قاہرہ: صدر مرسی کے خلاف مظاہرہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 28 نومبر 2012 ,‭ 23:54 GMT 04:54 PST

مصر میں مظاہرین نے صدر محمد مرسی کے اس فیصلے کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا تہیہ کیا ہے جس کے تحت انھوں نے بہت سے حقوق حاصل کر لیے تھے۔

منگل کے روز دسیوں ہزار افراد نے ملک بھر میں مظاہرے کیے۔ یہ سابق صدر حسنی مبارک کی معزولی کے بعد ہونے والے سب سے بڑے مظاہرے ہیں۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں پرچم اٹھا رکھے تھے اور وہ صدر مرسی اور اخوان المسلمون پر گذشتہ سال کے انقلاب کے ساتھ دھوکا دہی کا الزام لگا رہے تھے۔

اخوانِ المسلمون نے صدر مرسی کی حمایت میں مظاہرہ کرنا تھا تاہم اس نے کہا ہے کہ وہ مظاہرہ نہیں کریں گے تاکہ تصادم سے بچا جا سکے۔ البتہ اس نے کہا ہے کہ وہ صدر کی حمایت میں ’دسیوں لاکھ‘ افراد کو جمع کر سکتی ہے۔

پیر کو صدر مرسی نے متنازع حکم سے پیدا ہوئے بحران کے حل کے لیے اقدامات کیے تھے اور کہا تھا کہ ان کے اختیارات بہت محدود نوعیت کے ہیں۔ لیکن ان کے مخالف اس بات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اس حکم کو مکمل طور پر واپس لیا جائے۔

منگل کو نکالے جانے والے جلوس سے پہلے بڑی تعداد میں حزب اختلاف کے کارکنوں کی امریکی سفارت خانے کی حفاظت میں تعینات پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔

پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس پھینکی جس کی وجہ سے ایک ادھیڑ عمر شخص کو دل کا دورہ پڑا اور وہ ہلاک ہو گیا۔

بعد میں مظاہرین تحریر سکوائر پر جمع ہوئے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں سابق صدر حسني مبارک کے خلاف لوگوں نے انقلاب کا آغاز کیا تھا۔ منگل کو ہونے والا یہ مظاہرہ صدر مرسی کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔

تحریر سکوائر پر مظاہرین حکومت کے خاتمے کے لیے نعرے لگا رہے تھے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے مظاہرے میں شامل ایک شخص احمد حسینی کے حوالے سے کہا ہے،’ ہمیں ایک اور آمر نہیں چاہیے۔ حسنی مبارک کی انتظامیہ آمر تھی جس کے خلاف ہم انقلاب لائے تاکہ ہمیں آزادی اور انصاف ملے۔‘

اس جلوس میں صحافیوں، وکلا اور حزب اختلاف کے رہنماؤں نے شرکت کی جس میں نوبیل انعام یافتہ محمد البرادعی بھی شامل تھے۔

عرب لیگ کے سابق سربراہ بھی اپوزیشن میں شامل ہو گئے ہیں اور ان کا کہنا تھا، ’اہم مطالبہ یہ ہے کہ اس آئینی اعلان کو واپس لیا جائے‘۔

قاہرہ کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ صدر کے حکم کو آئینی اعلان کے طور پر جانا جاتا ہے جس کے تحت صدر کے حکم کو کوئی پلٹ نہیں سکتا ہے۔

اس کی مخالفت سب سے پہلے ججوں نے کی تھی کیونکہ اس حکم کے تحت جج بھی صدر کے فیصلوں کو پلٹ نہیں سکتے تھے۔

مرسی نے ججوں سے ملاقات کر کے یقین دلایا تھا کہ اس حکم کا دائرۂ کار بہت محدود ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔