صدر مرسی کی حمایت میں مجوزہ مظاہرہ منسوخ

آخری وقت اشاعت:  منگل 27 نومبر 2012 ,‭ 00:01 GMT 05:01 PST

مصر کے اہم اسلامی اتحاد اخوان المسلمون نے قاہرہ میں منگل کو مجوزہ مظاہرہ منسوخ کر دیا ہے جبکہ صدر مرسی نے ججوں سے ملاقات میں اپنے اختیارات میں اضافے کے حوالے سے ان کے خدشات دور کیے ہیں۔

منگل کو حزب مخالف صدر محمد مرسي کے اختیارات میں اضافے کے حکم کے خلاف مظاہرے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اخوانِ المسلمون نے صدر مرسی کی حمایت میں مظاہرہ کرنا تھا تاہم اس نے کہا ہے کہ وہ مظاہرہ نہیں کریں گے تاکہ تصادم سے بچا جا سکے۔

صدر مرسي نے اس بحران کو ختم کرنے کے لئے سینئر ججوں سے بھی ملاقات کی ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے ساتھ پانچ گھنٹے کی ملاقات کے بعد صدر مرسي کے ترجمان نے کہا ہے کہ صدر عدالتی اختیارات اور اس کی آزادی کا احترام کرتے ہیں۔

ترجمان یاسر علی نے کہا ہے کہ صدر اس حکم کو واپس نہیں لیں گے لیکن انہوں نے ججوں کو یقین دلایا ہے کہ یہ حکم عارضی ہے اور اس کا دائرہ اختیار خود مختاری کے معاملات تک محدود ہے جو کئی اداروں کی حفاظت کے لئے ہے۔

ابھی تک ججوں کی طرف سے کوئی بیان نہیں آیا ہے. قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جان لین کا کہنا ہے کہ یہ ایک فارمولا ہے جس پر شاید جج راضی ہو سکتے ہیں۔

اخوان المسلمون نے قاہرہ یونیورسٹی کے باہر دس لاکھ لوگوں کے مارچ کا اعلان کیا تھا۔ نوبل امن انعام یافتہ محمد البرادی سمیت حزب اختلاف کے کئی رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ صدر کے ساتھ اس وقت تک بات چیت نہیں کریں گے جب تک وہ آئینی اعلان کے نام سے جانے جانے والے اپنے متنازعہ فیصلے کو واپس نہیں لے لیتے۔

یہ فیصلہ گزشتہ ہفتے کیا گیا تھا جس کے بعد سے ہی اس کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اس فیصلے کے تحت کوئی بھی قانون صدر کے فیصلوں کو پلٹ نہیں سکتا ہے۔

اس فیصلے کے تحت جج بھی نیا آئین بنانے کے لیے بنی آئین ساز اسمبلی کے ارکان کو معطل نہیں کر سکیں گے۔ اس کے تحت صدر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ انقلاب کو بچانے کے لئے اور ملک کی حفاظت کے لئے کوئی بھی فیصلہ کر سکتے ہیں۔

دریں اثناء قاہرہ کی عدالت کا کہنا ہے کہ فرمان کے خلاف وکلاء اور حزب اختلاف کے کیسز کی پہلی سماعت آئندہ ماہ چار دسمبر کو ہو گی۔

واضح رہے کہ منگل کو صدر مرسی کے اس اعلان کے بعد کہ اب کوئی بھی صدر کے بنائے ہوئے قوانین، کیے گئے فیصلوں اور جاری کیے گئے فرمان کو چیلنج نہیں کر سکے گا مصر میں عام عوام، عدلیہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے زبردست احتجاج جاری ہے۔

مصر کے وزیر انصاف احمد مکی نے صدر مرسی اور ججوں کے درمیان ثالثی کی کوششیں شروع کی دی ہیں۔ وزیر انصاف کے بقول انہیں خود فرمان پر چند تحفظات ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صحافیوں نے جب سوال کیا کہ کونسل کا اصرار ہے کہ فرمان صرف مطلق العنان فرماں روا کے معاملات تک محدود ہونا چاہیے؟ تو اس پر وزیر انصاف نے کہا کہ’ان کے خیال میں صدر یہ چاہتے ہیں۔‘

ملک میں ججوں کی نمائندگی کرنے والے ججز کلب نے صدارتی فرمان کے خلاف ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا تھا جب کہ ملک کی سپریم جوڈیشل کونسل نے صدارتی فرمان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا اور کہا ہے کہ اس کا اطلاق صرف مطلق العنان فرماں روا کے معاملات پر ہونا چاہیے اور ججوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے کام پر واپس آ جائیں۔

دریں اثنا مصر میں صدارتی فرمان پر صدر مرسی کے خلاف جاری احتجاج میں اتوار کو پہلی ہلاکت ہوئی ہے۔

منگل کو تحریر سکوائر پر ایک بڑے احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔