ہسپانیہ کے علیٰحدگی پسند

آخری وقت اشاعت:  اتوار 25 نومبر 2012 ,‭ 14:03 GMT 19:03 PST
کیٹلونیا

انتخابات میں کیٹلان نیشنلسٹ پارٹی کی جیت کے امکانات ہیں

سپین کے دو علاقوں میں علیٰحدگی پسند تحریکیں چلتی رہی ہیں۔ ان میں سے ایک کیٹلونیا میں اہم ریاستی انتخابات ہو رہے ہیں جس میں علیٰحدگی پسند جماعت کی کامیابی کے امکانات ہیں جو ملک سے آزادی کے مسئلے پر ریفرنڈم کروانا چاہتی ہے۔

انتخابی مہم کا اہم موضوع اس خطے کی سپین سے آزادی رہا۔ انتخابی جائزوں کے مطابق ان انتخابات میں کیٹلان نیشنلسٹ پارٹی کی جیت کے امکانات ہیں جو اس علاقے کی ہسپانیہ سے آزادی پر ریفرنڈم کروانا چاہتی ہے۔

کیٹلونیا کے صدر آرتر ماس کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ ان کی پارٹی علاقائی پارلیمان میں اکثریت حاصل کر لے گی۔

ان کی پارٹی کا کہنا ہے کہ سپین سے آزادی کے بعد کیٹلان ریاست یورپی یونین کے ایک بہتر رکن ثابت ہوگی اور ان کی انتخابی ریلیوں میں یورپی یونین کا پرچم نمایاں رکھا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک آزاد کیٹلان ریاست کو جلدی ہی ستائیس رکنی یورپی یونین کی رکنیت حاصل ہو جائے گی۔

بارسلونا میں بی بی سی کے نامہ نگار ٹام بوریج کا کہنا ہے کہ مسٹر ماس کو معلوم ہے کہ انہیں ایک آزاد ریاست کا اپنا خواب پورا کرنے کے لیے پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کرنی ہوگی۔

اور اگر ایسا نہیں ہوا تو انہیں آزادی کے حامی چھوٹے چھوٹے گروپوں کی حمایت پر انحصار کرنا پڑے گا اور اس کے بعد بھی آزادی حاصل کرنے کا راستہ اتنا ہموار نہیں ہوگا۔

سپین کے موجودہ آئین میں ریفرنڈم غیر قانونی ہے اور سپین کی حکومت اور حکمران جماعت آئین میں تبدیلی کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کی کوشش کرے گی۔

دیگر کچھ سیاسی جماعتیں بھی کیٹلونیا کی آزادی کے خلاف ہیں۔

باسک کے علیٰحدگی پسند

سپین کی ایک اور علیٰحدگی پسند تحریک ’ایٹا‘ نے کیٹلونیا کے انتخابات سے پہلے ہی اشارہ دیا تھا کہ وہ ہتھیار ڈال کر سپین اور فرانس کی حکومتوں کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

ایٹا نے 45 سال تک ملک کے علاقے باسک کی آزادی کے لیے جدو جہد کی ہے تاہم حالیہ برسوں میں اس کی حمایت میں کمی آئی ہے۔ گزشتہ سال ایٹا نے اپنی پُرتشدد مہم کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اب ایسا لگتا ہے کہ یہ تنظیم ایک قدم آگے جا کر پوری طرح ہتھیار ڈالنا چاہتی ہے تاہم اس کے لیے انہوں نے کچھ شرائط رکھی ہیں جن میں باسک کے قیدیوں کو ان کے گھروں کے نزدیک جیلوں میں منتقل کرنا شامل ہے اور یہ ان کا پرانا مطالبہ ہے۔

باسک کا علاقہ سپین اور فرانس کی سرحد پر واقع ہے۔

خیال ہے کہ ایٹا 800 سے زائد اموات کے لیے ذمے دار ہے اور امریکہ اور یورپی یونین اسے ایک دہشت گرد تنظیم مانتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔