مصر میں مظاہرے، صدر کا نئے اختیارات کا دفاع

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 23 نومبر 2012 ,‭ 05:17 GMT 10:17 PST
محمد مرسی

صدر مرسی کا کہنا ہے کہ وہ سب فیصلے باہمی مشورے کے بعد کرتے ہیں

مصر کے صدر محمد مرسی نے قاہرہ میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے اپنے اس حکم نامے کا دفاع کیا ہے جس کے تحت ان کو وسیع اختیارات حاصل ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ مصر کو ’آزادی اور جمہوریت‘ کی راہ پر لے جا رہے ہیں اور وہ ملک کے سیاسی، اقتصادی اور سماجی استحکام کے محافظ ہیں۔

جب وہ اپنے حامیوں سے خطاب کر رہے تھے اسی دوران قاہرہ کے تحریر سکوائر میں ان کے ہزاروں مخالف بھی جمع ہوئے تھے اور ملک کے کئی شہروں میں صدر کی جماعت کے دفاتر پر حملے کیے گئے۔

سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق کئی شہروں میں مظاہرین نے اخوانِ مسلمین کے دفاتر پر حملے کیے اور توڑ پھوڑ کی۔

وہ صدر محمد مرسی کے اس حکم نامے کے خلاف مظاہرے کر رہے تھے جس کے تحت انہوں نے بہت زیادہ نئے اختیارات حاصل کر لیے ہیں۔

صدارتی حکم نامے کے مطابق اب کوئی بھی صدر کے بنائے ہوئے قوانین، کیے گئے فیصلوں اور جاری کیے گئے فرمان کو چیلنج نہیں کر سکے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ صدارتی اقدامات عدالتی یا دیگر کسی بھی ادارے کی جانب سے نظرِ ثانی سے مبرہ ہوں گے۔

صدر مرسی نے اپنے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس قوم کا مستقبل بہت زبردست ہے۔

صدر کے خلاف مظاہرے

اسکندریہ میں صدر مرسی کے حامیوں اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں

’میں تمام مصریوں کے لیے ہوں۔ میں مصر کے کسی بیٹے کے بارے میں متعصب نہیں ہوں گا۔

اس سے قبل انہوں نے قاہرہ کے نواح کی ایک مسجد میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’خدا کی مرضی سے ہم آگے بڑھ رہے ہیں، اور ہمارے رستے میں کوئی نہیں آ سکتا۔‘

’میں خدا اور قوم کو خوش کرنے کے لیے اپنا فرض ادا کر رہا ہوں اور میں سب سے مشورے کے بعد ہی فیصلے کرتا ہوں۔‘

مصر میں حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ صدر کا یہ اقدام حکومت کی قانونی حیثیت کے خلاف بغاوت ہے اور صدر نے خود کو مصر کا نیا ’فرعون‘ بنانے کی کوشش کی ہے۔

صدر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مصر کی تحریک کی حفاظت کے لیے کیا گیا ہے۔ جمعرات کے روز ہزاروں لوگوں نے قاہرہ میں مصری ہائی کورٹ کے باہر صدارتی حکم کی حمایت میں جشن منایا۔

وکلاء کی ایک تنظیم کے سربراہ سامع آشور نے محمد البرداعی اور امر موسیٰ کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا ’یہ اقدام حکومت کی قانونی حیثیت کے خلاف بغاوت ہے۔‘

اخوانِ مسلمین کے جن دفاتر پر حملہ کیا گیا ہے وہ اطلاعات کے مطابق پورٹ سیعد اور اسماعیلیہ میں ہیں۔

اسکندریہ میں مخالف گروہوں کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاع ہے۔

صدر کے حق میں اور مخالفت میں قاہرہ میں جلوس نکالے گئے

اس سے قبل گذشتہ سال صدر حسنی مبارک کے خلاف تحریک کی اہم شخصیت وائل غونم کا کہنا تھا کہ مصر میں تحریک چلانے کا مقصد ’ایک نرم دل آمر کی تلاش نہیں تھا‘۔

انھوں نہ کہا ’تحریک میں کیے گئے فیصلوں اور آمرانہ فیصلوں میں فرق ہوتا ہے۔ خدا وہ واحد ہے جس کے فیصلوں پر سوال نہیں اٹھائے جا سکتے۔‘

اس سے پہلے نوبل انعام یافتہ محمد البرادعی نے کہا تھا کہ اس حکم نامے کے بعد صدر قانون سے بالا تر ہوگئے ہیں۔

جمعرات کو جاری ہونے والے حکم نامہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کوئی بھی عدالت قانون ساز اسمبلی کو تحلیل نہیں کر سکتی۔

ماضی میں ایک عدالت نے قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں رکاوٹ کھڑی کی تھی اب اس حکم نامے کے بعد سے یہ ممکن نہیں ہو سکے گا۔ یاد رہے کہ مصر کی قانون ساز اسمبلی اس وقت ایک نئے آئین کی تیاری کا کام کر رہی ہے۔

قانون ساز اسمبلی کوآئین سازی کا کام دسمبر تک مکمل کرنا تھا مگر اسمبلی کے بارے میں سیبکڑوں مقدموں نے اس کام میں مشکلات حائل کر رکھی ہیں۔

صدر مرسی نے مرکزی وکیل استغاثہ کو بھی ایک فرمان کے ذریعے برطرف کر دیا ہے جو کہ ان کی برطرفی کا دوسرا موقع ہے۔ اس بار صدر مرسی نے طلعت ابراہیم کو نئے مرکزی وکیل استغاثہ مقرر کیا ہے۔

اس سے پہلے صدر مرسی نے مرکزی وکیل استغاثہ عبد المجید محمود کو برطرف کر دیا تھا تاہم بعد میں انھوں نے یہ فیصلہ واپس لے لیا۔ حسنی مبارک کے اقتدار میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران مظاہرین پر حملے کرنے والے حکام کو بری کرنے کے بعد سے عبدالحمید محمود پر شدید تنقید کی جا رہی تھی۔

صدر مرسی اور پراسیکیوٹر جنرل عبد المجید محمود کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد ان کی برطرفی کا فیصلہ واپس لیا گیا تھا مگر اس کشیدگی کے دوران صدر کی جانب سے برطرفی کے باوجود عبد المجید محمود نے عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا اور وہ ججوں اور وکلاء کے ہمراہ دفتر گئے تھے۔

اسی طرح صدر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ان اہلکاروں کے خلاف مقدمات کی ازسر نو سماعت کا حکم دیا جن پر حسنی مبارک کے خلاف احتجاج کے دوران مظاہرین پر حملے کرنے کا الزام تھا۔

پچھلے مہینے ان اہلکاروں کی بریت کے فیصلے کے بعد پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔