہنچ سکتے۔

کانگو میں وائس آف دی وائس لیس ادارے کی روسٹین مانکیٹا نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ شواہد موجود ہیں کہ باغیوں کی پیش قدمی کے ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ’ ہم سب نے روزانہ خواتین کے ساتھ زنا باالجبر ، لوگوں کا قتل عام، دیہاتوں کا جلایا جانا، لوگوں کو زبردستی بے گھر کرنا جیسے واقعات کے بارے میں سنا ہے۔ اور یہ ہمارے لیے پریشان کن ہے۔‘

فوج سے منحرف ہونے والے فوجیوں نے آٹھ ماہ پہلے ایم ٹو تھری باغی گروپ بنایا جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اسے روانڈا اور یوگینڈا کی حمایت حاصل ہے۔

"ہم سب نے روزانہ خواتین کے ساتھ زنا باالجبر ، لوگوں کا قتل عام، دیہاتوں کا جلانا، لوگوں کو زبردستی بے گھر کرنا جیسے واقعات کے بارے میں سنا ہے۔ اور یہ ہمارے لیے پریشان کن ہے"

روسٹین مانکیٹا، وائس آف دی وائس لیس

ان باغیوں کے مقاصد کے بارے میں معلومات واضح نہیں ہیں لیکن انھوں نے مشرقی جمہوریہ کانگو کے بڑے شہر گومہ سے بھی آگے پیش قدمی کی ہے اور سیک قصبے پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

باغیوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر کانگو کے صدرجوزف کابیلہ نے ان سے مذاکرات شروع نہیں کئے تو وہ دارالخلافہ کنشاسا پر چڑھائی کر دیں گے۔

جمہوریہ کانگو کے فوج کے سربراہ کو اپنے عہدے سے جمعرات کو ہٹایا گیا۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے باغیوں کے گروپوں کو ہتھیار بھیجے۔

یوگینڈا چند دن میں ایک سربراہ اجلاس منعقد کر رہا ہے جس میں روانڈا اور کانگو کے صدور بھی شرکت کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق ایم ٹو تھری باغی بھی یوگینڈا کے دارالخلافہ کمپالا پہنچے ہیں۔

علاقائی رہنماؤں نے باغیوں سے گومہ شہر سے نکلنے کی اپیل کی ہے جسے باغیوں نے تاحال ماننے سے انکار کیا ہے۔

کانگو میں بغاوت کی وجہ سے اپریل سے اب تک پانچ لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ نے یوگینڈا اور روانڈا پر باغیوں کی سرپرستی کا الزام لگایا ہے جسے وہ مسترد کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سکیورٹی کونسل نے قرارداد کے ذریعے باغیوں کے اقدامات کی مذمت کی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔