یاسر عرفات کی قبر کشائی منگل کو ہو گی

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 24 نومبر 2012 ,‭ 10:31 GMT 15:31 PST

فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس یاسر عرفات کی قبر پر پھول چڑھاتے ہوئے۔

فلسطینی حکام کے مطابق فلسطین کے سابق رہنما یاسر عرفات کی قبر کشائی منگل کے روز کی جائے گی تاکہ پتہ لگایا کہ ان کی وفات کی وجوہات طبی تھیں یا انہیں زہر دے کر ہلاک کیا گیا تھا۔

یاسر عرفات کے طبی ریکارڈ کےمطابق انہیں دل کا دورہ پڑا تھا لیکن فرانسیسی حکومت نے اس بارے میں تحقیقات کا آغاز تب کیا تھا جب سوئس حکام نے یاسر عرفات کی ذاتی اشیا میں تابکار مادے پلوٹونیم 201 کے اثرت پائے تھے۔

رملہ میں اس مہینے کے آغاز میں ان کے مقبرے کے ارد گرد حفاظتی حصار قائم کر دیا گیا تھا۔

یاسر عرفات جنہوں نے فلسطینی آزادی کی تنظیم کی پینتیس سال تک قیادت کی تھی انیس سو چھیانوے میں فلسطینی انتظامیہ کے پہلے صدر بنے تھے۔ عرفات دو ہزار چار میں اس وقت بیمار پڑ گئے تھے جب اسرائیل نے اس عمارت کا محاصرہ کر رکھا تھا جس میں وہ قیام پذیر تھے۔

اس بیماری کے دو ہفتے بعد انہیں پیرس کے ایک فوجی ہسپتال لیجایا گیا جہاں گیارہ نومبر دو ہزار چار میں وہ پچھتر سال کی عمر میں وفات پا گئے۔

ان کی بیوہ نے اس وقت اپنے شوہر کی نعش کے پوسٹ مارٹم کی مخالفت کی مگر بعد میں فلسطینی انتظامیہ سے درخواست کی کہ وہ قبر کشائی میں مدد فراہم کریں تاکہ سچائی سامنے آسکے۔

تابکار مادے کے اثرات یاسر عرفات کی ٹوپی اور دوسری ذاتی اشیا میں پائے گئے۔

دو ہزار پانچ میں امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے عرفات کا طبی ریکارڈ حاصل کیا جس کے مطابق ان کی وفات ایک دل کے دورے سے ہوئی جو کہ ایک نامعلوم وجہ سے اندرنی جریان خون کے سبب سے ہوا۔

قطر کے الجزیرہ چینل کی ایک تحقیقاتی فلم کے بعد فرانسیسی حکام نے قتل کے تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

یاسر عرفات کی موت سے متعلق الجزیرہ ٹی وی کی ایک دستاویزی فلم میں نیا دعویٰ سامنے آیا جس کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے سائنسدانوں نے بتایا کہ 2004 میں عرفات کی موت کے بعد ان کی زیرِاستعمال جو چیزیں ان کی بیوہ کے حوالے کی گئیں ان میں ایک خاص قسم کا تابکاری مادہ پلونیم 210 کے ذرات پائے گئے۔ ان کی مقدار معمول کی مقدار سے دس گنا زیادہ تھی۔

الجزیرہ کی اس فلم میں سوئٹزر لینڈ کے ادارے میں یاسر عرفات کی چیزوں کا تجزیہ کرنے والے ایک طبی ماہر نے کہا تھا کہ ’تابکاری مادے کے سب سے زیادہ ذرات ان کے زیرجامے اور روسی ٹوپی پر پائے گئے جسے پہن کر وہ پیرس گئے تھے یا جسے رملہ سے نکلتے وقت انہوں نے پہن رکھا تھا۔ ان کے ٹوتھ برش پر بھی تابکار مادے کے ذرات ملے ہیں‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔