سٹیل تاجر متل کی فرانس کے صدر سے ملاقات

آخری وقت اشاعت:  بدھ 28 نومبر 2012 ,‭ 10:35 GMT 15:35 PST
لکشمی متّل

لکشمی متل دنیا کے سب سے بڑے سٹیل کے تاجر ہیں

بھارتی نزاد سٹیل کے دنیا کے سب سے بڑے تاجر لکشمی متل نے فرانس میں اپنی دو فیکٹریوں کو بند کرنے کے سلسلے میں فرانس کے صدر سے ملاقات کی ہے۔

ملاقات کے بعد کوئی بیان تو جاری نہیں کیا گيا ہے لیکن اطلاعات کے مطابق شاید کچھ حد تک اختلافات میں کمی آئی ہے۔

ملاقات سے قبل فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے کہا تھا کہ وہ ایک ری ایکٹر کو قومی ملکیت میں لینے پر غور کر رہے ہیں اور اس موضوع پر بھی بات چيت ہوگی۔

ایرسلر متل کمپنی کی فرانس میں دو فیکٹریاں ہیں۔ اس کمپنی کے مالک لکشمی متل ہیں جن کا کہنا ہے کہ یوروپ میں اقتصادی مندی کے سبب ان کے لیے فرانس کی ان دو کمپنیوں کو چلانا بہت مشکل ہے۔

انہوں نے ان کمپنیوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس سے اس میں کام کرنے والے کئی سو ملازموں کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے۔

فرانس کے صدر اسی مسئلے کے حل کی تلاش میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو کچھ مدت کے لیے کمپنی کو قومی ملکیت میں لیے جانے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔

ملاقات سے پہلے صدر اولاند نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا ''فلوریج کے حالات سے ہم لوگ فکر مند ہے کیونکہ اس بات کا خطرہ ہے کہ یہ فرنیس (بھٹیاں) بند ہو جائیں گی۔ لکشمی متل کی تو یہی منشا ہے اور ہم لوگوں کا کہنا ہے کہ کچھ دوسری تجاویز بھی ہیں۔''

"فلوریج کے حالات سے ہم لوگ فکر مند ہے کیونکہ اس بات کا خطرہ ہے کہ یہ فرنیس (بھٹیاں) بند ہو جائیں گی۔ لکشمی متل کی تو یہی منشا ہے اور ہم لوگوں کا کہنا ہے کہ کچھ دوسری تجاویز بھی ہیں۔"

اطلاعات کے مطابق صدر سے ملاقات کرنے کے لیے لکشمی متل صدراتی محل کے پچھلے دروازے سے داخل ہوئے اور اسی سے باہر نکل گئے۔

پیرس میں بی بی سی کے نامہ نگار كرشچين فریزر کے مطابق دونوں کی ملاقات میں کیا ہوا اس کی کوئی تفصیل ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔

دراصل اس پورے تنازعے کا آغاز اس وقت ہوا جب لکشمی متل کی کمپنی ارسیلر متل نے اکتوبر میں اعلان کیا کہ وہ ملک کے شمال مشرقی شہر فلورنس میں واقع کمپنی کے سٹیل پلانٹ کے دو فرنیس (بھٹیاں) کو بند کرنا چاہتے ہیں۔

کمپنی کے مطابق دونوں بھٹّياں پہلے سے ہی غیر فعال ہیں اور معاشی تنگی کے سبب اب انہیں چلانا مشکل ہے۔

کمپنی نے حکومت کو 60 دن کے اندر اندر کوئی خریدار تلاش کرنے کو کہا تھا جس معياد ہفتہ کو ختم ہو رہی ہے۔ متل کے اس فیصلے پر فرانس کی حکومت نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس سے 629 مزدوروں کے بیکار ہو جانے کا خطرہ ہے۔

فرانس کی حکومت کا کہنا ہے کہ فرنس کو فروخت کرنے کا فیصلہ 2006 میں کیےگئے وعدے کی خلاف ورزی ہے۔ حکومت کے مطابق 2006 میں ارسیلر متل کمپنی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ فرنس کو چلاتی رہے گي۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔