مصر: انسانی حقوق کی تنظیموں کا مرسی کے خلاف احتجاج

آخری وقت اشاعت:  اتوار 25 نومبر 2012 ,‭ 08:17 GMT 13:17 PST
قاہرہ میں موجود مظاہرین

مصر میں صدر مرسی کی حکومت کے خلاف مہم کا آغاز ان کے ایک حکم نامے کے بعد شروع ہوا۔

مصر میں بیس سے زائد انسانی حقوق کی تنظیموں نے صدر محمد مرسی کے نام ایک کھلا خط لکھ کر کہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو وسیع اختیارات دینے والا اپنا فرمان واپس لیں۔

انسانی حقوق کی تقریبا بائیس تنظیموں نے محمد مرسی کے نام لکھے جانے والے ایک ’ کھلے خط‘ پر دستخط کیے ہیں اور کہا صدر مرسی نے اپنے آپ کو جو وسیع اختیارات دینے کا فیصلہ کیا ہے وہ ’مصر کی آزادی پر غیر معمولی حملہ ہے‘۔

وہیں حزب اختلاف کے رہنما محمد البرادعی نے کہا ہے کہ صدر مرسی کے ساتھ تب تک کوئی بات نہیں ہوسکتی ہے جب تک ان کا تازہ فیصلہ موثر ہے۔

وہیں مقامی میڈیا نے خبر دی ہے کہ اخوان المسلمین نے بھی پورے مصر میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

مصر کی خبر رساں ایجنسی مینا کے مطابق صدر مرسی کی جماعت فریڈیم اینڈ جسٹس پارٹی کی حمایت کرنے والی اسلام پسند جماعت نے اعلان کیا ہے کہ وہ عابدین سکوئر پر دس لاکھ لوگوں کا مارچ کرے گی۔

واضح رہے کہ منگل کے روز صدر مرسی کے اس اعلان کے بعد کہ اب کوئی بھی صدر کے بنائے ہوئے قوانین، کیے گئے فیصلوں اور جاری کیے گئے فرمان کو چیلنج نہیں کر سکے گا مصر میں عام عوام، عدلیہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے زبردست احتجاج جاری ہے۔

صدر مرسی کے فرمان کا مطلب ہے کہ صدارتی اقدامات عدالتی یا دیگر کسی بھی ادارے کی جانب سے نظرِ ثانی سے مبرا ہوں گے۔

محمد مرسی

صدر مرسی کا کہنا ہے کہ وہ مصر کو ’آزادی اور جمہوریت‘ کی راہ پر لے جا رہے ہیں

قاہرہ انسٹی ٹیوٹ فار ہیومن رائٹس کی ویب سائٹ پر وہ خط شائع کیا گیا ہے جو انسانی حقوق کی تنظیموں نے صدر کے نام لکھا ہے۔ اس میں لکھا گیا ہے ’صدر کا یہ حکم ملک کے قانون اور انصاف کوپامال کرتا ہے اور ایک مخصوص سیاسی گروپ کے مفاد کے تحفظ کے لیے صدارتی اختیارات کا غلط استمعال کرتا ہے‘۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سنیچر کو مصر میں ججوں نے صدر مرسی کی جانب سے اختیارت حاصل کرنے کے صدراتی حکم کو تنقید کا نشانے بناتے ہوئے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔

ججوں کی یونین نے صدر مرسی پر زور دیا کہ وہ اختیارات میں اضافے کے لیے جاری کیے جانے والے فرمان کو واپس لے لیں کیونکہ یہ عدلیہ کی آزادی پر غیر معمولی حملہ ہے۔

ہڑتال کے دوران عدالتیں اور استغاثہ کے وکلا احتجاجاً کام نہیں کریں گے۔

جس وقت ججوں کا اجلاس جاری تھا اس وقت باہر جمع مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

حزب اختلاف کے رہنما محمد البرادعی نے صدر مرسی کے جانب سے فرمان واپس نہ لینے تک پرامن احتجاج کی کال دی ہے۔

سنیچر کو ہی مصر کی اعلیٰ عدلیہ نے صدر مرسی کی جانب سے اختیارت حاصل کرنے کے صدراتی حکم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

صدراتی حکم نامے میں عدالت کو آئین ساز اسمبلی کو ختم کرنے کے اختیارات پر قدغن لگائی گئی ہے۔ یاد رہے کہ مصر کی آئین ساز اسمبلی ملک کے لیے نیا آئین بنا رہی ہے۔

محمد مرسی کا کہنا ہے کہ وہ مصر کو ’آزادی اور جمہوریت‘ کی راہ پر لے جارہے ہیں۔

ادھر مصر کی حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے صدر محمد مرسی کے اس حکم نامے کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

واضح رہے کہ آئندہ منگل کو تحریر سکوائر پر ایک بڑے احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔ سنیچر کی صبح سے ہی تحریر سکوائر پر احتجاجی مظاہرین جمع ہونے لگے ہیں۔

اس سے قبل جمعہ کو ہی صدر محمد مرسی نے قاہرہ میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے اپنے اس حکم نامے کا دفاع کیا تھا جس کے تحت ان کو وسیع اختیارات حاصل ہوئے ہیں۔

گزشتہ دو دنوں میں مصر میں سیاسی سطح پر ہونے والی اس پیش رفت پر امریکہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔